میری ہدایت پر کبھی کوئی صحافی نہیں اٹھایا گیا، مسئلہ کچھ اور تھا!!! عمران خان کھل کر بول پڑے

میری ہدایت پر کبھی کوئی صحافی نہیں اٹھایا گیا، مسئلہ کچھ اور تھا!!! عمران خان کھل کر بول پڑے

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کے حکم پر کبھی کسی صحافی کو نہیں اٹھایا گیا ،

اس کی وجہ کچھ اور تھی۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آج میڈیا پر جو پابندیاں ہیں

ایسا میں نے کبھی پہلے نہیں دیکھا، بطور وزیراعظم میری ہدایت پر کبھی کسی صحافی کو نہیں اٹھایا گیا، ایک بار ایسا ہوا کہ میں کابینہ کے اجلاس میں تھا تو پتا چلا کہ کسی صحافی کو اٹھا لیا گیا ہے،

صحافیوں کو اٹھانے کی وجہ کچھ اور تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم کبھی میڈیا کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا۔ جب وہ وزیر اعظم بنے تو انہیں میڈیا سے ڈر نہیں لگا،

جب ڈکٹیٹر آتا ہے تو وہ میڈیا کا منہ بند کرتا ہے اور اداروں کی دھجیاں بکھیر دیتا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ فیک نیوز نے ان کیلئے مشکلات پیدا کیں، ان کے کئی وزیروں کے خلاف فیک نیوز چلائی گئیں۔

برطانیہ میں کسی کی کردار کشی کرنے پر سخت سزا ہے۔ وہاں سوشل میڈیا کے لیے بھی وہی قانون ہے جو عام میڈیا کے لیے ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ جرنیلوں اور لیڈرز کیلئے یوٹرن بہت ضروری ہوتا ہے،

غلطی کو پہچان کر واپس آجانا چاہیے۔ عمران خان نے اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالتیں انصاف دے رہی ہیں تو ہم کبھی تباہ نہیں ہوں گے، پاکستان میں طاقتور شخص قانون سے اوپر ہوتا ہے، ملک میں تینوں ڈکٹیٹرز نے اداروں کو کمزور کیا، جب ایک ڈکٹیٹر اپنے آپ کو ڈیموکریٹ بناتا ہے تو وہ میڈیا کو کنٹرول کرتا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکی سفیر نے کہا وزیراعظم کو نہ ہٹا یا تو پاکستان کو مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا، ڈونلڈ لو کہتا ہے کہ وزیراعظم کو ہٹایا گیا تو معاف کیا جائے گا، کیا ایک منتخب وزیراعظم کو اس طرح سے ہٹایا جاتا ہے؟ امریکی مراسلے کی تحقیقات ہونی چاہیے تھی لیکن اسے دبانے کی پوری کوشش کی گئی، امریکی مراسلے پر اگر سپریم کورٹ انکوائری نہ کرے اور الٹا دھمکی دیتے ہیں کہ عمران خان پر آرٹیکل 6 لگ جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صاف اور شفاف الیکشن کے علاوہ پاکستان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے، بند کمروں میں فیصلے ہوتے ہیں، غلطیاں سب سے ہوجاتی ہیں، غلطی کو پہچان کر واپس آجانا چاہیے، جرنیلوں اور لیڈرز کیلئے یوٹرن بہت ضروری ہوتا ہے، ہم فوج کو کبھی کمزور ہوتا نہیں دیکھ سکتے، طاقتور فوج ہمارا اثاثہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.