میری پارٹی رہے یا نہ رہے میری حکومت بنے یا نہ بنے ان تین لوگوں کو کسی صورت میں پارٹی میں واپس نہیں لوں گا

میری پارٹی رہے یا نہ رہے میری حکومت بنے یا نہ بنے ان تین لوگوں کو کسی صورت میں پارٹی میں واپس نہیں لوں گا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) 1999میں جب نوازشریف کی حکومت ملک میں مارشل لا لگا کر ختم کردی گئی اورشریف خاندان ایک ڈیل کے تحت سعودی عرب روانہ ہو گیا تھا۔

تب مسلم لیگ (ن)کا سیاسی مستقل شدید خطرات سے دوچار ہو گیا تھا ۔ کیونکہ جہاں میاں برادرا ن ملک چھوڑ کر چلے جانے پر مجبور ہوگئے تھے۔

وہیں پارٹی کے کئی سینئر رہنما تتر بتر ہو گئے تھے کئی ایسی شخصیات تھیں جنھوں نے اس وقت کے چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف سے ہاتھ ملا کر ان کی حکومت بنوائی اور

پھر اس کا حصہ بن گئے تھے۔ ان میں تین لوگ نمایاں تھے۔ ایک موجودہ وزیر داخلہ شیخ رشید اوردو مزید شخصیات چودھری برادران تھے جو بعد میں مشرف کی کابینہ کا بھی حصہ بنے تھے۔

اس موقع پر معزول ہونے والے وزیراعظم نے کچھ الفاظ کہے تھے ، وہ یہ تھے کہ آئندہ میری حکومت بنے یا نہیں،میری پارٹی رہے یا نہیں ، ان تین لوگوں کو کبھی پارٹی میں دوبارہ شامل نہیں کیا جائے گا۔ شیخ رشید نے خود اعتراف کیا کہ پارٹی میں واپسی کے لئے انھوں نے شہبازشریف سے خصوصی درخواست بھی کی تھی

لیکن میاں نوازشریف نے اپنے چھوٹے بھائی کی سفارش کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے آرمی چیف کی تقرری کے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں ابھی دو مہینے ہیں، تاریخ کا فیصلہ یہ ہے کہ

چار آرمی چیف نواز شریف نے مقرر کیے تھے، پانچواں نواز شریف کا بھائی مقرر کرنے جا رہا ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں  نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی میں اتفاق رائےکہاں سے آیا؟ کسی آئین، قانون میں نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *