بیگو پر پاکستان میں نوجوان لڑکیوں کے ساتھ کیا کچھ ہو رہا ہے ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) گھر بیٹھے ماہانہ کم سے کم بیس ہزار روپے کمانا کسے برا نہیں لگتا ہے؟ میری دوست نے مجھے بتایا کہ بس ہر روز تین سے چار گھنٹے آن لائن آ کر لوگوں سے باتیں کرنی ہے اور ان کو انٹرٹین کرنا اور آپ کم سے کم بیس ہزرا روپے مہینہ کما سکتے ہیں۔’

نامور خاتون صحافی سارہ عتیق بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔صنم (فرضی نام) کراچی کے ایک نجی سکول میں معمولی تنخواہ پر بطور استاد کام کرتی تھیں اور ٹیکنالوجی سے زیادہ واقف نہیں تھیں البتہ سوشل میڈیا کی بہت شوقین تھیں۔ان کی دوست نے انھیں لائیو سٹریمنگ ایپ ‘بیگو لائیو’ سے متعارف کروایا۔ لیکن صنم یہ نہیں جانتی تھی کہ انٹرٹینمنٹ کے لیے استعمال ہونے والی یہ ایپ ان کے استحصال کا باعث بن جائے گی۔’میں نے بیگو لائیو 2018 میں استعمال کرنا شروع کی اور اس پر آنے کے مقصد بس اچھا وقت گزارنا تھا۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد میں بیگو لائیو کی ہوسٹ یعنی میزبان بن گئی اور اپنی براڈکاسٹ کرنا شروع کر دی۔ بیگو پر آپ لائیو آکر لوگوں کو محظوظ کرتے ہیں ان سے باتیں کرتے اور وہ آپ کو ورچوئل ڈایمنڈز کی شکل میں گفٹ بھیجتے ہیں جنہیں وہ اصل رقم ادا کر کے خریدتے ہیں۔’صنم کا تعلق ایک متوسط اور قدامت پسند گھرانے سے تھا اس لیے وہ اپنے آن لائن سیشن کے دوران اپنا مکمل چہرہ نہیں دکھاتی تھیں۔’مجھے بیگو کی سب سے اچھی بات ہی یہی لگتی تھیں کہ اس پر کیمرے کے سامنے آکر بات کرنے کی شرط نہیں تھی۔ اور آپ اپنی اصلی شناخت ظاہر کیے بغیر بھی اس پر ہوسٹ بن سکتے تھے۔’بیگو پر ہر کوئی اپنا لائیو سیشن کر سکتا ہے لیکن آپ اس سے صرف اسی صورت پیسے کما سکتے ہیں جب آپ بیگو کے نامزد نمائندوں جنہیں ‘ریکروٹر’ کہا جاتا ہے کے ساتھ اپنے آپ کو رجسٹر کروائیں

شروع شروع میں تو سب اچھا تھا۔ میں اس کے ذریعے لوگوں سے باتیں کرتی تھی پھر ایک مرتبہ میرے براڈکاسٹ پر ایک شخص آیا جس نے ایک بڑی رقم میرے براڈ کاسٹ پر خرچ کی اور بعد میں ان باکس میں میسج کیا اور مجھ سے کہا کہ میں نے آپ پر اتنی بڑی رقم خرچ کی ہے اب آپ مجھ سے دوستی کریں اور مجھے اپنی تصاویر بھیجیں۔ میں نے اس سے کہا کہ میں نے تو تمہیں اتنے پیسے خرچ کرنے کو نہیں کہا تھا۔ تم نے جو کیا اپنی مرضی سے کیا۔ اس کے جواب میں اس نے مجھ کہا کہ تم بچی نہیں ہو تمہیں نہیں پتہ کہ کوئی فضول میں کسی پر اتنا خرچہ نہیں کرتا اب یا تو تم میری بات مانو ورنہ جو پیسے میں نے تمہاری براڈکاسٹ پر خرچ کیے ہیں مجھے وہ واپس کرو۔’بیگو صارف جو رقم روچوئل ڈائمنڈز کی شکل میں خرچ کرتے ہیں وہ میزبان کی اکاونٹ میں ‘بینز’ کی شکل میں ڈال دی جاتی ہے اور ان بینز کی تعداد کے حساب سے بیگو کمپنی کی جانب سے ان کو مہینے کے آخر میں رقم ادا کر دی جاتی ہے۔صنم بتاتی ہیں کہ اب بیگو کا ماڈل ایسا ہے کہ سینڈر (رقم خرچ کرنے والا صارف) جو ایک برڈکاسٹ پر پیسے خرچ کرتے ہیں اس میں سے کچھ بیگو کپمنی رکھتی ہے ایک حصہ آپ کا ریکروٹر رکھتا ہے اور ایک حصے آپ کو ملتا ہے۔’اب فرض کریں اگر کسی نے میری براڈکاسٹ پر پانچ لاکھ روپے خرچ کیے ہیں اور اس میں سے میرے حصے میں ڈیڑھ لاکھ ملا ہے تو میں اس کو کیسے پانچ لاکھ واپس کر سکتی ہوں؟

