نظر بد کی نشانیاں اور ان کا روحانی علاج

نظر بد کی نشانیاں اور ان کا روحانی علاج

قدیم روایات سے پتہ چلتا ہے کہ ہزاروں سالوں سے انسانی آنکھ کو جسم کا سب سے طاقتور اور اثرانداز ہونے والا جزو مانا جاتا رہاہے۔ دینا کے ہر معاشرہ میں ہمیں آنکھوں پر لکھی گئی شاعری کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ملتا ہے۔

کہیں آنکھوں کی خوبصورتی کا ذکر ہے تو کہیں کسی کی مست اور قاتل نگاہوں کے فسانے درج ملتے ہیں۔ اسی طرح جب ہم فن مصوری اور تصاویر کو لیتے ہیں تو یہاں بھی انسانی آنکھ مرکزی مقام رکھتی ہے۔ موجودہ ترقی یافتہ دور میں ایسےحفاظتی نظام بنائے گئے ہیں جن کا انحصار انسانی آنکھ پر ہے۔

انسانی قوت اور ترقی کی علامت ہے اور انسان کے علاوہ دنیا میں کوئی اور ایسی مخلوق نہیں جس کی آنکھ میں یہ اثر ہو۔ یہودیت سےعیسائیت اور اسلام تک اور پھر ہندو مذہب سے افریقی قبائل تک، قدیم تہذیبوں سے جدید دنیا تک ہمیں ہر جگہ انسانی آنکھ کے اثرات کی ان گنت داستانیں ملتی ہیں۔

انسانی آنکھ طاقتور ترین قوت کا مرکز ہے۔ قوت دو طرح سے استعمال کی جا سکتی ہے۔ تعمیری اور تخریبی دونوں کاموں میں قوت کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی سب سے واضح مثال ایٹم ہے جس سےہم بجلی پیدا کر کے اندھیروں میں روشنی بکھیر سکتے ہیں اور دوسری طرف اسی ایٹم سے بم بنا کر نسل انسانی کو مٹا سکتے ہیں

انسانی تاریخ میں ایسے ہزاروں واقعات ملتے ہیں جن میں انسان آنکھ کی تخریبی یا منفی اثرات کا ذکر ملتا ہے۔ یہ واقعات کچھ داستانوں اور کچھ حقائق پر مبنی ہیں۔ انسانی آنکھ سے خارج ہونے والی منفی قوت یا منفی شعاعوں میں یہ اثر ہے کہ وہ کسی کی زندگی میں بہت مشکلات لانے کا سبب بنتی ہیں۔

انسانی آنکھ سے جب منفی قوت خارج ہوتی ہے تو اسے عام اصطلاح میں ‘ نظر بد ‘ کہا جاتا ہے۔ نظر بد کی وجہ سے کوئی بھی انسان بیمار پڑ سکتا ہے اور ایک خوش قمست ترین انسان دنیا کے بدقسمت انسانوں میں شامل ہو جاتا ہے۔
نظر بد کی عمومی وجہ حسد ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عربی زبان میں نظر بد کو عین الحسود بھی کہا جاتا ہے۔

حسد ایک ایسی منفی قوت ہے کہ جو دوسرے کی زندگی تک کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ نظر بد ایسی منفی شعاعیں خارج کرتی ہے جس سے متاثر ہونے والے انسان کے ارد گرد ہر وقت ایک منفی قوت کا دائرہ بن جاتا ہے۔ نظر بد لگانے والا دوسروں کے متعلق بری سوچ رکھتا ہے۔ ایسے شخص کی آنکھ دوسرے کو روحانی اور جسمانی نقصان پہچانے کا باعث بنتی ہے۔ نظر بد کی وجہ سے ایک خوش حال اور کامیاب انسان کی زندگی بدقسمتی، صحت کے مسائل اور شدید بیماری کا شکار ہو جاتی ہے۔ کامیابی سے چلتا کاروبار یک دم خسارہ میں چلا جاتا ہے اور آخر اسے بند کرنے کی نوبت آ جاتی ہے۔ ایک امیر آدمی مختصر عرصہ میں غربت کی زندگی گذارنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ لاتعداد ایسے افراد بھی ہیں کہ لاکھ کوشش کے باوجود وہ اولاد کی نعمت سے محروم رہتے ہیں جبکہ طبی طور پر وہ اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اولاد سے محرومی کی ایک بڑی وجہ ایسے جوڑے کا نظر بد کا شکار ہونا بھی ہے۔ اسی طرح وہ افراد جن کی مناسب عمر میں شادی نہیں ہوپاتی اور رشتوں کے انتظار میں عمر گذرتی جاتی ہے اس کی ایک اہم وجہ اس لڑکی یا لڑکے پر نظر بد کا اثر بھی ہوتا ہے۔
اسلامی میں قرآن کریم کے بعد سب سے اہم کتاب صحیح بخاری میں ہمیں نظر بد سے متعلق بہت ساری احادیث ملتی ہیں ہم یہاں اختصار سے کام لیتے ہوئے چند احادیث آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ صحیح بخاری کی جلد 7 میں ام المومنین بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نظر بد کے اثرات کے خاتمہ کے لیے بنی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معوذتین پڑھنے کی ہدایت کی۔ اسی طرح صحیح بخاری میں ہمیں ام المومینن بی بی ام سلمی رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ملتی ہے کہ ایک لڑکی کے چہرے پر کالے نشان تھے جب بنی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیکھا تو ارشاد فرمایا کہ یہ نظر بد کا شکار ہے اس پر دم کروا دو تاکہ اس سے نظر بد کے اثرات ختم ہو جائیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں روایت ہے کہ نظر بد حقیقت ہے۔
حافظ ابن کثیر سورہ یوسف کی آیات 67-68 کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو کہا تھا کے شہر میں اس کے مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔ ابن کثیر نے مختلف صحابہ کرام(رض) سے روایت کی ہے کہ حضرت یعقوب نے ایسا اس لیے کیا کہ ان کو خدشہ تھا کہ ان کے بیٹوں کو نظر بد نہ لگے۔ ابن کثیر اپنی کتاب تفسیر ابن کثیر کی جلد 6 میں لکھتے ہیں کہ سورہ القمر کی آیت 51 نظر بد سے متعلق ہے۔
نظر بد کا شکار انسان منفی شعاعوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس کی زندگی میں تاریکی کا دور شروع ہو جاتا ہے۔ اس کا آغاز چھوٹے چھوٹے مسائل سے ہوتا ہے جن میں چابیوں، پرس، سردرد نظام ہاضمہ کی خرابی، اہم کاغذات کا گم ہو جانا سے ہوتا ہے اور پھر اس میں سختی پیدا ہو جاتی ہے زندگی میں ہر کام میں رکاوٹ کا سامنا ہوتا ہے جس سے انسان خود کو بدقسمت انسان سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شدید بیماری میں مبتلا ہونا، ملازمت کا ختم ہونا، کاروبار کا بند ہونا اور حادثات نظر بد کی شدت کی علامات ہیں۔
ہر مذہب اور معاشرہ میں نظر بد سے بچاؤ کے لیے بہت سارے اعمال اور دعائیں بیان کی گئی ہیں۔ اسلام میں بہت ساری احادیث جن میں نظر بد کے اثرات سے خاتمہ کے لیے مختلف دعاؤں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہم اپنے قارئین کے لیے چند احادیث پیش کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.