پی ٹی آئی کے بُرے دن!! کون کون گرفتار ہونے جا رہا ہے؟ بڑے بڑے نام سامنے آگئے

پی ٹی آئی کے بُرے دن!! کون کون گرفتار ہونے جا رہا ہے؟ بڑے بڑے نام سامنے آگئے

پی ٹی آئی کے بُرے دن!! کون کون گرفتار ہونے جا رہا ہے؟ بڑے بڑے نام سامنے آگئے

الیکشن کمیشن کی جانب سے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے عہدیداروں کے خلاف آپریشن کلین اپ شروع ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق قانونی ماہرین کی رائے میں عملی اقدام ہوگا، عمران خان کی نااہلی کے لئے قانونی کارروائی کرنے

کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے، عمران خان کے ساتھیوں کی گرفتاری ہوگی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں آئے گی۔ ذرائع کے مطابق پورے پاکستان میں مختلف ٹیمیں بیک وقت کارروائی کریں گی، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ ادارے کارروائی کریں گے،

عمران خان کے خلاف الیکشن کمشن کی 12 نکاتی چارج شیٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی، عمران خان کے خلاف کئی چارجز کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ چند دن میں پی ٹی آئی کے مرکزی اور صوبائی عہدیداروں کے خلاف آپریشن کلین اپ شروع ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق اسد قیصر، قاسم سوری، عمران اسماعیل، شاہ فرمان، پنجاب کے سابق سینئر وزیرمیاں محمود الرشید، نجیب ہارون، ثمرعلی خان، سابق ایم پی اے سیما ضیاء، عامر کیانی، سیف اللہ نیازی، ڈاکٹر ہمایوں مہمند، کرنل (ر) یونس علی رضا، طارق شیخ، سردار اظہر طارق کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی سنٹرل سیکریٹریٹ کے 4 ملازمین طاہراقبال، محمد نعمان افضل، محمد ارشد اور محمد رفیق کو شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ مرکزی فنانس بورڈ کے 6 ارکان کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہوگی۔ دوسری جانب چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی (پی اے سی) نور عالم خان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا جج رہنے والا شخص خواتین کو ہراساں کرتا ہے اور اگر کمیٹی میں طلب کیا جائے تو عدالت چلے جاتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے حوالے سے آئین اور قانون کی روشنی میں کچھ نکات سامنے رکھنا چاہتا ہوں کیونکہ کچھ ادارے آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، پی اے سی رول 201کے تحت تمام اداروں کا مالی احتساب کرنے کا اختیار ہے۔ نور عالم خان نے کہا کہ سابق نیب چیئرمین کے خلاف ایک خاتون نے مجھے پبلک پٹیشن بھیجی، حکام نے وہ ویڈیو اور آڈیو کلپ دیکھنے کے بعد حکومت سے درخواست کی جس پر ہم نے ایکشن لیا، پی اے سی نے رولز کے تحت مجھے انصاف مانگنے والی خاتون کو بلانے کا اختیار دیا اور جب اس خاتون کو بلاکر سنا تو رونگٹے کھڑے ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ آمنہ جنجوعہ نے ایک پشتون عورت کا واقعہ بتایا کہ جاوید اقبال جسے میں جسٹس اور صاحب نہیں کہوں گا، انھوں نے لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ کے طور پر پشتون خاتون کو کہا کہ آپ اتنی خوبصورت ہیں آپ کو شوہر کی کیا ضرورت ہے۔ جاوید اقبال مجرم ہیں، میں نے انہیں بلایا تو وہ اسلام آباد ہائی کورٹ چلے گئے اور وہاں موقف اختیار کیا کہ ہم ان سے اثاثوں کی تفصیلات نہیں مانگ سکتے۔ نور عالم خان نے کہا کہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مہمند اور دیامر بھاشا ڈیم کے لیے اربوں روپے اکٹھے کیے ان کا حساب پوچھا ہے، لیکن سپریم کورٹ نے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مہمند و دیامر بھاشا ڈیم سے متعلق تمام حسابات دینے سے نیشنل بینک کو روک دیا ہے جبکہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو پی اے سی کے احکامات کے باوجود انہیں ڈیمز کے لیے جمع فنڈز کی دستاویزات نہیں دی گئیں۔ شاید عدالت نے 1973 کے آئین کا آرٹیکل 66 نہیں پڑھا۔انہوں نے کہا کہ کیا میرا یہ گناہ ہے کہ ایک افسر اگر اپنے اثاثہ جات دے سکتا ہے تو نیب کے افسران کیوں نہیں دے سکتے، نیب کے افسران اگر پہلے فوج میں تھے تو اس دورانیے کے اثاثے نہیں دیں لیکن نیب افسران جب سے سول افسران بنے ہیں تو اس کے بعد تو اپنے اثاثے وزارت قانون یا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں جمع کروائیں، یہ نہیں ہوسکتا کہ نیب اپنے افسران کے اثاثے اپنے پاس ہی جمع کرکے رکھ لے۔ چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ مہمند ڈیم میں قواعد کی خلاف ورزی کی گئی اس کی تحقیقات کرنا چاہتا ہوں، میں کسی صورت سمجھوتہ نہیں کروں گا، میں ماں، بہن اور بیٹیوں کے سرپر چادر ڈالوں گا، بے شک مجھے عدالت بلاکر نااہل قرار دے دیں لیکن میں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔نور عالم خان نے کہا کہ تمام منتخب ارکان پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلی اور سرکاری ملازمین اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، تمام سرکاری اداروں کا آڈٹ کروانا لازمی ہوتا ہے، میں نے نیب حکام سے کہا کہ وہ اپنے اثاثے ظاہر کریں تو وہ برا مان گئے۔ انہوں نے کہا کہ یا احتساب کا نعرہ ختم کر دیں اور سب کو چوری ڈاکے کی اجازت دے دیں، کارساز کمپنیوں اور سگریٹ والوں پر ہاتھ ڈالتا ہوں تو سفارشیں آتی ہیں، دس دس لاکھ کاروں پر اون لیا جاتا ہے، مجھے ایک لاکھ 68 لاکھ روپے بطور ایم این اے تنخواہ ملتی ہے سب حساب دینے کو تیار ہوں لیکن نیب اور سپریم کورٹ حساب دینے کو تیار نہیں، مجھے عدالت بلائیں اور چھ ماہ جیل بھیج دیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.