ایک حیران کن سیاسی تبصرہ

ایک حیران کن سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار آصف محمود بی بی سی کے لیے اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ن لیگ دو بڑی غلطیاں کر چکی، اب اگر وہ گورنر راج نافذ کرتی ہے تو یہ اس کی تیسری غلطی ہو گی جو آئندہ الیکشن سے پہلے اس کی آخری غلطی ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ غلطی ن لیگ کی ساری سیاست کو غیر فقاریہ بنا دے گی۔ پی ڈی ایم کے صدقے ن لیگ پہلے ہی پنجاب تک خود کو محدود کر چکی۔ سندھ اور کے پی پر وہ عملا اپنے دو حلیفوں کا حق تسلیم کر کے سمجھیے کہ دست بردار ہی ہو چکی۔ پنجاب میں اس کی مزاج پرسی یہ مجوزہ گورنر راج کر دے گا۔

ن لیگ اگر پنجاب میں گورنر راج لگاتی ہے تو ا س کی مبلغ مدت بھی دو رووز ہونی ہے اور اس کے بعد گورنر راج کا حکم نامہ لپیٹ کر وفاق کو روانہ کر دیا جائے گا ۔لیکن اس سے پہلے بھی یہ سوال ہے کہ کیا آئینی اور قانونی پیچیدگیاں ن لیگ کو گورنر راج لگانے بھی دیں گی؟آئیے ذرا آئینی پوزیشن دیکھتے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ کیا گورنر راج لگانے کی کچھ شرائط بھی ہیں یا ایسے ہی مزاج یار میں آیا اور گورنر راج نافذ کر دیا۔

اس کا جواب آئین کے آرٹیکل 232کی ذیلی دفعہ ایک میں موجود ہے۔ پہلی شرط ہے یہ کہ لڑائی یا غیر ملکی جارحیت کے نتیجے میںپاکستان یا اس کے کسی حصے کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ اندرونی خلفشار کی وجہ سے معاملات صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو جائیں۔ ان دو صورتوں میں صدر پاکستان ایمر جنسی نافذ کر سکتے ہیں ۔لیکن اس کیلئے تیسری شرط یہ ہے کہ صدر پاکستان اس بات پر مطمئن ہوںکہ واقعی حالات ایسے ہیں جیسے آرٹیکل 232 میں بیان کیے گئے ہیں۔ اب ظاہر ہے

پاکستان پر کسی غیر ملکی قوت نے تو اٹیک نہیں کیا۔ نہ ہی ہم حالت لڑائی میں ہیں۔ یعنی ن لیگ اگر گورنر راج لگاتی ہے تو اس کے لیے دوسری شرط یعنی اندرونی خلفشار کا بہانہ بنایا جائے گا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اگر گورنر راج اندرونی خلفشار کی وجہ سے لگایا جا رہا ہو تو آئین ایک اور شرط لگا دیتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ اس صورت میں جس صوبے میں گورنر راج لگانا ہو اس صوبے کی اسمبلی سے ایک قرارداد پاس کروانا لازمی ہے جس میں تسلیم کیا گیا ہو کہ حالات واقعی ایسے ہو چکے ہوں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب اسمبلی یہ قرار داد پاس کر دے گی؟کیا ن لیگ اور اتحادیوں کے پاس اتنی اکثریت ہے کہ وہ پنجاب اسمبلی سے گورنر راج کے لیے قرارداد پاس کروا لیں۔ اتنی اکثریت ہوتی تو وزارت اعلی ان کے ہاتھ سے کیوں نکلتی۔ن لیگ کے پاس ایک اور راستہ بھی ہے۔ اور وہ ہے پنجاب اسمبلی کی قرارداد کے بغیر گورنر راج لگانے کا لیکن اس میں بھی دو مسائل ہیں۔ اس صورت میں صرف صدر گورنر راج لگاسکتا ہے مگر اس حکم نامے کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پیش کر کے دس دنوں کے اندر اندر اس کی توثیق کرانا ہو گی۔ پی ٹی آئی کے استعفوں کے بعد پارلیمان سے تائید تو شاید مل جائے لیکن سوال یہ ہے کہ صدر تو پی ٹی آئی کا ہے وہ ایسا حکم نامہ جاری ہی کیوں کریگا؟ آئین کی رو سے ایک شرح یہ بھی بیان کی جاتی ہے

