حکومت نے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 3 روپے 50 پیسے اضافے کی منظوری دے دی۔۔۔عوام کی چیخیں نکلوانے والی خبر آ گئی

حکومت نے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 3 روپے 50 پیسے اضافے کی منظوری دے دی۔۔۔عوام کی چیخیں نکلوانے والی خبر آ گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر برائے توانائی خرم دستگیر نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمت میں مرحلہ وار اضافے کی منظوری دی ہے اور 26 جولائی سے بجلی کی قیمت میں 3 روپے 50 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا جا رہا ہے تاہم غریب ترین صارفین پر بجلی کی

قیمت میں اضافے کا اثر نہیں پڑے گا۔اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے توانائی خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ آئندہ ماہ بجلی کی فی یونٹ قیمت مزید 3 روپے 50 پیسے بڑھائی جائے گی جبکہ اکتوبر میں 90 پیسے فی یونٹ کا مزید اضافہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے پہلا فیصلہ یہ کیا ہے کہ ملک میں جہاں بھی ایسے فیڈرز ہیں جو صرف صنعتوں کو بجلی فراہم کرتے ہیں وہاں 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی جاری رہے گی تاہم مکس فیڈرز پر کوشش کی جائے گی کہ بجلی کی فراہمی میں کم سے کم تعطل آئے اور لوگوں کا روزگار جاری رہے اور معاشی سرگرمیوں پر زیادہ اثر نہ پڑے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں توانائی کا بحران ہے، ایندھن اور اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تاہم کابینہ نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ 5 بڑے برآمدی شعبوں کو ترجیحی بنیاد پر کم قیمت پر بجلی اور گیس کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی، ہم خطے کے دیگر مدمقابل ممالک کے قریب تر ٹیرف دینا چاہتے ہیں تاکہ برآمدات میں مسابقت پیدا ہو۔

خرم دستگیر نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمت میں اضافے کی بھی منظوری دی ہے لیکن وزارت توانائی کو ہدایت کی گئی ہے کہ غریب ترین صارفین پر اس کا اثر نہ پڑے، یہ صارفین ایک سے 50 یونٹ، ایک سے 100 یونٹس اور ایک سے 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرتے ہیں، ان پر بجلی کی قیمت میں اضافہ کا اثر نہیں پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے ٹیرف کی آخری مرتبہ ری بیسنگ فروری 2021 میں کی گئی تھی، اس کے بعد سابق حکومت نے جان بوجھ کر اس میں تاخیر کی، بجلی کی قیمت میں اضافے سے ایک تہائی صارفین کے لیے کوئی اضافہ نہیں ہو گا، جتنی بجلی استعمال کی جائے گی اس کی اتنی ہی قیمت ادا کرنا پڑے گی، فیول سرچارج ایڈجسٹمنٹ کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت غریب ترین اور صنعتی صارفین کا تحفظ کر رہی ہے، جون میں کے۔ٹو نیوکلیئر پاور پلانٹ کی ری فیولنگ ہو رہی تھی، رواں ماہ کے آغاز سے اس سے 1100 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہو گئی ہے، جولائی میں بارشوں سے تربیلا بجلی گھر کی پیداوار بھی 4200 میگاواٹ ہو گئی ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمت میں 26 جولائی سے 3 روپے 50 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا جا رہا ہے، آئندہ ماہ مزید 3 روپے 50 پیسے فی یونٹ جبکہ اکتوبر میں 90 پیسے فی یونٹ کا مزید اضافہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تین ماہ مشکل ہیں لیکن نومبر کے بعد بجلی کی قیمت میں کمی شروع ہو جائے گی، جون کے لیے اوسط ٹیرف 21 روپے 50 پیسے فی یونٹ تھا، دسمبر تک اس میں اضافہ ہو گا پھر اس میں کمی ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے، کوئلہ اور خاص طور پر گیس بین الاقوامی سطح پر ناپید ہیں، ایک دوست ملک سے طویل مدتی معاہدہ کے ذریعے گیس حاصل ہو رہی ہے۔خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ زیر التوا معاملات بھی آئندہ چند ہفتوں میں حل ہو جائیں گے،

