کمزور ترین جمہوریت بھی فوجی حکومت سے بہتر ۔۔۔۔سابق وزیراعظم عمران خان کا تازہ ترین بیان

کمزور ترین جمہوریت بھی فوجی حکومت سے بہتر ۔۔۔۔سابق وزیراعظم عمران خان کا تازہ ترین بیان

کراچی (ویب ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اورسابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک میں یہ اتفاق رائے موجود ہے کہ ایک کمزور جمہوری حکومت بھی فوجی حکومت سے بہتر ہوتی ہے،ہر مرتبہ فوجی مداخلت کے بعد ہم پیچھے چلے جاتے ہیں ، اس لئے جمہوریت پھل پھول نہیں رہی،

پاکستان میں زیادہ عرصے فوج کی حکومت رہی ۔ عمران خان نے آسڑیلوی چینل کی بھارت میں مقیم نمائندہ کو انٹرویو میں کہا کہ جب فوجی مداخلت ہوتی ہے تو ہم پھر سے پیچھے چلے جاتے ہیں لہٰذا دیکھنا یہ ہوگا کہ ہمارے ملک میں جمہوریت کیوں پھل پھول نہیں رہی؟

جمہوری اقدار کیوں فروغ نہیں پارہے؟ جمہوری ادارے مضبوط نہیں ہیں کیونکہ جب فوج اقتدار میں آتی ہے تو سب کچھ پیچھے چلاجاتا ہے جمہوریت پنپ نہیں پاتی، جولائی 2018میں وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد عمران خان نے بدعنوانی سے لڑائی کے عزم کا اظہار کیا تھا، انہوں نے کہا تھاکہ ان کی حکومت بڑھتی قیمتوں میں اعتدال اور اقتصادیات کی بہتری کیلئے پرعزم ہے

تاہم جیسے جیسے مہنگائی میں اضافہ ہوا، اپوزیشن جماعتوں نے انہیں مورد الزام ٹھہراتے ہوئے تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا،عمران خان کی جگہ لینے والوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اقتصادی دیوالیہ پن ورثے میں چھوڑا ہے، عمران خان کا اس بات پر زور ہے کہ عالمی وبا کے مضمرات اور اشیاء صرف کی قیمتوں میں دنیا بھر میں اضافہ ہوا ،

ان سے کامیابی کے ساتھ نمٹا گیا لیکن ’’ریجیم چینج‘‘ نے مارکیٹ کا دیوالیہ نکال دیا، ملک میں کسی بھی منتخب وزیراعظم نے اپنی آئینی مدت مکمل نہیں کی، عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کو اقتدار سے محروم کیا جانا کچھ مختلف رہا، کیونکہ ان کی حکومت کو بدعنوانی کا الزام لگاکر فارغ نہیں کیا جاسکا،

پاکستان میں عرصہ دراز فوجی حکومتیں رہیں جس کی اہمیت پاکستان کو بھارت سے درپیش خطرات کے باعث رہی،پاکستان میں دو خاندانوں نے 30سال ملک پر حکومت کی یہ دونوں جماعتیں آپس میں دست و گریباں رہیں اب وہ اپنی چوری بچانے کیلئے ایک ہوگئیں،

عمران خان کے مطابق ان کی جگہ لینے والی شہباز شریف کی کابینہ کے 60فیصد ارکان ضمانتوں پر ہیں، کوئی اقتصادی روڈ میپ لانے کے بجائے حکمراں اپنی اربوں کی چوری بچانے کی جدوجہد کررہے ہیں۔ پاکستان میں غیرملکی مداخلت کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں امریکی مداخلت کے ان کے پاس ثبوت ہیں،7؍مارچ 2022کو جنوبی اور وسط ایشیائی امور کے امریکی معاون وزیر خارجہ ڈونلڈ لو نے پاکستانی سفیر اسد مجید کو پیغام بھیجا کہ اگر عمران خان کو ہٹا دیا جائے تو پاکستان کو معاف کردیا جائیگا۔ انہوں نے اس الزام کی تحقیقات کا مطالبہ کیا کہ امریکا ریجیم چینج میں شامل رہا۔ امریکا محکمہ خارجہ کے ترجمان نے عمران خان کے دعوے کو غلط قرار دیا۔ عمران خان پاکستان میں کسی غیرملکی مداخلت کے مخالف ہیں اور غیرملکی حکومتوں کی معاونت نہیں چاہتے، یہ عوام کو فیصلہ کرنا چاہئے کہ کون ان کیلئے بہتر حکمراں ہے اور اس کیلئے کیوں نہ آئندہ انتخابات تک انتظام کیا جاتا۔ جو 2023میں ہونے تھے۔ یہ 22کروڑ کی آبادی والے ملک کیلئے توہین آمیز ہے کہ منتخب وزیراعظم کو اس طرح گھر بھیج دیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.