کہ صدر اصل میں وفاقی کابینہ کی رائے پر عمل کرنے کا پابند ہے اور اسکی حیثیت محض علامتی ہے لیکن اس صورت میں بھی صدر کے پاس یہ اختیار تو ہے کہ وہ ایسی کسی تجویز کو واپس بھیج دے کہ اس پر مزید غور کیا جائے۔ ایک دو ہفتے تو گئے اس کام میں۔ اس کے بعد صدر یہ کہہ سکتا ہے کہ آئین میں If the President is satisfied کی شرط موجود ہے اور میںاس بات پر مطمئن نہیں ہوں ۔ میری رائے میں گورنر راج غیر ضروری ہے۔ کیا ن لیگ کو اندازہ ہے کہ پھر کیا ہو گا؟ صدر کے پاس ایک اور اختیار بھی ہے کہ وہ معاملے کو آرٹیکل 186 کے مطابق سپریم کورٹ کی ایڈوائزری جورسڈکشن کے تحت سپریم کورٹ کو بھیج دے کہ جناب یہ معاملہ ہے مجھے گورنر راج کے لیے کہا گیا ہے جب کہ میں اس سے مطمئن اور متفق نہیں ہوں تو کیا مجھے صدر کے طور پر اس سمری کو رد کر دینا چاہیے یا ایک سیکشن افسر کے تحت اس پر دستخط کر دینے چاہیں۔تو کیا ن لیگ کے خیال میں سپریم کورٹ صدر پاکستان سے کہے گی کہ رانا ثناء اللہ صاحب جو کہتے ہیں ٹھیک کہتے ہیں ، ان کی تجویز پر فوری طور پر عمل کیا جائے؟ معلوم نہیں ن لیگ کو کس کی بد دعا ہے۔ غلطیوں پر غلطیاں کیے جا رہی ہے۔پہلی غلطی عمران خان کیخلاف عدم اعتماد تھی۔ اس غلطی نے عمران خان کو سرخرو کر دیا اور معیشت کا سارا بوجھ اب ن لیگ کی کمر پر رکھا ہے۔

اب مفتاح اسماعیل کے یہ رجز کام نہیں آئیں گے کہ ہم نے قوم کی خاطر یہ بھاری پتھر اٹھایا ۔ لوگ اب پوچھ رہے ہیں کہ اگر آپکے پاس کوئی متبادل پالیسی نہیں تھی تو آپ کو تشریف لانے کی ضرورت ہی کیا تھی جس شرح سے مہنگائی بڑھ رہی ہے اور معیشت تباہ ہو رہی ہے، یہ اگر ن لیگ کی شعوری پالیسی نہیں توخوفناک غلطی ہے جو اگلے الیکشن میں اس کیلئے ایک ڈرائونا خواب بن جائیگی۔ شعوری پالیسی کا امکان، میں نے برائے وزن بیت نہیں بیان کیا۔ کچھ سنجیدہ لوگ باس خدشے کا اظہار کرنا شروع ہو گئے ہیں کہ ن لیگ معیشت کی قیمت پر سیاست کر رہی ہے اور کسی سے کہا جا رہا ہے کہ ڈالر تو تیس چالیس روپے نیچے لانا کوئی مشکل نہیں لیکن اس سے پہلے ڈرائیونگ سیٹ کے کچھ اصول و قواعد پھر سے طے کرنا ہوں گے۔خیر یہ ایک الگ موضوع ہے اس پر کسی دن تفصیل سے لکھیں گے۔ دوسری بڑی غلطی پنجاب میں ضمنی انتخابات کے نتائج تسلیم کر لینے کے بعد ڈپٹی سپیکر کے ذریعے ایک ایسی کمزور رولنگ کے ذریعے حکومت حاصل کرنا تھی جس کی مدت صاف نظر آ رہا تھا کہ عدالتی فیصلے کی حد تک ہے۔ اور پھر یہی ہوا۔ ان دو غلطیوں کے نتائج بہت دور رس ہوں گے۔ معیشت کا بوجھ اب ن لیگ پر ہے۔ مہنگائی کاجواب اب ن لیگ نے دینا ہے۔ اگلے الیکشن میں سوال عمران سے نہیں ہو گا ، ن لیگ سے ہو گا۔ عمران خان تو اب سمجھیے کہ حکومت میں کبھی آئے ہی نہیں تھے۔حکومت بھی کر لی اور جوابدہی کا کوئی خوف بھی نہیں۔گویا انگلیاں گھی میں ہیں اور سر کڑاہی میں ہے۔ہمدردی کا ووٹ بھی انہی کے پاس ہے۔ پی ٹی آئی کے گورنر نے حلف نہ لے کر ایک غیر آئینی کام کیا ، ن لیگ کے گورنر نے بھی یہی کام کر کے اپنی اخلاقی برتری بھی گنوا دی۔ ابھی تو ن لیگ کے دوست مان کر نہیں دے رہے لیکن ایک وقت آئے گا وہ خود بیٹھ کر سوچیں گے یہ غلطیاں ہم نے کیوں کیں ، کس لیے کیں اور ان سے ہمیں حاصل کیا ہوا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published.