چیف جسٹس عمر عطابندیال کی آڈیو کی تفصیلات سامنے آگئیں

چیف جسٹس عمر عطابندیال کی آڈیو کی تفصیلات سامنے آگئیں

کراچی (ویب ڈیسک) چیف جسٹس عمر عطاء بندیال:میں بہت شکرگزار ہوں کہ آج اس کمیشن کے ارکان دور دراز کے مقامات اور کراچی جیسے بارش سے بھیگے ہوئے مقامات سے جمع ہوئے ہیں لیکن سب سے پہلے میں جسٹس سجاد علی شاہ کو کمیشن میں خوش آمدید کہوں گا جنہوں نے درحقیقت پشاور سے سفر کیا ہے اور

شاید اس اجلاس کی وجہ سے اسلام آباد میں کام شروع کیا ہے۔ میں شکر گزار ہوں کہ قاضی صاحب نے اجلاس کے لیے اپنی چھٹی سے وقت نکالا اور محترم اشتر نے استقبال کے لیے قوت اکٹھا کی اور لندن سے ہمارے ساتھ شامل ہونے کا شکریہ اور ہم سب آپ کے بارے میں سوچ رہے تھے اور آپ کی اچھی صحت کی دعا کر رہے تھے ۔ امید ہے کہ آپ خیریت سے ہیں۔ لہٰذا اب جلدی سے ایجنڈے پر آجاتے ہیںجس میں سپریم کورٹ کے بینچ کے تحت پانچ ججوں کی تقرری پر غور کیا جانا ہے۔ اس کمیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے میری کچھ سفارشات ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ کمیشن برائے مہربانی غور کرے۔ میں پہلے ہی نوٹ میں کچھ کی سفارش کرنے اور دوسروں کو نظرانداز کرنے کی وجوہات لکھ چکا ہوں۔ آپ کو جو کاغذی کتاب موصول ہوئی ہے اس میں کچھ ڈیٹا ہے اور تفصیلی ڈیٹا بڑی کاغذی کتابوں میں دستیاب ہے جو بدقسمتی سے نہ تو قاضی صاحب اور نہ ہی محترم اشتر کو ملی ہے کیونکہ ہم نے وہ مواد ای میل اور واٹس ایپ کے ذریعے بھیجا ہے لیکن بہرحال۔ یہ اچھا ہے کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں۔ آپ کے پاس جو بھی سوالات ہیں ہم ان کے جواب دے سکتے ہیں جیسا کہ وہ بس ان رسمی کارروائیوں کو مکمل کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ میں نے سپریم کورٹ کے جسٹس کی تقرری کے لیے جسٹس قیصر رشید خان چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس

حسن اظہر رضوی، سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس شفیع صدیقی، سندھ ہائی کورٹ سے دوبارہ جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو اور لاہور ہائی کورٹ سے جسٹس شاہد وحید کے نام تجویز کئے تھے۔ سب سے پہلے مختلف صوبوں سے انتخاب کے بارے میں نکتہ یہ ہے کہ ہمارے پاس تین سیٹیں ہیں جو ججوں سے خالی ہیں ان میں سے ایک ابھی بھی سپریم کورٹ کی زینت بنی ہوئی ہےلیکن ہمارے پاس دو نشستیں ہیں جو جسٹس گلزار احمد اور جسٹس مقبول باقر نے خالی کی ہیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ جو ہمارے ساتھ ہیں اگلے ماہ کے وسط میں اپنا عہدہ چھوڑ دیں گےتو تین سیٹیں ہوں گی اور اس وجہ سے پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس مظہر عالم خان کی جانب سے تین تجاویز ہیں۔ میاں خیل حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں اور ان کی جگہ جسٹس قیصر رشید خان کو تعینات کیا گیا ہے۔ جسٹس شاہد وحید جسٹس قاضی امین احمد صاحب، محمد امین احمد صاحب کی خالی کردہ نشست پر تجویز کئے گئے ہیں۔ تو یہ تناسب ہے لیکن اب اگر آپ چاہیں تو میں مواد کو پڑھ سکتا ہوں جو میں پہلے ہی بھیج چکا ہوں یا اگر آپ چاہیں تو ہم ان تجاویز پر بحث شروع کر سکتے ہیں جو میں نے بھیجی ہیں اور ہم جسٹس سرمد جلال عثمانی صاحب سے شروع کر سکتے ہیں اور اور پھر میز کی دوسری جانب جائیں گے۔تو آپ کی باری میں حضرات، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب سینئر ترین جج ہیں جو جسٹس طارق مسعود صاحب کے بعد خطاب کریں گے

