بائیکاٹ کرنے کا حکمران اتحاد کو کیا خوفناک نقصان ہو گا ؟

بائیکاٹ کرنے کا حکمران اتحاد کو کیا خوفناک نقصان ہو گا ؟

کراچی (ویب ڈیسک) ماہر قانون رشید اے رضوی نے کہا ہے کہ حکومت کو یا تو شروع سے عدالت نہیں جانا چاہئے تھا جب گئے تھے تو میرٹ پر کیس لڑتے ڈیس مس ہوجانے کے بعد بائیکاٹ کرنا جوڈیشل موت ہے ۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ حکمراں اتحاد کا ججوں

پر اعتراض کا طریقہ مناسب نہیں ہے، سینئر تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا کہ سیاستدان اتفاق رائے پیدا کرنے کے بجائے قوم کو تقسیم کررہے ہیں،نواز شریف کے ترجمان محمد زبیر نے کہا کہ ججز عملی مظاہرہ کریں کہ ان کو کسی کا ڈر خوف نہیں ۔ جیو نیوز کے پروگرام

’آپس کی بات‘ میں میزبان منیب فاروق سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر قانون رشید اے رضوی نے کہا کہ لوگوں کو منفی تاثر جائے گا کہ حکومت اور اتنی سیاسی پارٹیوں کو اعتماد نہیں ہے جبکہ حکومت نے بائیکاٹ کا کیا ہے یہ خودکشی کے مترادف ہے ضروری تھا یہ کیس لڑیں۔

یا تو وہ شروع سے نہیں جاتے جب گئے تھے تو میرٹ پر کیس لڑتے ڈیس مس ہوجانے کے بعد بائیکاٹ کرنا جوڈیشل خودکشی ہے اب انہوں نے اپنے مخالف کا کام آسان کر دیا۔جوڈیشل سسٹم میں نے جتنا دیکھا ہے عموماً چیف جسٹس کے اپنے پسندیدہ ججز ہوتے ہیں اور وہ بنچ بناتے ہیں تو اپنے فیورٹ ججز کو ہی رکھتے ہیں تاکہ کوئی ڈیسنٹ کم ہو ۔

سجاد علی شاہ ، ناظم حسین شاہ اور افتخار چوہدری ان سب کے بھی اپنے پسندیدہ ہوتے ہیں ثاقب نثار کے بھی آصف سعید کھوسہ کے بھی یہ تاثر ہونا نہیں چاہیے جب ہم بات کرتے ہیں آزاد جوڈیشری تو اس کا یہ بھی پہلو ہے کہ چیف جسٹس اپنے ساتھ سینئر ججز کو بھی اہم ایشوز پر بیٹھایا کریں ۔

لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ کیا بات ہے کہ کیوں یہ تین آدمیوں کے پاس یہ ایشو جاتے ہیں۔تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا کہ ہماری سپریم کورٹ پر جو عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے یہ بائیکاٹ قابل مذمت ہے ۔ لوگوں کے تاثر پر عدلیہ کو نہیں جانا چاہیے۔ حکومتی اجلاس ہوجاتا اعلامیہ جاری کر دیتے کہ اس بنچ پر اعتماد نہیں ہے شائستہ انداز میں کہہ دیتے یا پھر حکومتی وکلاء کہہ دیتے کہ آپ پر ہمارے تحفظات ہیں پھر بھی ٹھیک تھا لیکن آج جو انہوں نے شرمناک پریس کانفرنسیں ہیں۔ کل بھی کہا گیا ترازو ٹھیک کریں۔جو بھی اس طرح کی باتیں کرتا ہے وہ قابل مذمت ہے ۔ نواز شریف کے ترجمان محمد زبیر نے کہا کہ پاکستان میں آئینی بحران ہے اور بار بار 63-1 کی تشریح پر بار بار عدالت کیسز جاتے ہیں ابھی کسی اسمبلی ممبرکو نہیں پتہ کہ میں کراس لائن کر کے ووٹ دوں گا تو ا سکا نتیجہ کیا ہوگا نہ اسپیکر کو پتہ ہے نہ ممبر کو پتہ ہے کسی کیس میں کہیں گے کاؤنٹ ہوں گے کسی میں کہیں گے نہیں ہوں گے یہ ایک دفعہ کا مسئلہ نہیں ہے یہ پھر اٹھے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.