جس سے معیشت مضبوط ہو گی، بجلی کی فراہمی میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے لیکن صورت حال اب بہتر ہو گئی ہے، وزیراعظم خود اس کی نگرانی کر رہے ہیں، پوری دنیا میں اجناس کی قیمتیں بڑھی ہیں، لائن لاسز میں کمی اور واجبات کی وصولی بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گردشی قرضہ 31 مارچ کو 2 ہزار 467 ارب روپے تھا، جس میں موجودہ حکومت نے 214 ارب روپے کمی کی ہے، 30 جون تک گردشی قرضہ کم ہو کر 2 ہزار 253 ارب روپے رہ گیا ہے، یہ بجلی کے شعبے کی سمت درست کرنے کی طرف اہم قدم ہے، بجلی کے واجب الادا محصولات 2018 میں 300 ارب روپے تھے، سابق حکومت کے دور میں ان میں 700 ارب روپے کا اضافہ ہوا اور بڑھ کر ایک ہزار ارب روپے تک پہنچا دیا گیا، ہم واجبات کی وصولی بڑھانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 1320 میگاواٹ کا شنگھائی الیکٹرک پاور پلانٹ، 1320 میگاواٹ کا جامشورو پاور پلانٹ، 1200 میگاواٹ کا تریمو پاور پلانٹ اور 720 میگاواٹ کے کروٹ پن بجلی منصوبے کی تکمیل میں سابق حکومت نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تاخیر کی اور اس کا مقصد فاشسٹ ٹولے کے سہولت کاروں کو فائدہ پہنچانا تھا، بہتر پیداواری صلاحیت والے بجلی گھر بند کرکے سابق حکومت کے وزرا اور مالی سہولت کاروں کے پاور پلانٹس چلا کر عوام کو لوٹا گیا لیکن یہ سلسلہ اب بند ہو چکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بجلی کی کمی ہے لیکن بجلی گھروں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور جتنی بجلی کی ضرورت ہوتی ہے اتنی ہی پیدا کی جاتی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں نیا قانون بنایا جارہا ہے جس کے تحت حکومتوں کے درمیان کمرشل معاہدوں کے معاملات میں نظم و ضبط پیدا ہو گا، دوست ممالک ملک میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں لیکن نجکاری قوانین میں بہت سے ایسے معاملات ہوئے جن کی وجہ سے مشکلات پیدا ہوتی ہیں، حکومت کی سطح پر ٹرانزیکشن اور شفافیت سے معاملات کو آگے بڑھانے میں یہ قانون مددگار ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لیے پانی، شمسی توانائی، تھرکول، ہوا اور مقامی نیوکلیئر ذرائع پر انحصار کیا جائے گا، اس سے ایندھن پر لاگت میں کمی ہوگی اور بجلی بھی سستی ملے گی، ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کا بھی اس پر اثر نہیں پڑے گا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ چند دنوں میں وزیراعظم شمسی توانائی پالیسی کا اعلان کریں گے، شمسی توانائی سے بجلی کی پیداواری لاگت میں مزید کمی آئے گی اور صارفین کو بھی فائدہ ہو گا، جیسے ہی عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی وفاقی حکومت نے صارفین کو اس کمی کا فائدہ منتقل کیا۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے مختلف علاقوں سے واجبات کی وصولی بڑا چیلنج ہے، پچھلے چار سال کے دوران صوبے اور وفاق میں ایک ہی جماعت برسر اقتدار رہی لیکن اس نے واجبات کی وصولی بہتر بنانے کے لیےکچھ نہیں کیا، لائن لاسز بھی بڑھتے چلے گئے اور وہاں پر ایسے ایسے مقامات پر بجلی دی گئی جہاں پر کوئی واجبات ادا نہیں کرتا، قبائلی علاقوں، بلوچستان اور سندھ کے متعدد علاقوں میں بھی واجبات کی وصولی ایک چیلنج ہے

لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر اس چیلنج سے نمٹنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ 2023 کے آغاز سے جدید میٹر لگائے جائیں گے تاکہ بجلی کے نقصانات میں کمی لائی جا سکے اور واجبات کی وصولی بڑھائی جا سکے، ہماری کوشش ہے کہ نئے کنکشن کے اجرا میں بھی تاخیر نہ ہو اور صارفین کو فوری کنکشن مل سکیں، جو صارفین واجبات ادا کریں گے انہیں گھروں، ٹیوب ویلوں اور کاروبار کے لیے بجلی ملے گی۔وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک نے کہا کہ سابق حکومت نے فروری 2021 کے بعد بجلی کے ٹیرف کی ری بیسنگ نہیں کی لیکن فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی جاتی رہی، وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ غریب ترین صارفین کا تحفظ کیا جائے اور اصل صورت حال سے عوام کو آگاہ کیا جائے، ہمیں کچھ وقت چاہیے، اکتوبر کے بعد بجلی کی قیمت میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمت میں اضافے کا ملک کی 45 فیصد آبادی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، یہ 8 کروڑ لوگ بنتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صارفین نیپرا ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے بنیادی ڈھانچے کا جائزہ لے کر بجلی کے نقصانات کا تعین کرتا ہے، اس سے اوپر نقصانات کی شرح کی اجازت نہیں دی جاتی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں گیس کی کمی ہے جس کی وجہ سے نئے گیس کنکشن پر پابندی ہے۔مصدق ملک نے کہا کہ ایس این جی پی ایل کو موسم سرما میں 480 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جاتی ہے جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اس کی گیس کی اوسط گھریلو طلب نومبر سے فروری تک 1500 ایم ایم سی ایف ڈی ہوتی ہے، گیس کے ذخائر میں 10 فیصد کی شرح سے کمی ہو رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.