جب میں نے اس کی مطالبات ماننے سے انکار کر دیا تو اس نے مجھے دھمکانا شروع کر دیا۔ اس نے کہا کہ یا تو میں اس کے پیسے واپس کروں ورنہ وہ میرے گھر آجائے گا اور وہ میری جعلی تصاویر بنا کر لیک کر دے گا اور مجھے بد نام کرے گا۔ اس نے میرے براڈکاسٹ پر موجود دوسرے صارفین سے بھی جھگڑنا شروع کر دیا کہ وہ میرے براڈکاسٹ پر کوئی رقم خرچ نہ کریں۔ سب سے بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ اس سب میں کوئی آپ کی مدد نہیں کرتا۔ آپ کا ریکروٹر بھی نہیں۔‘انھوں نے مزید بتایا کہ ان واقعات کے بعد وہ بہت ڈر گئیں کیونکہ ’مجھے پتا تھا ہمارے معاشرے میں قصور وار ہمیشہ لڑکی ہی ہوتی ہے۔ اس لیے میں نے بیگو پر ہوسٹنگ ہی چھوڑ دی۔‘کشف (فرضی نام) 2017 پنجاب یونیورسٹی کی طالب علم تھی جب اور اپنے تعلیمی خرچے پورے کرنے کے لیے کسی پارٹ ٹائم جاب کی تلاش میں تھیں جب انھیں بیگو لائیو کے بارے میں معلوم ہوا۔میں نے جب بیگو استعمال کرنا شروع کیا تو پاکستان میں زیادہ لوگ اس سے واقف نہیں تھے۔ اس لیے اس وقت بیگو پر موجود مواد بھی کافی اچھا اور انٹرٹیننگ ہوتا تھا۔ پھر کچھ عرصے بعد ’پنشمنٹ پی کے‘ کا سلسلہ شروع ہوا جہاں دو بیگو میزبان ایک ساتھ آن لائن آتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں کہ کس پر زیادہ پیسے خرچ کیے جائیں گے۔ پھر جیتے والا ہارنے والے کو ایک سزا دیتا ہے جو اسے پوری کرنا ہوتی ہے۔‘

اکثر یہ مقابلے آپ کا ریکروٹر ہی رکھواتے ہیں۔ اور میرے بھی ریکروٹر نے میرا ایسا ہی ایک مقابلہ ایک اور میزبان کے ساتھ رکھوایا جو آج کل بیگو پر کافی مشہور ہے۔ میں یہ مقابلہ ہارگئی جس کے بعد جیتنے والے لڑکے نے کہا کہ میں بطور سزا کیمرے کی طرف اپنی پیٹھ کر کے اٹھک بیٹھک کروں۔ مجھے یہ سزا نہایت غیر مہذب لگی اس لیے میں نے اسے کرنے سے انکار کر دیا۔ اس لڑکے نے لائیو کوریج کے دوران ہی مجھ سے بدتمیزی کرنا شروع کردی جس کے بعد میں نے سیشن ختم کر دیا۔‘کشف کے مطابق بیگو صارفین ایک عام سیشن کی بہ نسبت پی کے پنیشمنٹ پر زیادہ گفٹ بھیجتے ہیں تاکہ اپنے پسندیدہ میزبان کو جتوا سکیں۔’ اس سیشن کے بعد مجھے میرے ریکروٹر کا فون آیا اور میں اس کی بات سن کر حیران رہ گئی۔ اس نے مجھ سے کہا کہ میرا کام لوگوں کو انٹرٹین کرنا ہے اور اس کے لیے مجھے وہ سزا کر لینا چاہیے تھی۔ اس نے مجھے کہا کہ اگر میں اسی طرح کرتی رہی تو مجھے پی کے پینشمنٹ کے مقابلے نہیں دیے جائیں گے۔‘کشف نے کہا کہ وہ یہ سمجھ گئیں تھی کہ وہ اس براڈکاسٹ سے حاصل ہونے والے منافع میں شراکت دار ہے اس لیے اسے فرق نہیں پڑتا کہ میں منافع کیسے بھی کماؤں۔’اس کے کچھ عرصے بعد مجھے پی کے مقابلے ملنا بند ہوگئے اور میں اپنے ماہانہ ٹارگٹ پورے کرنے میں ناکام رہی جس کے بعد مجھے بیگو کو خیر باد کہنا پڑا۔‘تاہم بیگو لائیو میں بطور ریکروٹر کی ذمہ داریاں ادا کرنے والے وقاص عرف جٹ جانی نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی شخص یا ریکروٹر کسی کو اس کی مرضی کے خلاف کوئی سزا یا نازیبا حرکت کرنے کو کہے۔وقاص کا کہنا تھا ان کے پاس اس وقت بائیس لڑکیوں کی ٹیم ہے اور میں نے آج تک کسی کو کیمرے پر اپنی پوری شکل دکھانے تک کے لیے مجبور نہیں کیا۔البتہ جٹ جانی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ صارفین کی جانب میزبان سے ناجائز تعلقات قائم کرنے کے مطالبات کیے جاتے ہیں۔’لیکن یہ سب کچھ تب ہوتا ہے جب میزبان اپنے ذاتی معلومات جیسا کہ فون نمبر وغیرہ صارف کے ساتھ شئیر کرتیں ہیں۔ اگر ایسا بیگو پر ہو تو ہم اس صارف کا اکاؤنٹ پر پابندی عائد کروا دیتے ہیں۔‘سٹار گیلیکسی کے نام سے مشہور ریکروٹر کاشف کا کہنا ہے کہ بیگو پر ہر شخص بالغ ہے اور جو کرتا ہے اپنی مرضی سے کرتا ہے۔(بشکریہ : بی بی سی )

Sharing is caring!

Comments are closed.