اور جناب اشتر اوصاف علی وزیر قانون کے بعد خطاب کریں گے جیسا کہ کہا گیا ہے۔ آپ کا بہت شکریہ۔ جسٹس سرمد عثمانی صاحب سے گزارش ہے کہ اس تجویز پر اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی :جناب چیف جسٹس میں آپ کا اور یہاں موجود تمام حضرات کابہت شکر گزار ہوں خاص طور پر اشتر اوصاف کیلئے دعا گو ہوں کہ وہ آپریشن کے بعد مکمل صحت یاب ہو کر اس اجلاس میں شامل ہوں اور اب چونکہ سندھ ہائیکورٹ کا تذکرہ ہے تو میں کچھ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ سندھ ہائیکورٹ کے جن جج صاحبان کی سپریم کورٹ کیلئے نامزدگی کی گئی ہے اور جن جج صاحبان کو بائی پاس کیا گیا ہے ان کو میں اچھی طرح جانتا ہوں کیونکہ میں سندھ ہا ئیکورٹ میں بطور جج اور بطور چیف جسٹس کام کرچکا ہوں اور ان میں سے کچھ جج صاحبان کے میں بنچ بھی تشکیل دیتا رہا ہوں،جیسے کہ جسٹس سید حسن اظہر رضوی تو میں ان کی نامزدگی کی بھرپور توثیق کرتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ وہ نہایت شریف النفس انسان ہیں اور بطور جج ان کا کام بہت عمدہ ہے،اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ جسٹس محمد شفیع صدیقی بھی اچھے جج ہیں اور انھیں بھی ایک اثاثہ مانتے ہوئے سپریم کورٹ کا جج بنا دینا چاہیے،لیکن میں سمجھتا ہوں کہ دیگر جج صاحبان بھی اتنے ہی اچھے ہیں لیکن سینئر ہونے کے باوجود انھیں جسٹس پھلپوٹو کیسامنے نظر انداز کیا جارہا ہے ، جسٹس پھلپوٹو فوجداری کیسوں کے ماہر ہیں ،

میں نے ان کی ججمنٹس کا مطالعہ کیا ہے وہ وہ بس جیسی کریمینل ججمنٹس ہوتی ہیں بس ویسی ہی ہیں ،فوجداری قانون میں چونکہ سب ضابطے طے کردیئے گئے ہیں یہاں تک کہ ضمانت کیسے منظور کی جانی ہے وہ بھی سی آر پی میں درج ہے تو ایسی صورتحال میں فوجداری (کریمینل) میدان میں کیا جدت ،تخلیق یا اختراع کی جاسکتی ہے اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ جو ان سے سینئر ہیں ان کی نامزدگی ہونی چاہئے جیسا کہ مسٹر جسٹس عباسی اور مسٹر جسٹس ندیم اظہر اور جسٹس ندیم رضوی، میں سمجھتا ہوں کہ ان کی نامزدگی ہونی چاہیے،اب جسٹس عباسی صاحب کو دیکھیں تو وہ ایک اعلیٰ پائے کے جج اور انسان ہیں لیکن وہ صرف ٹیکس امور کے ماہر ہیں چونکہ بطور وکیل بھی ان کی زیادہ تر پریکٹس ٹیکس ایشوز میں ہی ہوئی ہے تو ان کی زیادہ مصروفیت اور رجحان ٹیکس بنچ کی طرف ہی رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ان فوجداری اپیلز میں بھی کام ہے میری ان سے کافی ملاقاتیں ہوئی ہیں جس میں نے انھیں ایک اعلیٰ انسان ہی پایا ہے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں وہ ہمیشہ بہت اچھے ثابت ہوئے ہیں آپ جانتے ہیں وہ ہمیشہ حاضر رہتے ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ عزت مآب چیف جسٹس نے اپنی تحقیقات ضرور کی ہوں گی اور مجھے یقین ہے کہ وہ درست ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ ان کے بارے میں جو کچھ بھی کہا گیا ہے وہ اس وجہ سے تھا کہ اس میں حقائق کو نظرانداز کیا گیا تھا اس لیے وہ قدرے تلخ تھا اس لیے دیکھیں کہ کیا کسی شخص کو

