یوکرائنی طیارے کو نشانہ بنانا ایران کو مہنگا پڑگیا ، پوری دنیا میں مظاہرے شروع، کونسا مطالبہ سامنے رکھ دیا گیا؟

تہران (ویب ڈیسک) یوکرینی طیارہ تباہی ، ایران سمیت کینیڈا ، امریکہ اور جرمنی بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے، تہران میں برطانقی سفیر کی گرفتاری کے بعد رہائی کردی گئی۔ ہفتے اور اتوار کی سب تہران میں طلبا کا احتجاج، برطانوی سفیر بھی شریک ہوئے، مظاہرین کو اکسانے کا الزام، امریکی صدر ٹرمپ اور وزیر خارجہ

مائیک پومپیو کا کہنا تھا ایرانی عوام کیساتھ ہیں۔ روحانی کا یوکرینی صدر اور کینیڈین وزیراعثم سے رابطہ ہوا، ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی یقین دہانی کرئی، زیسلینسکی کا کہنا تھا ایرانی رویہ قابل قدر ہے۔ ایران میں یوکرین کے مسافر طیارے کی سپاہِ پاسداران انقلاب کےمیزائل حملے میں تباہی کے خلاف نظام مخالف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ایران انٹرنیشنل عربی نے اتوار کو دوسرے روز بھی ملک کے مختلف شہروں میں اس واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی اطلاع دی ہے۔ ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کی فضائیہ نے ہفتے کتے روز یوکرین کے مسافر طیارے کو مارگرانے کا اعتراف کیا ہے اور کہا کہ اس کے ایک آپریٹر نے غلطی سے اس طیارے کو کروز میزائل سمجھ لیا تھا اور پھر اس پرمیزائل داغ دیا تھا۔ ایلیٹ پاسداران انقلاب کی فضائی فورس کے سینیر کمانڈر امیر علی حاجی زادہ نے ہفتے کے روز ایک پریس بریفنگ میں واقعے کی مکمل وضاحت کرتے ہوئے انسانی غلطی پر معذرت کی تھی۔ انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ انھوں نے تو ایرانی حکام کو گذشتہ بدھ ہی کو بتا دیا تھا کہ ایک شہری طیارے کو حادثاتی طور پر مارگرایا گیا ہے مگر انھوں نے امریکا کو بھی جزوی طور پر اس طیارے کی تباہی کا ذمے دار قرار دیا تھا جس نے ان کے بہ قول ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کردیا تھا۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے ہفتے کی رات بھی پاسداران انقلاب کی اس سنگین غلطی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور اس سنگین غلطی کو چار روز تک چھپانے کی کوشش ایرانی فوج کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ تہران میں ایک جامعہ کے باہر شاہراہ پر مظاہرین نے ایرانی نظام کے خلاف سخت نعرے بازی کی ہے۔وہ کہہ رہے تھے:’’ ایرانی حکام جھوٹ بول رہے ہیں کہ ہمارا دشمن امریکا ہے،ہمارا دشمن تو یہاں موجود ہے۔‘‘انھوں نے دوسرے شہروں میں بھی مظاہرے کیے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.