بڑا بریک تھرو۔۔۔۔ کورونا وائرس کا پتا لگانے والی ووہان کی ڈاکٹر نے کورونا کے پہلے مریض کا بھی پتا لگالیا،اب وہ کس حال میں ہے؟

ووہان (ویب ڈیسک) چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والا کورونا وائرس اب تک ساری دنیا میں پھیل چکا ہے، دسمبر کے مہینے میں شروع ہونے والی اس وبا کا پتا لگانے والی ووہان کی ڈاکٹر نے اب اس کے سب سے پہلے مریض کا بھی پتا چلالیا ہے۔ووہان سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر زینگ ژی جیان وہ پہلی ڈاکٹر تھیں جنہوں نے دسمبر 2019 میں حکام کو کورونا وائرس کی رپورٹ کی تھی ۔ انہوں نے

چین کی سرکاری خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کورونا وائرس کا سب سے پہلا کیس ایک معمر میاں بیوی میں سامنے آیا تھا۔ معمر خاتون کو بخار، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا۔ڈاکٹر زینگ ژی جیان کے مطابق معمر خاتون کو 26 دسمبر کو ہسپتال لایا گیا تھا، ان کے ساتھ ان کے شوہر اور بیٹا بھی آئے تھے۔ خاتون کے شوہر میں بخار، کھانسی یا سانس لینے میں دشواری کی علامات نہیں تھیں بلکہ وہ تھکاوٹ کا شکار تھے۔ ” جب ہم نے ان کے ٹیسٹ کیے تو یہ بات سامنے آئی کہ اس معمر جوڑے کے بیٹے کے پھیپھڑوں میں بھی مسئلہ تھا، ان لوگوں کو بظاہر نمونیا لگ رہا تھا لیکن مزید ٹیسٹ کرنے پر تینوں کے پھیپھڑوں کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں پتا لگا۔ “انہوں نے بتایا کہ عمومی طور پر لوگوں کے پھیپھڑوں میں مسئلہ ہوتا ہے لیکن معمر جوڑے کے بیٹے کے پھیپھڑوں کو جو نقصان پہنچا ہوا تھا وہ اس سے پہلے نہیں دیکھا گیا تھا۔27 دسمبر کو ایک اور مریض اسی طرح کی علامات کے ساتھ ہسپتال آیا جس کے بعد ڈاکٹر ژینگ نے ہسپتال انتظامیہ کو رپورٹ کی اور کہا کہ یہ کوئی وبائی مرض ہوسکتا ہے۔یال رہے کہ اس سے پہلے بھی کورونا وائرس کے پیشنٹ زیرو (پہلے مریض) کا پتا لگانے کیلئے تحقیق ہوتی رہی ہے لیکن ڈاکٹر ژینگ کا یہ انکشاف اس معاملے میں بڑا بریک تھرو ہے۔ اس سے وائرس کی پیدائش کے مقام تک پہنچنے میں آسانی ہوجائے گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.