خواجہ آصف بھی عمران خان کو پیارے ہو گئے۔۔۔کپتان کے بڑے کارنامے کی تعریف کیے بنا نہ رہ سکے

خواجہ آصف بھی عمران خان کو پیارے ہو گئے۔۔۔کپتان کے بڑے کارنامے کی تعریف کیے بنا نہ رہ سکے

لاہور (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر نے شوکت خانم کینسر ہسپتال کو ایک اچھا ادارہ قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل

ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خواجہ آصف کی جانب سے تحریک انصاف کی فنڈنگ سے متعلق فنانشل ٹائمز کی رپورٹ پر ردعمل دیا گیا۔

لیگی رہنما نے الزام عائد کیا کہ عمران خان ہسپتال کو ملنے والے خیراتی پیسوں کو اپنی سیاست کیلئے استعمال کر رہے ہیں، خواجہ آصف نے کہا کہ شوکت خانم ہسپتال ایک اچھا ادارہ ہے، لیکن عمران خان اس ادارے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

دوسری جانب وزیر مملکت پیٹرولیم مصدق ملک نے سابق وزیر اعظم پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کہتے ہیں کہ عارف نقوی میرے سپورٹر ہیں،عمران خان کے ساتھ وزیراعظم ہاوس میں عارف نقوی کی تصاویر سوالیہ نشان ہیں،

یہ وہی عارف نقوی ہے جن کو امریکہ میں منی لانڈرنگ پر 290 سال قید کی سزا کا عندیہ دیا گیا۔ہفتے کے روز اسلام آباد میں کی گئی پریس کانفرنس میں وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ میں اس شخص کا چھوٹا سا مقدمہ سامنے رکھنا چاہتا ہوں،

جس کو 290 سال کی سزا کا عندیہ دیا ہو ا ہے وہ وزیراعظم ہاوس میں بیٹھا رہا،عمران خان کہتا ہے عارف نقوی اسے پیسے دیتا ہے۔2012 اور 2013 میں انہوں نے عارف نقوی کے بارے میں کہا کہ وہ ان کے دوست ہیں۔

2018 میں ان کے اقتدار میں آتے ہی ہر اخبار کے پیج پر عمران خان اور عارف نقوی کی تصاویر چھپیں۔ جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر نے کہا کہ پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس رکوانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے بانی رکن نے عمران خان کیخلاف کیس کیا،جبکہ 8 سال سے فنڈنگ کیس الیکشن کمیشن میں پڑا ہوا ہے۔ محمد زبیر کا کہنا تھا کہ اکبر ایس بابر نے رقم منتقلی کے تمام ثبوت پیش کئے،فنڈنگ سے متعلق غلط خبریں ہیں تو اس پر کیس کریں،اخبار پر کیس کریں سب کچھ سامنے آ جائے گا۔ اگر یہ بات غلط ہے تو پی ٹی آئی لندن کی عدالت میں مقدمہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نیب کے کیسز اور جیلیں بھگتی ہیں۔ اب عمران خان کو جواب دینا ہو گا،لیکچر دینا بند کریں،عمران خان صادق امین ہیں تو ان سوالوں کے جواب دیں،بھاگیں نہیں۔ہماری پارٹی اور تمام اراکین نے اثاثوں کے جواب دئیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.