ہیلی کاپٹر حادثہ کیوں پیش آیا ؟ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تفصیلات بتا دیں

ہیلی کاپٹر حادثہ کیوں پیش آیا ؟ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تفصیلات بتا دیں

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) صدر مملکت عارف علوی نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور بلوچستان میں ہیلی کاپٹر حادثے میں

فوجی افسران اور جوانوں کی شہادت پر رنج و غم کا اظہار کیا۔ ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف نے صدر مملکت کو بتایا کہ

تفصیلات کے مطابق صدر مملکت عارف علوی نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور بلوچستان میں ہیلی کاپٹر حادثے میں فوجی افسران اور جوانوں کی شہ ادت پر رنج و غم کا اظہار کیا۔

ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف نے صدر مملکت کو بتایا کہ امدادی سرگرمیوں کے دوران خراب موسم کی وجہ سے حد نگاہ کم ہوئی جس کی وجہ سے ہیلی کاپٹرکو حادثہ پیش آیا۔ آرمی چیف نے بتایا کہ ہیلی کاپٹرکا ملبہ حاصل کرلیا گیا ہے اور تمام فوجی افسران و جوان جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔

ایوان صدر کے مطابق آرمی چیف سے گفتگو میں صدر مملکت نے ش ہداء کے جنازے میں بنفسِ نفیس شرکت کرنے اور اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرنے کا بھی ذکرکیا۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز اوتھل سے کراچی جاتے ہوئے پاکستان آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر لاپتہ ہوگیا تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ہیلی کاپٹر میں کور کمانڈر 12 کور سمیت 6 افراد سوار تھے اور ہیلی کاپٹر لسبیلہ میں فلڈ ریلیف آپریشن میں مصروف تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہیلی کاپٹر میں کور کمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی سمیت ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پاکستان کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد اور 12 کور کے انجینیئر بریگیڈیئر خالد سوار تھے۔

ہیلی کاپٹر میں سوار افراد میں پائلٹ میجر سعید، معاون پائلٹ میجر طلحہ اورکریو میں چیف نائیک مدثر بھی شامل تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہیلی آج کاپٹرکا ملبہ موسٰی گوٹھ سے مل گیا ہے، ہیلی کاپٹر میں سوار کور کمانڈر کوئٹہ سمیت تمام افراد شہ ید ہوگئے، ہیلی کاپٹر کو حادثہ خراب موسم کے باعث پیش آیا۔
دوسری جانب بلوچستان میں گزشتہ روز ہیلی کاپٹر حادثے میں ش ہید ہونے والے پاک فوج کے لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی ایک ذہین اور قابل افسر تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کا تعلق لاہور سے تھا، انہوں نے 1989 میں آزاد کشمیر رجمنٹ میں کمیشن لیا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز نے پاکستان آرمی کے کلیدی عہدوں پر کام کیا، ش ہادت کے وقت وہ کور کمانڈر 12کور (جسے کوئٹہ کور بھی کہا جاتا ہے) کے عہدے پر تعینات تھے اور بلوچستان میں سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف کے کاموں کا جائزہ لے رہے تھے۔ اس سے قبل انہوں نے ٹرپل ون بریگیڈ کی کمانڈ بھی کی اور کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کے کمانڈنٹ بھی رہے۔ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز ملٹری انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہے، انہوں نے مشکل وقت میں آئی جی ایف بلوچستان کی حیثیت سے بھی فرائض سرانجام دیے۔ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز کو بہترین کارکردگی پر دو مرتبہ تمغہ بسالت سے نوازا گیا۔ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز نے بیوہ، ایک بیٹی اور دو بیٹوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز اوتھل سے کراچی جاتے ہوئے پاکستان آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر لاپتہ ہوگیا تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہیلی کاپٹر میں کور کمانڈر 12 کور سمیت 6 افراد سوار تھے اور ہیلی کاپٹر لسبیلہ میں فلڈ ریلیف آپریشن میں مصروف تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہیلی کاپٹر میں کور کمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی سمیت ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پاکستان کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد اور 12 کور کے انجینیئر بریگیڈیئر خالد سوار تھے۔ ہیلی کاپٹر میں سوار افراد میں پائلٹ میجر سعید، معاون پائلٹ میجر طلحہ اورکریو میں چیف نائیک مدثر بھی شامل تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہیلی کاپٹرکا ملبہ موسٰی گوٹھ سے مل گیا ہے، ہیلی کاپٹر میں سوار کور کمانڈر کوئٹہ سمیت تمام افراد شہ ید ہوگئے، ہیلی کاپٹر کو حادثہ خراب موسم کے باعث پیش آیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.