سب سے بڑا فیصلہ ہوگیا، بچ کر نکلنا مشکل

لاہور (نیوز ڈیسک ) سانحہ رنگ روڈ، کیس کے مرکزی ملزم عابد علی کا نام ایف آئی اے کی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پنجاب پولیس کی جانب سے سانحہ رنگ روڈ کیس کے مرکزی ملزم کو ملک چھوڑنے سے روکنے کے لیے کی جانے والی درخواست کے بعد ایف آئی اے نے اس کا نام بلیک

لسٹ میں ڈال دیا ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملک بھر کی تمام چیک پوائنٹس پر اس سے آگاہ کر دیا ہے۔پولیس نے ایف آئی سے اس حوالے سے درخواست کی تھی، ملزم کی تفصیلات مختلف ٹیموں کو بھیج دی تھیں جو اس کا پتہ لگانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔سی سی پی او عمر شیخ کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کو عابد علی کو ملک سے باہر جانے سے روکنے کا کہا گیا تھا کہ اس کا نام واچ لسٹ میں ڈال دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ای سی ایل میں نام شامل کرنا ایک طویل عمل ہے لہذا پولیس نے فوری طور پر تمام ہوائی اڈوں، زمینی اور سمندری چیک پوسٹوں پر ایف آئی اے کو آگاہ کیا کہ انتہائی مطلوب ملزم کو ملک چھوڑنے سے روکے۔سی سی پی او نے مزید کہا کہ عابد علی کو گرفتار کرنے کے لیے مختلف شہروں کے مختلف مقامات پر چھاپے مارے لیکن اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ لاہور سیالکوٹ موٹر وے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابدعلی کی گرفتاری پولیس کے چیلنج بن گئی ،مقدمے میں ٹیرراِزم کی دفعات شامل ہونے کے باعث کیس کی تفتیش تبدیل کر کے انچارج انویسٹی گیشن پرانی انار کلی کو بھجوا دی گئی، پولیس نے بیرون ملک فرار ہونے سے روکنے کے لئے عابد علی کا شناختی کارڈ بلاک کروادیا۔دوسری جانب پولیس نے ملزم عاـبد ملہی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا ابتدائی بیان ریکارڈ کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز سانحہ رنگ روڈ کی تفتیش کے دوران بڑی پیش رفت ہوئی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے مرکزی ملزم عابد ملہی کی اہلیہ کو گرفتار

کر لیا ۔ پولیس کے مطابق ملزم عابد علی کی اہلیہ بشریٰ کو مانگا منڈی کے علاقے سے گرفتار کیا گیا ۔اس سے قبل پولیس نے جب قلعہ ستار شاہ میں عابد علی کی گرفتاری کیلئے چھاپہ مارا تھا، تو بشریٰ اپنے شوہر کیساتھ فرار ہوگئی تھی۔ عابد علی اور اس کی بیوی اپنی بیٹی کو اکیلے چھوڑ کر فرار ہوئے تھے، جس کے بعد پولیس نے ملزم کی بیٹی کو تحویل میں لے لیا تھا۔ سانحہ موٹروے کے مرکزی ملزم کی اہلیہ کو گرفتار کرنے کے بعد تفتیش کی جا رہی ہے۔خاتون نے پولیس کو اپنا ابتدائی بیان بھی ریکارڈ کروا دیا ہے۔خاتون کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد عابد گھر آیا تھا کافی پریشان دکھائی دے رہا تھا۔واقعے کے بارے میں عابد نے مجھے نہیں بتایا۔واقعے کے بعد عابد کی شناخت ہوئی تو وہ فرار ہو گیا۔میں بھی بچی کو چھوڑ کر والدین کے گھر آ گئی۔میری عابد کے ساتھ دوسری شادی ہے۔عابد کئی روز تک گھر نہیں آتا تھا،پوچھتی تھی تو تشدد کرتا تھا۔دوسری جانب گزشتہ رات پولیس کو مرکزی ملزم عابد علی کی قصور روڈ راؤ خان والا کے علاقے میں موجودگی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس کے بعد سکیورٹی اداروں کی جانب سے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا، اس سے پہلے مفرور ملزم عابد علی کی اہلیہ کو پولیس نے حراست میں لیا تھا جس کے بعد ملزم کی بیوی کی نشاندہی پر مختلف جگہوں پر چھاپے مارنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ملزم عابد علی کی زیر حراست اہلیہ کی نشاندہی پر پولیس نے قصور روڈ راؤ خان کے علاقے میں سرچ آپریشن جاری کیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.