21 ویں گریڈ کے پاکستانی افسر پر انسانی سمگلنگ کا الزام لگ گیا

21 ویں گریڈ کے پاکستانی افسر پر انسانی سمگلنگ کا الزام لگ گیا

کراچی (ویب ڈیسک) رواں سال مارچ کے مہینے میں ایک اعلیٰ سطح کے پاکستانی سفارت کار کو انسانی اسمگلنگ جیسے سنگین الزام کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کیخلاف یہ شکایت سابق سرکاری ملازم نے کی جو اب خود ویزا کا کام کرتے ہیں۔ اپنی شکایت میں اس سابق افسر نے جو دستاویزات منسلک کی ہیں

اُن میں مختلف ای میلز اور سفارتی مراسلہ جات (Note Verbale) شامل ہیں جو انہوں نے مختلف سفارت خانوں کو بطور ادائیگی کے ثبوت پیش کیے ہیں جو انہوں نے ملزم سفارت کار کو کی تھیں۔

یہ اسکینڈل 21؍ گریڈ کے افسر ڈاکٹر اسرار حسین کے گرد گھومتا ہے۔ جس وقت ان کیخلاف شکایت موصول ہوئی اس وقت وہ ایڈیشنل سیکریٹری (یورپ) تھے۔ یہ معاملہ اُن کی جانب سے اسلام آباد میں قائم یورپی سفارت خانوں پر اثر انداز ہو کر انہیں پاکستانیوں کو ویزا جاری کرنے کے متعلق ہے۔ انہوں نے مبینہ طور پر کم از کم 11؍ افراد کو اسپین بھجوایا۔ اس سے قبل، وہ چیک ری پبلک میں پاکستانی سفیر بھی رہ چکے ہیں اور وہاں بھی ان کی ساکھ اچھی نہیں تھی۔

مدعی طارق جاوید خان نے یہ معاملہ اُس وقت سے شروع کیا ہے جب اسرار حسین چیک ریپبلک میں تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اسرار حسین نے انہیں پیشکش کی کہ وہ انہیں اٹلی، چیک ریپبلک، اسپین، پولینڈ اور جنوبی کوریا کا سیاحتی، ملازمتی اور رہائشی ویزا دلوانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ اسرار احمد نے انہیں (مدعی کو) پاکستان میں تعینات ان ممالک کے سفیروں سے بھی متعارف کرایا۔ مدعی کی شکایت کا انداز کچھ ایسا ہے کہ جیسے انہوں نے انسانی اسمگلنگ کی دنیا کی منظر کشی کی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا ہے کہ یہ دھندا کیسے ہوتا ہے۔ مدعی نے بتایا ہے کہ اُن کے پاس اسرار حسین کو کی جانے والی تمام تر ادائیگیوں کا ثبوت بینک کی رسیدوں کی صورت میں موجود ہے۔ طارق جاوید خان نے دی نیوز کو بھی شواہد دکھائے ہیں۔ اس کے علاوہ، طارق جاوید خان نے بتایا ہے

کہ ان کے پاس ویڈیو، وائس نوٹس اور ٹیکسٹ میسیجز بھی ہیں جو انہوں نے اسرار حسین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے محفوظ کیے تھے۔یہ ویزے جاری نہیں ہوئے اور اسرار حسین نے پیسے واپس کرنے سے انکار کردیا اور ساتھ ہی دھمکی دی کہ کسی کو بتایا تو سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ تاہم، اسی دوران اسرار حسین کو ایک اور موقع مل گیا۔ اسرار حسین نے پاکستان سے قوالی سے جڑے فنکاروں کو پراگ (چیک ریپبلک کے دارالحکومت) بھیجنے کی درخواست بھیجی۔

انہوں نے ان فنکاروں کے ٹکٹ، رہائشی انتظامات اور دیگر اخراجات کا بندوبست کیا۔ لیکن اس پورے کھیل کے پیچھے مذموم مقاصد تھے۔ اس ثقافتی وفد میں 10؍ مزید لوگ بھی شامل کر لیے گئے اور ہر ایک سے 15؍ لاکھ روپے لیکر ان سے وعدہ کیا گیا کہ انہیں پراگ میں ملازمتی اور رہائشی اجازت نامہ دلوایا جائے گا۔ اسرار حسین نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا اور ان لوگوں کو پراگ میں اسائلم (بحیثیت پناہ گزین) کیلئے درخواست دینا پڑی۔طارق جاوید خان کو اسرار حسین کے دیگر ساتھیوں کے توسط سے ان کا ماضی معلوم ہوا۔ مدعی نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرار حسین اپنی سابقہ تعیناتیوں کے ملک میں ناپسندیدہ شخصیت قرار دیے جا چکے ہیں۔ طارق خان کا کہنا ہے کہ کچھ سفیر ہیں جو ان الزامات کی تصدیق کریں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ شکایت کے معاملے میں اٹلی، چیک ریپبلک اور اسپین کے سفیروں سے تصدیق کر لیں جو بہ خوشی اس بات کی تصدیق کریں گے کہ اسرار حسین کا رویہ کیسا تھا اور ساتھ ہی وہ غیر قانونی طور پر ویزوں کے اجراء کے معاملے میں مسلسل کی جانے والی درخواستوں کے شواہد بھی دیں گے۔دی نیوز کو معلوم ہے کہ اسرار حسین نے مارچ میں اسپین کے سفارت خانے سے درخواست کی تھی کہ سپریم کورٹ کے ایک وکیل ہیں جو اپنے 10؍ ’’ساتھیوں‘‘ (ایسوسی ایٹس) کو اسپین لیجانا چاہتے ہیں۔ بعد میں اسپین کے سفارت خانے کی طرف سے انہیں یہ خط موصول ہوا کہ ’’جن لوگوں کو آپ نے وکیل کا ایسوسی ایٹ قرار دیا ہے وہ اس وکیل کے دوست ہیں یا پھر معاون (اسسٹنٹ)۔ ان میں سے کسی نے بھی کبھی کوئی سفر نہیں کیا اور لگتا نہیں کہ وہ شینجن ریجن کیلئے ضروری سمجھے جانے والے ضابطوں پر عمل کریں گے۔ آپ کے خط کی وجہ سے ہم نے ان لوگوں کی درخواست کو ترجیح دی لیکن عموماً ایسے کیسز میں دو ماہ کا وقت لگتا ہے اور اس ضمن میں شینجن ضابطوں کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔’’

Leave a Reply

Your email address will not be published.