عمران خان چیئرمین نیب کو فون کر کے کیا کہتے تھے؟عون چوہدری کے تہلکہ خیز انکشافات

عمران خان چیئرمین نیب کو فون کر کے کیا کہتے تھے؟عون چوہدری کے تہلکہ خیز انکشافات

کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی اور عمران خان کے قریبی ساتھی عون چوہدری نے بتایا کہ آپ اپنے دوستوں کے ایسے فون کرسکتے ہیں کہ

ان کے کیس بند کرادئیے جائیں
تب آپ کے اصول کہاں جاتے ہیں ، عمران نے چیئرمین نیب کو فون کرکے کئی دوستوں کے کیسز بند کروائے ، انہوں نے بتایاکہ خان صاحب خود اپنی نجی محفلوں میں بیٹھ کر کہتے تھے کہ

پرویز خٹک کو اس لیے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نہیں بنایا کہ وہ میری بات نہیں مانتا تھا، جہانگیر ترین اور علیم خان کی ٹیم
دھرنے میں لائٹنگ سے لیکر ٹرانسپورٹ تک کے معاملات سنبھالتی تھی، انہوں نے بتایا کہ بطور وزیراعلیٰ میں سمجھتا ہوں پرویز خٹک بڑے باشعور سیاسی بصیرت رکھنے والے سیاستدان ہیں۔

عون چوہدری نے بتایا کہ پرویز خٹک کو جو سیاسی بصیرت سے سمجھ آتی تھی وہ وہ کرتے تھے اس کا انہیں فائدہ ہوتا تھا،
پی ٹی آئی کو بھی فائدہ ہوتا تھا ،انہوں نے اتحادی حکومت زبردست طریقے سےچلائی ،

پی ٹی آئی کے سابق رہنما عون چوہدری نے بتایا کہ عمران خان ایک کمزور شخص کو لانا چاہتے تھے جو ان کی بات مانیں، عون چوہدری نے بتایا کہ ترین سے میرا صرف سیاسی تعلق نہیں ہے

ان سے فیملی تعلق ہے، ان کی بیگم کو میں والدہ کا درجہ دیتا ہوں، وہ میری ماں کی طرح ہیں اور ان سے بچوں کی طرح میرا ان کا ایک رشتہ ہے یہ ایسے رشتے ہوتے ہیں جو سیاست سے بالاتر ہوتے ہیں، جہاں ایسے رشتے ہوں وہاں سیاست کو کچھ نہیں سمجھتا ،

جو ترین کے ساتھ کیا ہے اور جو ترین صاحب کی خدمات ہیں پارٹی کے لیے دھرنے سے لے کر حکومت کو بنانے کے وقت تک حکومت ریفارم کی ایک ایک ایم این اے ایم پی اے کو بلا کر مرکز میں بھی حکومت بنائی صوبے میں بھی بنائی اور انہوں نے ان کے بچوں تک پر ایف آئی آرکاٹی۔

Comments are closed.