سکولز کے بارے میں حکومت کا بہت بڑا بیان سامنے آگیا

کراچی (ویب ڈیسک)حکومت نے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کا عندیہ دے دیا مگر کب سے ؟ ۔۔۔وزیرتعلیم سندھ سعید غنی کا کہناہے، سندھ بھرمیں 50 فیصد اسکولز میں 100 فیصد ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے، 14 ہزار اساتذہ کے کروناٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں 2.4 فیصد مثبت آئے ہیں جس کی بنیادی وجہ کہ کرونا کے

ایس او پیزپر کوئی عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی کےپروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کرونا وائرس کیسز میں اضافے کی وجہ سے تعلیمی ادارے دوبارہبند کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرونا ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والے 8 اسکولوں کو شوکاز بھی جاری کیے گئے ہیں ،آئندہ ہفتے اسکولز کی صورت حال کو دیکھا جائے گا، جس کے بعد اسکولز کھولنے کے بارے میں بتایا جائے گا، مزید براں انکا کہنا تھا کہ اب مڈل کلاسز 21 ستمبر سے شروع نہیں ہوں گی۔ یہ مرحلہ 28 ستمبر تک موخرکیا جارہا ہے۔ ہم صورتحال کا جائزہ لیں گےاور پھر فیصلہ کریں گے۔ وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا کہ سندھ میں 21 ستمبر سے چھٹی تا آٹھویں کلاسز شروع کی جانا تھیں تاہم اب اس عمل کو موخر کردیا ہے۔ تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور عملے کے 14 ہزار سے زائد ٹیسٹ کرائے ہیں۔ کورونا ٹیسٹ کے 89 نتائج مثبت آئے ہیں، جس کی وجہ سے 21 ستمبر سے شروع کی جانے والی کلاسز موخر کررہے ہیں۔ دوسری جانب ترجمان محکمہ تعلیم سندھ نے بتایا ہے کہ کراچی کے 88 اساتذہ سمیت نان ٹیچنگ اسٹاف میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ ادارے کھلنے سے پہلے13 ہزار پانچ سو اسٹاف ممبرز کے ٹیسٹ کیے گئے ،مزید گیارہ ہزار اسٹاف ممبرز کے ٹیسٹوں کے نتائج آنا باقی ہیں۔ترجمان محکمہ تعلیم سندھ کا بھی کہنا ہے کہ 2.4 فیصد افراد میں کورونا کی تصدیق تشویش ناک ہے۔ مزید ٹیسٹ نتائج سامنے آنے پر اسکولوں کے معاملے پرغور کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ وزیر تعلیم سندھ نے صوبے بھر میں کرونا وائرس کے پیش نظر تمام اسکولز کو بند کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.