مولانا فضل الرحمٰن کا بڑا دعویٰ

مولانا فضل الرحمٰن کا بڑا دعویٰ

بنوں(ویب ڈیسک ) جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ عمران خان حدود میں رہو،

زمین اتنی گرم کردینگے، یوتھیےتلوے نہیں رکھ سکیں گے ،تمہاری چھوٹی چھوٹی تتلیوں کے پر اس گرمی کو گرداشت نہیں کرسکیں گے،

عمران خان تم حد میں رہو،شہباز شریف غیر ضروری شرافت دکھا رہے ہیں، رانا ثنا اللہ کو حرکت میں لانا چاہیے،ہمارے لیے انتہائی پریشان کن صورتحال ہے،

عمران حکومت کا خاتمہ ناگزیر تھا وہ ملک کو 3 ٹکڑوں میں تقسیم کر رہے ہیں، ہم بیرونی سازشوں کے مقابلے میں میدان میں آئے ہیں ، بنوں میوہ خیل میں خیبرپختونخوا کے اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی

کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا مولانا فضل الرحمان نے عمران خان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے حکومت سے کہا ہے اگر عمران پاکستان کے معززین کو قید میں ٹھونستے ہیں تو اس کو بھی ڈالا جائے،،

اس کے خلاف اتنے بڑے بڑے کیسز پڑے ہیں، عمران خان اپنی حدود میں رہو، جمعیت علما ابھی زندہ ہیں قانون بنانے کا حق پارلیمنٹ کو ہے عدالت کو نہیں۔انھوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ناگزیر تھا وہ ملک کو 3 ٹکڑوں میں تقسیم کر رہے ہیں،

ہم بیرونی سازشوں کے مقابلے میں میدان میں آئے ہیں، بے حیائی عریانی کوعمران خان نے پروان چڑھایا، یہی فوج تھی جس کوآپ کو سپورٹ کر رہے تھے آج وہ جانور بن گئے، 20 سیٹوں کی تنائج پر خوشی ہے ،جب فارن فنڈنگ کیس کی بات آگئی تو الیکشن کمشنر کو غلط ٹھہرایا جاتا ہے، فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کیوں موخر کیا جارہا ہے عدالت کو انصاف کا پورا اختیار حاصل ہے ،وہ پارلیمنٹ کے حق کو نہیں چھین سکتا،رولنگ پارلیمنٹ کے اندر آئین شکنی تھی الیکشن 2018 کے بعد ہم نے جو رائے دی ہے اسی پر قائم ہیں، حکومت قلیل فیصلے کرے طویل نہیں اتحادی جماعتیں ملک کو مشاورت کے ساتھ چلانا چاہتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف معاہدے کے لیے ہم نے کہا کہ نئی شرائط رکھ کر معاہدہ کریں ،مہنگائی کے حوالے سے بہت پریشان ہوں، ایسا نہ ہو حالات کی وجہ حکومت چلی جائے حکومت کو رائے دیتے ہیں کہ مہنگائی کم کر ے ، الیکشن کے حوالے ہم نے کہا تھا کہ ملتوی کریں لیکن ہماری نہیں مانی گئی ہم نے امن و امان کے لئے فوج کو پورے قبائل میں چھوڑ دیا کہ امن قائم ہوسکے، لوگ اپنے ملک میں پناہ گز ین بن گئے ہیں، ہم اداروں کی عزت کرتے ہیں، قیام امن کے باوجود ہم ان خالات سے دو چار ہیں،

Leave a Reply

Your email address will not be published.