بغیر کسی نظم اور وجہ کے نظرانداز کیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ وہ قدرے تلخ ہو سکتا ہے اگر مثال کے طور پر کسی شخص کے خلاف بغیر کسی نظم اور وجہ کے مقدمہ چلایا جائے اور بالآخر یہ پتہ چلا کہ اس کے ساتھ کیا گیا ہے؟ ظاہر ہے کہ وہ شخص کڑوا ہو گا اس لیے شاید یہ مجھے نہیں لگتا کہ شاید یہ اس کے کردار میں کوئی خامی ہے یہ شاید کوئی ایسی چیز ہو جس سے شاید کبھی کبھی وہ اس بات کا اظہار بھی کر دیتا ہے کہ اس کے اندر کیا ہو رہا ہے لیکن دوسری صورت میں میں نے انہیں بالکل ٹھیک پایا۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ معقول فیصلے لکھتے ہیں وہ اچھا فیصلہ بھی لکھتے ہیں اور جہاں تک ندیم صاحب کا تعلق ہے ان کے تصرف کا قانون ہے میں اس سے متفق ہوں اور شاید مجھے نہیں معلوم کہ وہ جو بھی وجوہات ہیں وہ زیادہ فیصلے نہیں لکھ رہے۔ کوئی بھی فیصلہ لیکن جو فیصلہ وہ لکھتے ہیں وہ اس حد تک ہے کہ میں کہہ سکتا ہوں کہ میری سوچ شاید یہ ہوگی کہ ہم ان حضرات میں سے کسی ایک کا نکتہ نظر سمجھنے کی بجائے اس کے کہ اس کی طرف اشارہ کیا جائے اور مسٹر پھلپوٹو کی طرف اشارہ کیا جائے۔ پشاورہائیکورٹ سےجوصاحب زیرغورہیں وہ یقیناً سینئرترین ہیں اور مجھے یقین ہےکہ جس قسم کاکام اور فیصلے وہ کرچکےہیں میں نےان کےمقابل نہیں پایا،مجھے یہ بھی یقین ہےکہ وہ شریف النفس ہیں اور میں ان کی نامزدگی مکمل حمایت کرتاہوںاور اسی طرح میں امیدوارمسٹروحیدکی بھی حمایت کرتاہوںکیونکہ باقی تین امیدوارجن

