کچھ جاندار حقائق

کچھ جاندار حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سعد اللہ شاہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔محفل سے اٹھ نہ جائیں کہیں خامشی کے ساتھ ہم سے نہ کوئی بات کرے بے رخی کے ساتھ اپنا تو اصل زر سے بھی نقصان بڑھ گیا سچ مچ کا عشق مر گیا اک دل لگی کے ساتھ اتحادیوں کو لینے کے دینے پڑ گئے ہیں۔

اتحادی مشکل وقت میں ایسے اکٹھے ہوئے جیسے کہ منیر نیازی نے کہا تھا اپنے اپنے خوف وچ اک دوجے نال ،جڑے ہوئے نیں شہر دے مکان۔پہلی دفعہ مجھے محسوس ہوا کہ انہوں نے بھی عمران خاں سے سیکھ لیا ہے کہ آخری وقت تک لڑنا ہے۔انہوں نے اعلان کر دیا ہے کہ وفاقی حکومت مدت پوری کرے گی۔

واقعتاً مدت ہی پوری کرے گی۔مجھے استاد سلامت علی خاں کا دلچسپ واقعہ یاد آ گیا کہ انہوں نے خود سنایا تھا۔وہ اسلام آباد سٹوڈیو پہنچے تو پتہ چلا کہ عیسیٰ خیلوی کی ریکارڈنگ ہو رہی ہے، انہیں کچھ انتظار کرنا پڑے گا، اب استادسلامت علی خان جیسے مہان استاد کو انتظار کرنا پڑا تو یقینا ان پر بار بھی تھا اور ناگوار۔

مگر مجبوری ،ساتھ شاگرد بھی تھے، انتظار ساڑھے سات بجے تک کرنا تھا کہ عیسیٰ خیلوی کی ریکارڈنگ ختم ہونا تھی، اتنے میں قریب ہی ایک سارنگی والا ریاضت کرنے لگا وہ سارنگی بجاتے ہوئے بے سرا ہو گیا۔ایک شاگرد نے سلامت علی خاں سے کہا استاد یہ کیا بجا رہا ہے استاد نے جھلا کر کہا یہ ساڑھے سات بجا رہا ہے۔

مجھے شک پڑتا ہے کہ زرداری کوئی کھیل ڈالیں گے زرداری نے حمزہ شریف کو پاس بٹھا کر حوصلہ بھی دیا لیکن یقین ان کو بھی کم ہی ہو گا ایسے شعر یاد آ گیا: بے یقینی میں کبھی سعد سفر مت کرنا یہ تو کشتی میں بھی گرداب بنا دیتی ہے اگرچہ ضمنی الیکشنوں کی ہار ان کی سبکی کا باعث بنی ہے اور لوٹوں کے ساتھ ساتھ ان میں بھی اچھا خاصا ڈینٹ ڈال گئی ہے۔بعض ن لیگی اپنے آپ کو یہ کہہ کر تسلیاں دے رہے ہیں

کہ یہ سیٹیں تو تھیں ہی منحرف ارکان کی، اور وہ تھے پی ٹی آئی کے۔ن لیگ کو تو الٹا پانچ سیٹوں کا فائدہ ہو گیا ۔ایک بے چینی ن لیگ میں پائی جاتی ہے اور وہ خود نواز شریف کی واپسی کا مطالبہ کرنے لگے ہیں۔ دوسری طرف عمران خاں پندرہ سیٹیں جیت کر بھی مطمئن نہیں شاید وہ دور اندیش ہیں یا ان کے دل میں کچھ اور ہے لوگ حیران ہیں کہ یار پندرہ سیٹوں پر بھی وہ خوش نہیں‘کیا اس نے بیس میں سے بائیس سیٹیں نکالنا تھیں۔ نہیں جناب معاملہ کچھ اور ہے اور وہ خان صاحب کے مطالبہ سے پوری طرح عیاں ہے وہ الیکشن کمیشن کو نشانے پر رکھے ہوئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس الیکشن کمیشن کے ہوتے شفاف الیکشن ممکن نہیں۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن نے بھی خود کو غیر جانبدار رکھ کر ثابت کیا ہے کہ وہ بھی نیوٹرل ہے۔ پرویز الٰہی نے تو گھی کے چراغ جلائے ہیں ،سارے معرکے کا فائدہ یقینا ان کو پہنچے گا۔ ہم تو پہلے ہی ترے حق میں تہی دست ہوئے ایسے گھائل پہ نشانے کی ضرورت کیا تھی اس وقت عمران خاں کے پاس مقبولیت کی طاقت ہے۔دوسری طرف ن لیگ کی غلط فہمی بری طرح ختم ہو گئی کہ لوگ ان کے ٹکٹ پر مر جاتے ہیں اب تو سچ مچ مر گئے ہاں تو وہ بات تو درمیان میں رہ گئی کہ خان صاحب جیت کر بھی ناخوش کیوں ہیں جی ہاں وہ فارن فنڈنگ کیس ہے۔ حالات کسی اور طرف جا رہے ہیں،

حسن مرتضیٰ نے درست کہا ہے کہ حکومت نیازی کی پچ پر نہیں کھیلے گی بلکہ وہ تو کھیلانا چاہتے ہیں اپنے اصولوں پر، پہلے تو یہ ہوتا تھا کہ ادارے بہت مضبوط ہوتے تھے ظاہر ہے ادارے تو ادارے ہوتے ہیں اب کے تو مطالبات سے ایسے لگتا ہے کہ شاید ادارے ہی ساری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ لیکن ایسا ہونا ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ کوئی پہلے اداروں کو اپنی مرضی کے مطابق لائے یعنی اپنی مرضی کے بندے لائے ۔حالات زیادہ مخدوش ہوتے جا رہے ہیں ڈالر 227روپے پر پہنچ گیا سونا 2800روپے مہنگا ہو گیا مگر سونے سے ہمارا کیا لینا دینا کہ ہمارا سونا بھی مشکل ہے: ہم بھی سوتے تھے کوئی یاد سرہانے رکھ کر ہاں مگر گردش ایام سے پہلے پہلے پنجاب کا معاملہ ہی سدھرنے نہیں پا رہا. رانا ثناء اللہ بھی مولا جٹ بن گئے ہیں کہ اے ڈولی نہیں اٹھے گی۔ ان کی وارننگز پر پرویز الٰہی نے رانا ثناء اللہ حمزہ اور مریم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست بھی جڑ دی ہے۔لگتا ہے الیکشن کے بعد آئی جی اور سپیکر چیف سیکرٹری کو بھی بھگتنا پڑے گا۔اس وقت خان صاحب کے پیش نظر فوری انتخاب ہیں ۔سب یہی محسوس کر رہے ہیں کہ اب صرف اور صرف نواز شریف ہی ن لیگ ہیں تازہ روح پھونک سکتی ہیں اور اس میں دوسری رائے نہیں کہ وہ ن لیگ میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ شہباز شریف اینڈ پارٹی نے ان کے لئے بھی مشکلات پیدا کر دی ہیں ۔عمران خاں کو بھی اب اپنے ساتھ سنجیدہ اور پرخلوص لوگوں کو رکھنا چاہیے وگرنہ ان کے بعض ساتھی تو پورس کے ہاتھی تھے۔ یہ بات الگ کہ سکھایا ہے ٹھوکروں نے مجھے وگرنہ جو بھی ملا راستے کا پتھر تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published.