اثاثے بیچنے نہیں دیں گے!!! اب مقابلہ سڑکوں اور چوراہوں پر ہوگا، اہم سیاسی جماعت کا بڑا اعلان

اثاثے بیچنے نہیں دیں گے!!! اب مقابلہ سڑکوں اور چوراہوں پر ہوگا، اہم سیاسی جماعت کا بڑا اعلان

لاہور: (ویب ڈیسک) امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ ہم سڑکوں، چوراہوں پر نکلیں گے مگر حکومت کو قومی اثاثے بیچنے نہیں دیں گے۔ تفصیلات کے مطابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ڈی ایم حکومت آئی ایم ایف

کے اشاروں پر فیصلے کر رہی ہے۔ اس حکومت نے قومی اداروں اور اثاثوں کو بیچنے کیلیے عجلت میں قانون سازی کر لی ہے۔ ہم اس قانون اور اثاثوں کو بیچنے کے عمل کو ملک دشمنی سمجھتے ہیں۔ ہم سڑکوں اور چوراہوں پر نکلیں گے مگر حکومت کو قومی اثاثے بیچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 8 سال بعد ایک کیس کا فیصلہ سنایا ہے۔

اس فیصلے کے بعد پی ٹی آئی بے نقاب ہوچکی ہے۔ الیکشن کمیشن بروقت فیصلہ کرتا تو پی ٹی آئی اقتدار میں کبھی نہیں آتی۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ معیشت ڈوب رہی ہے، ملک سیلاب میں ڈوب گیا لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتیں آپس میں لڑ رہی ہیں۔ ہم کہتے تھے کہ یہ تینوں پارٹیاں مافیاز کا کلب ہیں۔ یہ لوگ غیر ملکی اور بےنامی فنڈنگ سے پارٹیاں چلا رہے ہیں۔ ان کے نام پاناما لیکس او پنڈورا لیکس میں ہیں۔

سپریم کورٹ نے ان لوگوں کے خلاف سوموٹو نہیں لیا۔ پی ڈی ایم پی ٹی آئی حکومت کا تسلسل ہے ان کے فیصلےعوام دشمن ہیں۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ قائداعظم نے کہا تھا کہ اسرائیل کو ہم تسلیم نہیں کریں گے، کشمیر ہمارے گھر کا مسئلہ اور ہماری شہ رگ سے قریب ہے۔ 2019 میں بھارت نے کشمیر کی ریاستی حیثیت کو ختم کیا۔

اس وقت عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ ہر ہفتے کشمیر کے لیے احتجاج کروں گا لیکن دو ہفتے احتجاج کرنے کے بعد بھول گئے۔ جماعت اسلامی کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔
خیال رہے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے 3 رکنی بینچ نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا، جس میں کہا گیا کہ تحریک انصاف پر ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہوگئی ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے 3 رکنی بینچ نے 21 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا،

جو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے آج صبح پڑھ کر سنا دیا، جس کے مطابق پی ٹی آئی کو ممنوعہ ذرائع سے فنڈنگ موصول ہوئی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کو ابراج گروپ سمیت غیر ملکی کمپنیوں سے فنڈنگ موصول ہوئی۔ پی ٹی آئی نے اپنے 16 اکاؤنٹس الیکشن کمیشن سے چھپائے۔ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے الیکشن کمیشن میں مس ڈیکلیریشن جمع کرایا۔ پی ٹی آئی چیئرمین کا سرٹیفکیٹ غلط تھا۔ عمران خان کے بیان حلفی میں غلط بیانی کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے متفقہ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے امریکا سے ایل ایل سی سے فنڈنگ لی۔ پی ٹی آئی نے آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی کی ہے۔ کمیشن مطمئن ہوگیا ہے کہ مختلف کمپنیوں سے ممنوعہ فنڈنگ لی گئی ہے۔ پی ٹی آئی نے شروع میں 8 اکاؤنٹس کی تصدیق کی۔ پی ٹی آئی نے 34 غیرملکی کمنیوں سے فنڈنگ لی۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، جس میں کہا گیا ہے کہ کیوں نہ آپ کے فنڈز ضبط کرلیے جائیں۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کی کاپی وفاقی حکومت کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.