لاش کے ناخن کئی کئی انچ لمبے ، جسم دودھ کی طرح سفید ،دریائے راوی سے غوطہ خوروں نے نکالی ایسی لاش جسے نکالتے ہی غوطہ خور اسے چومنے پر مجبور ہوگئ

لاش کے ناخن کئی کئی انچ لمبے ، جسم دودھ کی طرح سفید ،دریائے راوی سے غوطہ خوروں نے نکالی ایسی لاش جسے نکالتے ہی غوطہ خور اسے چومنے پر مجبور ہوگئ

لاش کے ناخن کئی کئی انچ لمبے ، جسم دودھ کی طرح سفید ،دریائے راوی سے غوطہ خوروں نے نکالی ایسی لاش جسے نکالتے ہی غوطہ خور اسے چومنے پر مجبور ہوگئ

پاکستان میں خدا ترس لوگوں کی کمی نہیں لیکن ہماری آج کی کہانی دریائے راوی میں ڈوبنے والوں کی نعشیں نکالنے والے غوطہ خوروں کی ہے جو تقریباً اپنی مدد آپ کے تحت راوی میں

خود سوزی کیلئے چھ لانگ لگانے والوں یا راوی میں حادثات کی نذر ہو کر ڈوب جانے والوں کی نعشیں نکال رہے ہیں ۔ سول ڈیفینس سے متعلقہ یہ چند افراد اپنی کشتی میں پٹرول تک اپنے

پیسوں کا ڈلواتے ہیں ۔ اوصاف ڈیجیٹل کو انٹرویو میں انہوںنے بتایا کہ پانی سے نکالی جانے والی نعشیں بہت فرسودہ حالت میں ہوتی ہیں ۔ ان کے جسم انڈے کی طرح سفید پڑ چکے ہوتے ہیں اور

بعض حالات میں ان کے ناخن بھی جلد کھنچ جانے کی وجہ سے کافی بڑے ہو چکے ہوتے ہیں مگر سلام ہے ان سول ڈیفنس لاہور کے ملازمین کو جن کے پاس نہ تو کوئی غوطہ خوری کا سامان ہے ناں ہی آکسیجن سلنڈرز

مگر پھر بھی یہ بناکسی اوزار کے نعشوں کے دریا سے نکال کر انہیں غسل دیتے اور دفناتے ہیں ۔ ملازمین کے سپر وائزر نے بتایا کہ یہ لوگ ان بڑے دل والے ہیں کہ جن نعشوں کو کوئی ہاتھ لگانے کو تیار نہیں ہوتا یہ انہیں دفناتے وقت ان کے ماتھے تک چومتے ہیں ۔

یہاں یہ بھی واضح رہے کہ دریائے راوی میں اترنا بھی بڑے دل گردے کی بات ہے کیونکہ اس بپھرے ہوئے دریا میں دیو قامت آدم خور کچھووں کا بسیرا بھی ہے جو آن کی آن میں پورا انسان پانی میں کھینچ لے جاتے ہیں اور اسے چٹ کر جاتے ہیں ۔ یہ دیو قامت کچھووے ان غوطہ خوروں کیلئے بھی ایک مستقل درد سر ہیں تاہم اس خوف کو ان غوطہ خوروں نے خود پر کبھی طاری نہیں ہونے دیا اور یہ شب و روز انسانیت کی خدمت میں مصروف عمل رہتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *