شاہد خاقان کیخلاف کبھی بیان نہیں دیا!!! گواہ کے عدالت میں ٹیمپرنگ کے انکشاف نے ہلچل مچا دی

شاہد خاقان کیخلاف کبھی بیان نہیں دیا!!! گواہ کے عدالت میں ٹیمپرنگ کے انکشاف نے ہلچل مچا دی

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن) کے سینیئر نائب صدر شاہد خاقان کے خلاف ایل این جی ریفرنس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے تفتیشی افسر کی جانب سے مبینہ ٹیمپرنگ کا انکشاف ہوا ہے۔ اسلام آباد میں احتساب عدالت میں ایل این جی ریفرنس پر سماعت ہوئی جہاں نیب

گواہ ناصر بشیر قریشی نے بیان ریکارڈ کرایا۔ ایل این جی ریفرنس میں نیب کے گواہ ناصر بشیر قریشی نے احتساب عدالت میں شاہد خاقان عباسی کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ خان کی جرح کے دوران انکشاف کیا کہ اس نے نیب کے تفتیشی افسر کو ریکارڈ کرائے گئے بیان میں ملزم شاہد خاقان عباسی کا نام نہیں لیا تھا مگر

تفتیشی ملک زبیر نے اپنے پاس سے وہ نام بیان میں شامل کر لیا۔ گواہ نے کہا کہ اس نے نیب یا تفتیشی افسر سے کوئی رابطہ بھی نہیں کیا تھا بلکہ نیب کا نوٹس ملنے پر بیان ریکارڈ کرانے گیا جس میں یہ حقیقت ضرور بیان کی تھی کہ ان کا گیس سیکٹر میں کام کا کوئی تجربہ نہیں تھا تاہم انہوں نے معروف اومنی گروپ سے ٹینڈر میں حصہ لینے کی منصوبہ بندی اور مذاکرات ضرور کیے تھے۔

گواہ نے بتایا کہ وہ پرائیویٹ کمپنی میں سی ای او ہے جس کا ایک اور کمپنی کے ساتھ جیٹ فیول افغانستان ایکسپورٹ کرنے کا معاہدہ ہے۔ دوسری جانب وزیر ہوا بازی سعد رفیق نے کہا ہے کہ ہماری ایوی ایشن انڈسٹری پر ایئراسپیس دینے کیلئے بیرون ملک سے دباؤ ڈالا جارہا ہے، دوسرے ممالک کو ہمارے ساتھ کاروبار کرتے ہوئے پی آئی اے کو اپنا پارٹنر بنانا پڑے گا۔

علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ازسرنو تعمیر شدہ مرکزی رن وے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ہوا بازی کے اداروں کے درمیان ہم آہنگی نہیں ، ایک دوسرے کو سپورٹ کرنے کے بجائے اداروں میں ایک دوسرے کے خلاف کشمکش ہے، پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کو ایک دوسرے کو سپورٹ کرنا چاہیے، اداروں کی جانب سے بس مطالبات ہی مطالبات ہیں،

جو ادارہ کام کرے گا پھل بھی اسی کو دیا جائے گا جو کام نہیں کرے گا وہ مطالبہ بھی نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ایوی ایشن انڈسٹری پر ائیراسپیس دینے کے لیے بیرون ملک سے بھی بہت دباؤ ڈالا جارہا ہے، کوئی بھی دوسرا ملک ہمارے یہاں فلائٹ آپریشن چاہتا ہے تو اسے جوائنٹ وینچر کرنا پڑے گا، دوسرے ممالک کو ہمارے ساتھ کاروبار کرتے ہوئے پی آئی اے کو اپنا پارٹنر بنانا پڑے گا، اگر کسی ملک کو ہماری مارکیٹ کو استعمال کرنا ہے تو انہیں ہمارا شئیر ہمارے اسٹیٹ ائیرلائن کو دینا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.