سینئر صحافی نے پاکستانیوں کو اہم خبر دے دی

سینئر صحافی نے پاکستانیوں کو اہم خبر دے دی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد بلال غوری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔کئی دن بعد بھی یہ بحث جاری ہے کہ ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف غیر متوقع طور پر زیادہ نشستیں جیتنے میں کیوں کامیا ب رہی اور مسلم لیگ (ن)کو حکومت میں ہوتے ہوئے شکست کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مشکل فیصلے انتخابات میں ناکامی کا سبب بنے ،مہنگائی نے عوام کو مشتعل کردیا ۔ایک رائے یہ کہ چونکہ مسلم لیگ(ن)نے لوٹوں کو ٹکٹ دیا لہٰذا ووٹر اور سپورٹر نے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا ۔اسی طرح کچھ لوگ ان خدشات کا اظہار بھی کررہے ہیں کہ ڈبل گیم ہوئی اور

مسلم لیگ(ن)کے ساتھ ہاتھ ہوگیا ۔یہ سب تاویلیں شاید کسی حد تک درست ہوں مگر میری دانست میں بنیادی وجہ کوئی اور ہے۔مثال کے طور پر کئی حلقوں میں تحریک انصاف نے ان امیدواروں کو ٹکٹ دیا جنہوں نے گزشتہ الیکشن شیر کے انتخابی نشان پر لڑا تھا۔پی پی 90بھکر سے مسلم لیگ (ن) کے سابق جنرل سیکریٹری اور 2018ء میں سعید اکبر نوانی کے خلاف شیر کے انتخابی نشانی پر الیکشن لڑنے والے عرفان اللہ خان نیازی کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ دیا گیا۔

اسی طرح پی پی 224لودھراں سے عامر اقبال شاہ مسلم لیگ (ن)کے ٹکٹ پر 2018ء کا الیکشن چند ہزار ووٹوں سے ہارگئے تھے مگر اس بار پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر جیت گئے ۔یعنی تحریک انصاف کے ’لوٹے‘ جو مسلم لیگ(ن)میں گئے وہ ہار گئے اور مسلم لیگ (ن)کے لوٹے جنہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی وہ سرخرو ہوئے گویا یہ الیکشن اس بنیاد پر نہیں لڑے گئے کہ

بے پیندے کے لوٹوں کو شکست دینی ہے۔جہاں تک مشکل فیصلوں کا تعلق ہے تو عمران خان کے دورِ حکومت میں ڈالر 118روپے سے 175روپے تک جا پہنچا ۔بجلی ،گیس ،پیٹرول ،ادویات سمیت کیا کچھ مہنگا نہیں ہوا لیکن اس کے چاہنے والے اور پرستار کہتے تھے

پیٹرول 300 روپے کا لیٹر ہو جائے تو بھی کوئی پروا نہیں ۔تو پھر آخر یہ چمتکار کیسے ہوا؟پاکستان میں سیاست نعروں اور بیانیے کے گرد گھومتی ہے ۔ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کو للکارا ،معاہدہ تاشقند کی مبینہ خفیہ شق کا چرچہ کیا ،پیپلز پارٹی کے قیام کے وقت روٹی ،کپڑا اور مکان کا نعرہ دیا ،عوام ان کی شخصیت کے سحر میں کھوگئے۔یہ تو بھٹو کا عروج تھا ،ان کے زوال کے اسباب ڈھونڈنے نکلیں تو مخالفین منجن فروشی میں آگے نکل گئے۔تحریک شروع تو انتخابات میں دھاندلی کے خلاف ہوئی تھی مگر دیکھتے ہی دیکھتے نظام مصطفی کے نفاذ کی تحریک بن گئی۔جب بھٹو کی حکومت گرانے اور تختہ دار پر پہنچانے کا ہدف پورا ہوگیاتو پھر کہاں کی تحریک اور کہاں گیا نظام مصطفی۔نوے کی دہائی میں انتخابات جیتنے کیلئے کیا کچھ نہیں کیا گیا؟بینظیر بھٹو اور زرداری کی بدعنوانی کے فسانے زبان زدعام ہوئے تو نواز شریف دوتہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب۔ 2002ء کے انتخابات تو سیاسی بندوبست کا شاخسانہ تھے مگر دسمبر2007ء میں بینظیر بھٹو ناگہانی موت کا شکار نہ ہوتیں تو کیا پیپلز پارٹی انتخابات جیت کر حکومت بنا سکتی تھی؟2018ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے پاس ایک زبردست بیانیہ تھا ۔یہی وجہ ہے کہ پولیٹیکل انجینئرنگ کے باوجود مقبولیت کم نہیں کی جا سکی۔پی ٹی آئی کے حکومت میں ہوتے ہوئے جتنے ضمنی انتخابات ہوئے ،ان میں سے بیشتر مسلم لیگ (ن) نے جیتے۔ کیوں؟کیونکہ بیانیہ بنانے کے فن میں مطلوبہ صلاحیتیں نہ ہونے کے باوجود ان کے پاس ’ووٹ کو عزت دو‘

