مرحوم طارق عزیز نے انتقال سے قبل کیا پیغام جاری کیا تھا؟ مقامی کا اخبار کا تہلکہ خیز انکشاف،مداح ایک بار پھر افسردہ

لاہور (ویب ڈیسک) کل پورا پاکستان اس وقت سوگ میں ڈوب گیا تھا جب پاکستان کی ہیرو طارق عزیز کے چانک انتقال کی خبر آئی تھی۔ طارق عزیز کی وفات کے بعد پاکستانی ان کے ساتھ جڑی پرانے وقتوں کی یادوں کو شیئر کرتے ہوئے ان کو خراجِ تحسین پیش کرتے رہے۔ اب مقامی اخبار نے

دعویٰ کیا ہے کہ دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو گزشتہ روز آخری سلام کہنے والے پاکستانی ٹی وی اور ریڈیو کے معروف کمپیئر طارق عزیز نے اپنے آخری ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ’یوں لگتا ہے وقت تھم گیا ہے رواں دواں زندگی رک گئی ہے۔روزنامہ جنگ کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وفات سے ایک روز قبل جاری طارق عزیز کے پیغام سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بیماری کے باعث بستر پر لیٹے رہنے سے انہیں کوفت ہوگئی تھی، انہوں نے لکھا کہ ’کئی دنوں سے بستر پر لیٹے لیٹے سوچ رہا ہوں کہ آزادانہ نقل و حرکت بھی مالک کی کتنی بڑی نعمت تھی۔‘انہوں نے اپنے پیغام میں یہ بھی لکھا کہ نہ جانے پرانا وقت کب لوٹ کے آتا ہے، ابھی تو کوئی امید نظر نہیں آرہی۔ٹوئٹر پر وفات سے دو روز قبل انہوں نے کلمہ شہادت بھی ٹوئٹ کیا تھا۔ واضح رہے کہ ریڈیو پاکستان، ٹیلی ویڑن، فلم، صحافت، ادب اور سیاست کاایک نمایاں نام طارق عزیز گزشتہ روز 84 سال کی عمر میں دارِ فانی سے کوچ کرگیا۔طارق عزیز کو اصل شہرت پاکستان ٹیلی ویژن پر 1975 میں شروع ہونے والے پروگرام ’نیلام گھر‘ سے ملی۔ ان کا یہ پروگرام شروع کرنے کا انداز ’دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام‘ بہت مشہور ہوا تھا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.