اونٹ کے خون سے کورونا ویکسین تیار۔۔۔ سائنسدانوں نے بڑا دعویٰ کر دیا

برسلز (ویب ڈیسک) بیلجیم کے سائنس دانوں نے کورونا وائرس کی ویکسین کی تیاری سے متعلق بڑْا دعوی کر دیا۔ برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بیلجیم کے سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اونٹ کے خون میں کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے کے لئے اینٹی باڈیز موجود ہیں ۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کو بے اثر کرنے کے لیے اونٹ کے خون سے ویکسین تیار کی جاسکتی ہے ۔یہ اینٹی باڈیز پہلے ایچ آئی وی تحقیق میں استعمال ہوتی تھیں ۔ سائنس دانوں کا مزید کہنا ہے کہ اینٹی باڈیز سارس جیسے وائرس کے خلاف بھی موثر ثابت ہوئی تھیں ۔ واضح رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 24 لاکھ 14 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ ایک لاکھ 65 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب امریکا کی ایک ہیلتھ ویب سائٹ کی ایک رپورٹ کےذریعے معلوم ہوا ہے کہ ریمیڈیسیور نامی تجرباتی ویکسین کے استعمال کرنے والے مریض توقعات سے زیادہ جلدی صحتیاب ہوئے ہیں اور چند دنوں میں گھر بھی واپس چلے جائیں گئے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بیرون ممالک میں مختلف تحقیقی رپورٹس میں کورونا وائرس سے کے شکار افراد کے لیے ریمیڈیسیور نامی تجرباتی ویکسین کے استعمال کو بہتر قرار دیا گیا تھا۔ حاصل کردہ نتائج سے معلوم ہوا کہ ہے اس دوا کے استعمال سے مریضوں کے بخار اور نظام تنفس کی علامات بہت جلد ختم ہوگئیں اور ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں تمام مریضوں کو صحتیاب قرار دے کر ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔ یونیورسٹی آف شکاگو میڈیسین میں کووڈ 19 کے 125 مریضوں کو دوا ساز کمپنی کی کلینیکل ٹرائلز کے تیسرے مرحلے میں شامل کیا گیا تھا۔ 125 میں سے 113 افراد میں بیماری کی شدت زیادہ تھی اور ان سب مریضوں کے علاج کے لیے ریمیڈیسیور سیال کو انجیکشن کے ذریعے روزانہ جسم میں انجیکٹ کیا گیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.