کےفیصلےمیں دیکھےہیں میراخیال ہےکہ جہاں تک فیصلوں کےمعیار اور تحریر کاتعلق ہےجسٹس وحیدان سےبہت اوپرہیں تو اس لیےمیں انکی حمایت کرتاہوں،بہت شکریہ میں نےاتناہی کہناتھا۔ جسٹس سجادعلی شاہ:جسٹس سرمدجلال عثمانی نےجواظہارخیال کیامیں اس سےکسی حدتک متفق ہوں،لیکن جو وجہ معزز چیف جسٹس نے سندھ کے تین ججوں کو پاس کر نے کی دی ہے جہاں تک ان تینوں ججوں کا تعلق ہے ہم نے ابھی چیف جسٹس کو سننا ہےجوزیرغورہیں میں انہیں ذاتی طورپرجانتاہوں میں نےان کےساتھ کام کیاہےاورمیں نےانہیں بہترین پایاہے،وہ قانون کوجانتےہیں اورمیرے خیال میں سندھ میں جوبھی پریکٹس کرتاہے وہ انکی کسی بھی خاصیت پرانگلی نہیں اٹھاسکتا،اس لیے میں ان تینوں نامزدگیوں کی مکمل حمایت کرتاہوں جہاں تک قیصررشیدکاتعلق ہے وہ چیف جسٹس ہیں اورجوڈیٹادیاگیاوہ ہم نےدیکھاہےمیں اس نامزدگی کی بھی مکمل حمایت کرتاہوں،اگرچہ میں جسٹس شاہدوحیدکےبارےمیں زیادہ نہیں جانتالیکن میں دوبارہ جوڈیٹامجھے دیاگیااس پرانحصارکروں گا اورمیں سمجھتاہوں کہ یہ نامزدگی بھی درست ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن۔ بہت شکریہ ، میں جسٹس عثمانی اور جسٹس سجاد علی شاہ کو خوش آمدید کہتا ہوں جنہوں نے پہلی بار ہمارے ساتھ اجلاس میں شرکت کی ہے۔ مسٹر تارڑ اور پاکستان بار کونسل کے نمائندہ کچھ وقت کیلئے ہمارے ساتھ ہیں جو کہ بہت سینئر وکیل ہیں۔ قاضی صاحب اور اٹارنی جنرل صاحب اب ہم آپ کی جانب آتے ہیں۔ سر ! میں نے انتہائی احتیاط کے ساتھ آپ کی جانب سے کی گئی سفارشات اور وجوہات کا جائزہ لیا ہے جس میں سفارشات کرنے اور نہ کرنے سے متعلق لکھا گیا ہے۔ میں نے ان تمام جینٹلمین کے فیصلوں اور کام کا بھی احتیاط کے

ساتھ جائزہ لیا ہے اور ان کے اس کام کا بھی جائزہ لیا ہے جو انہوں نے ہائی کورٹ میں ترقی کے بعد کئی سالوں سے کیا ہے۔ اس کام میں سے انہوں نے اپنے دس بہترین فیصلے ہمیں بھجوائے ہیں۔ جہاں تک جسٹس قیصر رشید کا تعلق ہے انہوں نے تمام باکسز پر نشان لگایا ہے۔ میری معلومات کے مطابق یہ بے عیب ساکھ کے حامل ہیں۔ ان کی قابلیت پر کوئی سوال نہیں ہے۔ جبکہ ان کی قوت برداشت کے حوالے سے میں نے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے سپریم کورٹ کے ساتھی ججوں سے بھی رائے لی ہے۔ سب نے بتایا ہے کہ یہ نہایت شریف آدمی ہیں اور سب نے ان کی قوت برداشت کی تعریف کی ہے۔ جیسا کہ ایک جج کی قوت برداشت ہونی چاہئے۔ جس کا مظاہرہ انہوں نے متعدد فیصلوں میں بھی کیا ہے، انہوں نے انتہائی شفافیت سے فیصلے قلمبند کئے ہیں اور ہر پہلو کا جائزہ لے کر لکھے ہیں۔ ان کے متعدد فوجداری ، سول اور آئینی مقدمات کے فیصلے رپورٹیڈ کیسز میں شامل ہیں۔ میں انہیں آل رائونڈر جج کہوں گا جس کی اس سطح پر سپریم کورٹ میں سخت ضرورت ہے۔ اس لئے میں ان کی سفارش کرتا ہوں اور جناب چیف جسٹس کی سفارشات کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔ انہوں نے وزیرستان اور فاٹا میں عدالتیں قائم کی ہیں جو ان کی بہترین انتظامی صلاحیت کا عکاس ہے۔ جہاں تک جسٹس حسن رضا رضوی ، جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو کا تعلق ہے ، میں نے ان کے فیصلوں کا مطالعہ کیا ہے۔ میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ میں ان

Leave a Reply

Your email address will not be published.