(ن) لیگ نے جارحانہ سیاست دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا

(ن) لیگ نے جارحانہ سیاست دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا

اسلام آ باد ( ویب ڈیسک ) وزیر اعلیٰ پنجاب کا الیکشن ہارنے کے بعد پی ٹی آئی کے جارحانہ ردعمل کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے بھی

تنگ آ مد بجنگ آمد کے مصداق اب جارحانہ حکمت عملی اختیار کرلی ہے۔عمران اور رفقاء سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت اداروں کیخلاف مہم جوئی کرکے

دبائو میں لانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں، حکمران اتحادکے پاس کریزسے باہرنکل کرکھیلنے کے سواکوئی آپشن نہیں، سیاست میں بڑھتی تلخی پرسیا سی حلقے فکر مند ہیں،

مولانا فضل الرحمن بھی کھل کر میدان میں آگئے ہیں۔وزارت اعلیٰ کے انتخاب کے کیس کی سپریم کورٹ میں ابتدائی سماعت کے بعد حکمران اتحاد بھی اب خم ٹھونک کر میدان میں آگیا ہے،

اگرچہ یہ جماعتیں حکومت میں ہیں مگر ان میں یہ احساس پایا جا تا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور انکے رفقاء سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت شعوری طور پر اداروں کیخلاف مہم جوئی کرکے انہیں دبائو میں لانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں

جس کا سیا سی طور پر مقابلہ کرنے کیلئے اسکے سو اکوئی آپشن نہیں کہ کیسے کو تیسا کے اصول پر کریز سے با ہر نکل کر کھیلا جا ئے۔ عمران خان کی جارحانہ پالیسی کا مقصد یہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کے محفوط فیصلہ کو سنانے سے روکا جا ئے اور جلد الیکشن کیلئے دبائو ڈالا جا ئے تاکہ ان کی خلاف کیسز نہ بن سکیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن میں ابھی تک دو گروپ ہیں ایک مفاہمت پسند اور دوسرا گروپ اس حق میں ہے کہ جارحانہ روہ اپنایا جا ئے، اس کمزور پالیسی کا مسلم لیگ ن کو نقصان ہو رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.