چہرا خوبصورت تھا مگر پھر بھی مرد بن گئیں۔۔فرعون کی وہ دلکش ملکہ جس نے اپنے آپ کو مجبوری میں مرد بنا لیا

چہرا خوبصورت تھا مگر پھر بھی مرد بن گئیں۔۔فرعون کی وہ دلکش ملکہ جس نے اپنے آپ کو مجبوری میں مرد بنا لیا

چہرا خوبصورت تھا مگر پھر بھی مرد بن گئیں۔۔فرعون کی وہ دلکش ملکہ جس نے اپنے آپ کو مجبوری میں مرد بنا لیا

فرعون اور اس کی دلچسپ کہانیوں کے بارے میں ویسے تو صارفین آگاہ ہیں لیکن کچھ ایسے فرعون بادشاہ اور ملکہ بھی گزرے ہی جو کہ اپنی وحشت اور جلال کی وجہ سے جانی جاتی تھیں۔

اس خبر میں آپ کو ایک ایسی ہی خطرناک اور طاقتور فرعون ملکہ کے بارے میں بتائیں گے۔ فرعون ملکہ ہاتشیپتس کا شمار ان چند ملکاؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے باپ دادا کی نہ صرف مدد کی بلکہ

حکومت کو آگے لے جانے میں خود اہم کردار ادا کیا۔ بہترین آرکیٹیکچر، نت نئے انداز حکومت، سخت قوانین، ثقافتی رنگ اور مذہبی عنصر، فرعون ملکہ ہاتشیپتس نے اپنے دور میں اپنے انداز کی بدولت بھی توجہ حاصل کی۔ ملکہ ہاتشیپتس کا نام بھی کافی دلچسپ تھا،

جس کے معنی تھے نوبل لیڈی، جو کہ 1508 قبل از مسیح پیدا ہوئیں۔ فرعون تھوتموس اول اور ملکہ آہموس کے ہاں پیدا ہونے والی ہاتشیپتس نے ان سے بے حد سیکھا۔ ایک بہن اور دو بھائیوں کے ساتھ مصر کے رائل کورٹ میں تعلیم و تربیت حاصل کرنے والی ہاتشیپتس کے بھائی بہن بچپن ہی میں انتقال کر گئے تھے، یوں ہاتشیپتس تنہا بچی تھیں۔ والد کے انتقال کے بعد بادشاہت کو بچانے کے لیے ہاتشیپتس کے والد کے ہالف بیٹے نے تخت کو سنبھال لیا تھا،

مگر فرعون بادشاہت میں بادشاہ کی شادی بہن سے ہی کی جاتی تھی، تاکہ خون بھی صاف ہو اور کوئی دوسرا دعویدار بھی نہ ہو۔ یہی وجہ ہے 15 سالہ ہالف برادر سے ہاتشیپتس جو کہ اس وقت 13 سال کی تھیں، شادی کر لی۔ لیکن اچانک شوہر کے انتقال اور بیٹے کی عمر بھی 3 سال ہونے کی وجہ سے ہاتشیپتس کو خود تخت پر ملکہ کے طور پر آنا پڑا۔ ساتھ ہی یہ مذہبی دعویٰ بھی کر دیا کہ اس وقت کے خدا آمن نے مجھے یہ ذمہ داری دی ہے کہ میں مصر پر حکومت کروں۔ ہاتشیپتس نے پراپیگنڈہ اور مختلف حربوں سے اپنے دعوے کو سچ ثابت کر دکھایا تھا، لوگ اس پر یقین کر رہے تھے، بہترین حکمت عملی اور خود مردانہ

داڑھی لگا کر ہاتشیپتس نے خود کو مرد بادشاہ بھی ظاہر کرنے کی کوشش کی جس میں ایک طرح سے کامیاب بھی ہوئیں۔ اگرچہ وہ یہ سب تصاویر اور مجسموں میں بنواتی تھیں خود نہیں لگاتی تھیں لیکن لوگوں کے دماغ میں ان کا یہی نقشہ بنتا جا رہا تھا، پنت کی زمین جسے اس وقت لیجنڈری ریاست ہونے کا خطاب ملا ہوا تھا، اس مقام پر ہاتشیپتس نے تجارت کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ جنگ کے ذریعے کامیاب نہیں ہو سکتی تھی۔ تجارت کی غرض سے جانے والی ہاتشیپتس کی فوج اس مقام سے بڑی تعداد میں سونا، ہیرے جواہرات، قیمتی چیزیں لے کر آئی، جبکہ ہاتشیپتس کو یہ ربتہ بھی ملا کہ انہوں نے دیگر ممالک کے درختوں کو اپنی زمین پر اگایا۔ انتہائی خوبصورت دکھائی دینے والی فرعون ملکہ نے اپنی تصاور اور مجسموں میں خود کو مرد کے طور پر دکھایا تھا جس کی داڑھی بھی تھی۔ لیکن حقیقت میں ہاتشیپتس کی آنکھیں، بڑی تھیں، جن میں موجود کاجل اسے مزید نکھارتا، خوبصورت ناک، اور چہرا اسے پُر کشش بنانے میں مزید مدد کرتا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.