منافع زیرو،خرچہ اربوں، برسوں سے بند سٹیل مل میں تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ، 10 ارب روپے مالیت کا مٹیریل غائب

منافع زیرو،خرچہ اربوں، برسوں سے بند سٹیل مل میں تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ، 10 ارب روپے مالیت کا مٹیریل غائب

کراچی(ویب ڈیسک) برسوں سے بند پاکستان اسٹیل ملز سے 10 ارب روپے مالیت کا مٹیریل چوری ہوگیا۔ وزارت صعنت و پیدوار نے معاملےکی تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو خط لکھ دیا۔ پاکستان اسٹیل ملز یونین کی جانب سے چوری کے واقعات پر وزارت صعنت کو خط لکھا گیا تھا۔

جنرل سیکرٹری سی بی اے اسٹیل ملز عبد الرزاق کا کہنا ہے کہ چوری کی شفاف تحقیقات کےلیےخط لکھا تھا، اسٹیل ملز میں چوریوں کا سلسلہ گزشتہ دور حکومت میں شروع ہوا، گزشتہ دور حکومت میں اسٹیل ملز کا 10 ارب روپےکا مٹیریل چوری ہوا، گزشتہ حکومت کو چوریوں سے آگاہ کیا مگر کوئی پیش رفت نہ ہوئی ۔

خط میں کہا گیا ہے کہ چوری میں سکیورٹی اور سینیئر انتظامی افسران کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں، قومی اثاثےکو لٹیروں سے بچانےکے لیے فوری ایکشن و تحقیقات کی جائیں، 27 جولائی کی رات 50 افراد پر مشتمل لٹیروں کا ایک گروہ اسٹیل ملز کے احاطے میں داخل ہوا، پاکستان اسٹیل کے پلانٹ ایریا سے اربوں بھاری مالیت کا تانبہ اور وائرز چوری کی گئیں۔ خط کے مطابق موجودہ اور گزشتہ چوریوں میں سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ اور ملازمین خاموش تماشائی بنے رہے۔

وزارت صنعت و پیداوار نے اسٹیل ملز میں چوری کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کو خط لکھ دیا ہے، جس میں کہا گیا ہےکہ چوریاں مین پلانٹ سمیت مختلف ڈیپارٹمنٹس میں ہوئیں، الزامات انتہائی سنجیدہ ہیں اور اسٹیل ملز انتظامیہ کی شفافیت کو چیلنج کیا گیا ہے، مبینہ چوریوں کی ایف آئی اے شفاف تحقیقات کرے۔

دوسری طرف ایک بری خبر یہ ہے کہ کے الیکٹرک کے بن قاسم پاور اسٹیشن 3 اپنےکمیشنگ ٹیسٹ کے دوران پیدا ہونے والے ایک فالٹ کے باعث عارضی طور پر غیر فعال ہوگیا۔ کے الیکٹرک کے بیان کے مطابق اس فالٹ کی شناخت سیمینزاے جی (Siemens AG) کی جانب سے کیے جانے والے کمیشنگ فیز کے

آخری مراحل کے ایک ٹیسٹ کے دوران ہوئی۔ سیمینز اور ہاربن الیکٹرک کے نمائندوں کی جانب سے ابتدائی تحقیقات کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ حالانکہ پلانٹ اب بھی ٹیسٹ رن پر ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کے الیکٹرک کی جانب سے صورتحال کا مستقل جائزہ لیا جارہا ہے۔ ہمیں تشکیل دی جانے والی عالمی ماہرین پر مشتمل ٹیم پر پورا اعتماد ہے کہ وہ ترجیحی بنیاد پر فالٹ کی درستگی یقینی بنائیں گے۔ ابتدائی تحقیقات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ فالٹ گیس ٹربائن کے ایک خاص حصے میں آیا۔ درستگی میں اندازا 8 سے 10 ہفتے لگ سکتے ہیں۔ فالٹ کی بنیادی وجہ کی بھی تلاش کی جارہی ہے۔ کے الیکٹرک کے مطابق عارضی متاثرہ یونٹ پچھلے مہینے متعدد بار مکمل لوڈ پر چل چکا ہے۔ شہر کو بجلی کی فراہمی فی الحال 30 جون 2022 کو اعلان کردہ شیڈول کے مطابق جاری ہے جو کہ کے الیکٹرک کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.