پنجاب کابینہ کی تشکیل ۔۔۔۔ کپتان نے (ق) لیگ اور چوہدری پرویز الٰہی کو سرپرائز دے دیا

پنجاب کابینہ کی تشکیل ۔۔۔۔ کپتان نے (ق) لیگ اور چوہدری پرویز الٰہی کو سرپرائز دے دیا

لاہور(ویب ڈیسک) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے 18 رکنی پنجاب کابینہ کی منظوری دے دی۔ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے کے لئے مرتب کی گئی کابینہ فہرست میں اتحادی مسلم لیگ (ق) کا ایک بھی وزیر شامل نہیں رکھا گیا ۔ ذرائع کے مطابق 18رکنی کابینہ میں صرف تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی شامل ہیں

جبکہ عمران خان نے بزدار کابینہ میں (ق) لیگ کو دی ہوئی دو وزارتیں بھی واپس لے لیں۔ ذرائع کا کہنا ہےکہ کابینہ میں محمود الرشید کو بلدیات ، یاسمین راشد کو صحت، میاں اسلم اقبال کو ہاؤسنگ اور ڈاکٹر مراد راس کو محکمہ تعلیم ملنے کا امکان ہے۔اس کے علاوہ راجہ بشارت کو پارلیمانی امور ،ہاشم جواں بخت کو خزانہ ،

خرم ورک کو قانون، راجہ یاسر ہمایوں کو ہائر ایجوکیشن اور ہاشم ڈوگر کو محکمہ داخلہ دیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق علی افضل ساہی، لطیف نذر گجر ، محسن لغاری اور فیاض چوہان کو بھی وزیربنائے جانے کاامکان ہے۔ذرائع کے مطابق اس حوالے سے اطلاعات سامنے آنے پر مسلم لیگ (ق)کے 10 ارکان اسمبلی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور انہوںنے اس حوالے سے قیادت کو بھی آگاہ کیا ہے۔یاد

رہے الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف کے لیے برا فیصلہ سامنے آیا ہے۔اوروہ یہ ہے کہ مطابق پی ٹی آئی کو ممنوعہ ذرائع سے فنڈنگ موصول ہوئی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کو ابراج گروپ سمیت غیر ملکی کمپنیوں سے فنڈنگ موصول ہوئی۔ پی ٹی آئی نے اپنے 16 اکاؤنٹس الیکشن کمیشن سے چھپائے۔

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے الیکشن کمیشن میں مس ڈیکلیریشن جمع کرایا۔ پی ٹی آئی چیئرمین کا سرٹیفکیٹ غلط تھا۔ عمران خان کے بیان حلفی میں غلط بیانی کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے متفقہ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے امریکا سے ایل ایل سی سے فنڈنگ لی۔ پی ٹی آئی نے آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی کی ہے۔

کمیشن مطمئن ہوگیا ہے کہ مختلف کمپنیوں سے ممنوعہ فنڈنگ لی گئی ہے۔ پی ٹی آئی نے شروع میں 8 اکاؤنٹس کی تصدیق کی۔ پی ٹی آئی نے 34 غیرملکی کمنیوں سے فنڈنگ لی۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، جس میں کہا گیا ہے کہ کیوں نہ آپ کے فنڈز ضبط کرلیے جائیں۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کی کاپی وفاقی حکومت کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بعد ازاں الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا 70 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا، جس کے مطابق تحریک انصاف نے دانستہ طور پر ووٹن کرکٹ لمیٹڈ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔ پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر متحدہ عرب امارات کی کمپنی برسٹل انجینئرنگ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔ جاری کردہ تحریری فیصلے میں درج ہے کہ سوئزرلینڈ کی ای پلینٹ ٹرسٹیز کمپنی، برطانیہ کی ایس ایس مارکیٹنگ کمپنی سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی گئی۔ الیکشن کمیشن کے متفقہ فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی کو یو ایس اے ایل ایل سی سے حاصل کردہ فنڈنگ بھی ممنوعہ ثابت ہوگئی۔ چیئرمین پی ٹی آئی کے فنڈنگ درست ہونے کے سرٹیفکیٹ درست نہیں تھے۔ تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کو ووٹن کرکٹ سے 21 لاکھ 21 ہزار 500 ڈالر فنڈز ملے۔ برسٹل انجینئرنگ سے 49 ہزار 964 ڈالر منتقل ہوئے۔ ای پلینٹ ٹرسٹیز اور ایس ایس مارکیٹنگ کمپنیوں سے پی ٹی آئی کو 1 لاکھ 17 ہزار سے زائد کی فنڈنگ ہوئی۔
فیصلے میں پی ٹی آئی کو یوکے سے ملنے والے 7 لاکھ 92 ہزار پاؤنڈز، پی ٹی آئی کینیڈا سے 35 لاکھ 81 ہزار 186 روپے، آسٹریلین کمپنی انور برادرز سے ملنے والے 6 لاکھ 79 ہزار روپے ممنوعہ قرار دیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے صرف 8 اکاؤنٹس ظاہر کیے تھے۔ جن اکاؤنٹس سے لاتعلقی ظاہر کی گئی تھی، وہ پی ٹی آئی کی سینئر قیادت چلا رہی تھی۔ پی ٹی آئی نے اپنی قیادت کے زیر انتظام چلنے والے مجموعی طور پر 16 اکاؤنٹس چھپائے۔ اکاؤنٹس ظاہر نہ کرنا پی ٹی آئی کی جانب سے آرٹیکل 17(3) کی خلاف ورزی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.