اور ’سویلین بالادستی‘ جیسے پرکشش نعرے تھے ۔مگر اب ان کے پاس حکومت تو ہے بیانیہ نہیں ہے اور حکومت بھی مٹھی میں بند ریت کی مانند پھسل رہی ہے ۔عمران خان کی خوبی یہ ہے کہ وہ ایک دن کسی کو پنجاب کا سب سے بڑا چور کہہ کر للکارنا شروع کردیں تو ان کے پیروکار کہتے ہیں جو کپتان نے فرمایا ،وہ سب قوم کا سرمایہ لیکن اگلے دن جب اسے پنجاب کا سب سے بڑا لڑاکا بنا کر پیش کرتے ہیں تو ایسے فضائل بیان کئے جاتے ہیں کہ ان کے معتقد اش اش کر اُٹھتے ہیں ۔ ۔ باقی سیاسی جماعتیں ابھی تک پرانے دور میں رہ رہی ہیں مگر عمران خان نت نئے انداز میں ڈیجیٹل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے اس نئے ووٹر تک پہنچتے ہیں جسے پہلی بار ووٹ کاسٹ کرنا ہے۔انہیں معلوم ہے کہ پیپلز پارٹی کا ووٹ ٹوٹ کر ان کی طرف آئے گا ،اسلئے وہ بھٹو کی تعریف کرتے ہیں اور اپنا موازنہ بھٹو سے کرتے ہیں ۔ایک بار انہوں نے کسی تقریر میں خود یہ بات کہی تھی کہ مائنڈ گیم کا تو میں ماسٹر ہوں حقیقت یہ ہے کہ وہ ماسٹر نہیں بلکہ ہیڈ ماسٹر ہیں ۔ آپ ان سے نفرت کریں ،ان کی مخالفت کریں یا حسد کی آگ میں جلیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ففتھ جنریشن وار نام کی کوئی چیز وجود رکھتی ہے تو اس کے سرخیل عمران خان ہیں۔سوال تو یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ (ن)کو دھکا کس نے دیا ؟آخر کیا وجہ تھی کہ مسلم لیگ (ن)نے حکومت سنبھالنے کے بعد انتخابات کروانے کے بجائے باقیماندہ مدت پوری کرنے کا فیصلہ کرکے اس ٹوکرے کو سر پر اُٹھالیا جسے مریم نواز گند کا ٹوکرا کہا کرتی تھیں۔انسان ہمیشہ پانے کے خمار اور کھونے کے آزار کے باعث نقصان اُٹھاتا ہے۔اقتدار کی خواہش اور اسے کھودینے کے اندیشے نے مسلم لیگ(ن)کو یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کیا ۔کچھ لوگ اس اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلا تھے کہ 29نومبر 2022ء کی اہم ترین تعیناتی سے پہلے حکومت کوتبدیل نہیں ہونا چاہئے ۔لیکن صورتحال یہ ہے کہ اگر فوری طور پر قومی اسمبلی تحلیل ہوجائے تو نومبر کے شروع میں نئی حکومت آجائے گی۔گویا یہ ممکن ہے کہ عام انتخابات جیتنے کے بعد اہم فیصلہ عمران خان ہی کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.