انسپکٹر نوید سعید گجر : دبنگ پولیس افسر عبرت ناک انجام تک کیسے پہنچا ؟ پڑھیئے عروج و زوال کی ایک سچی کہانی

انسپکٹر نوید سعید گجر : دبنگ پولیس افسر عبرت ناک انجام تک کیسے پہنچا ؟ پڑھیئے عروج و زوال کی ایک سچی کہانی

لاہور (نیوز ڈیسک) پولیس مقابلوں کا ماہر اور بیسیوں افراد کو ہلاک کرنے والا کروڑ پتی برطانوی شہریت کا حامل انسپکٹر نوید سعید چند مرلے زمین کے جھگڑے میں اپنے ساتھیوں سمیت موت کے گھاٹ اتر گیا۔انڈر ورلڈ کے ٹاپ ٹین کو پولیس مقابلوں میں شوٹ کرنے سے نہ صرف اسے لاہور پولیس کی تاریخ اور مجرموں کے خلاف جنگ میں اہم باب کی حیثیت ملی۔

بلکہ وہ پنجاب پولیس کا ہیرو بن گیا۔ نوید سعید کی شہرت میں اس وقت زیادہ اضافہ ہو ا جب اس نے محلاتی سازشوں کا کردار بن کر پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم پی اے سلیمان تاثیر کو پنجاب اسمبلی سے گرفتار کیا اور مزاحمت پر تھپڑ مارے اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے شوہر سینٹر آصف علی زرداری سے جسٹس نظام قتل کیس میں تفتیش کرنے کراچی پہنچا اور دوران تفتیش آصف زرداری کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس سے نہ صرف گردن پر زخم آئے بلکہ زبان کٹ گئی اور مار مار کر مبینہ طور پر بے ہوش کر دیا۔کبڈی کے کھلاڑی کے کوٹے پر بھرتی ہونے والا اسٹنٹ سب انسپکٹر اپنی بے باکی اورجرات کی وجہ سے جلد ہی اس وقت کے حکومتی ایوانوں میں داخل ہو گیا اور ان کی سیاسی شطرنج کی کھیل کا کھلاڑی بن گیا۔تقریباً 20سالہ پولیس ملازمت میں متعدد بار ملازمت سے معطل ہونے اور اپنے اثر ورسوخ سے بحال ہونے والا اور 12اکتوبر1999کو صدر پاکستان اور اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کو کراچی میں گرفتارکرنے کیلئے لاہور سے جانے والے خصوصی سکواڈ کی قیادت کرنے والا آخر کار نیب کے مقدمے سے بھی بچ نکلا۔

مگرکروڑوں کی جائیداد اور دولت کا مالک ہو نے کے باوجود مزید دولت کی ہوس میںبرطانیہ سے واپس آتے ہی لینڈ مافیا میں شمولیت اختیار کر لی اور چند ماہ بعد ہی موت کے منہ میں چلا گیا ۔پنجاب پولیس کا انسپکٹر نوید سعید جہلم کے رہائشی ریٹائرڈ صوبیدار محمد سعید کا بیٹا تھا ۔وہ گیارہ بہن بھائی تھے اور ان کا تعلق وہاں کی مشہور گجر برادری سے تھا ۔جنہوں نے ابتدائی تعلیم دلوانے کے بعد نوید سعید کو لاہور بھیج دیا اور اس نے1982میں عارف ہائی سکول دھرم پورہ لاہور سے میٹرک کا امتحان سیکنڈ ڈویژن میں پاس کیا اور بعد ازاں پرائیویٹ ایف اے کرنے کے بعد پولیس میں ملازمت اختیار کر لی ۔ میجرمحمد اکرم لاہورپولیس کے اس وقت سربراہ تھے جن کی نوید سعید سے عزیز داری تھی انھوں نے اس وقت کے اے آئی جی منیر ڈار سے سفارش کی اور کبڈی کے کھلاڑی کے کوٹے پر نوید سعید کو 1984میں اے ایس آئی بھرتی کروا دیا۔زیر تربیت تھانیدار کی حیثیت سے اس کی پہلی پوسٹنگ ضلع قصور میں ہوئی جو اس وقت لاہور رینج کا ہی حصہ تھا پھر وہ تربیت کیلئے سہالہ چلا گیا ان دنوں محمد اکرم گجر تھانہ مصطفےٰ آباد میں ایس ایچ او تھا ۔

جو نوید سعید پر خاص شفقت کیا کرتا تھا ۔پولیس میں بھرتی کا شوق بھی نوید سعید کو انسپکٹر محمد اکرم گجرنے ڈالا تھا۔ اسی دوران پنجاب پولیس کی کبڈی ٹیم صوبائی چیمپئین شپ جیت گئی جس پر زیر تربیت تھانیدار نوید سعید کو براہ راست سب انسپکٹر کے عہدے پر ترقی مل گئی اور وہ قصور سے تبدیل ہو کر شاہین فورس لاہور میں آگیا ۔ تو اس کی ڈیوٹی جاوید شاہ ،اسلم ساہی مرحوم اور عمر سلیم چیمہ جیسے مشہور پولیس افسران کے ساتھ لگ گئی ۔سابق آئی جی سندھ اور ایس ایس پی لاہور رانا مقبول احمد کے دور میں نوید سعید لاہور کے اہم تھانوں میں تعینات رہا ۔یہ ایک مضبوط جسم کا دلیر پولیس افسر تھا اور اس وقت کے مشہور بدمعاش ،ڈکیت ، اشتہاری اور ٹاپ ٹین اس سے خوفزدہ رہتے تھے۔مشہور زمانہ دہشت کی علامت ملنگی ، ناجی بٹ ،اغوا اور کرائے کے قاتل ٹاپ ٹین میں شامل ہمایوں گجر،میاں داﺅد ،ثنا ، حنیف عرف حنیفا ، شفیق بابا اور اجرتی قاتل بھولا سنیارہ کو بھی نوید سعید نے پولیس مقابلوں میں ہلاک کیا تھا۔ اگرچہ بعد میں نوید سعید کی بعض ٹاپ ٹین سے دوستیاں ہو گئیں اور اس نے ٹاپ ٹین میں شامل لاہور کحنیف عرف حنیفا اور اس کے بھائی شفیق بابا کے ساتھ دوبئی میں ہوٹلنگ کے کاروبار میں شراکت داری بھی کر لی ۔

لاہورمیں اپنی شروع کی ملازمت کے دوران نوید سعید کا ایک مقامی گروہ سے معمولی بات پر جھگڑا ہو گیا تو نوید سعید نے اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ انھیں خوب مارا جس کے بعد اسے پہلوان کا لقب مل گیا کبڈی کا کھلاڑی وہ پہلے سے ہی تھا ۔ پولیس میں بھرتی ہونے کے بعد ترقی اور دولت دونوں ہی نوید سعید پر عاشق ہو گئے ۔نوید سعید پولیس مقابلوں کے بانی ڈی آئی جی رانا مقبول احمد کے قرابت دار ہونے کی وجہ سے ان کے بہت قریب رہا اور ان کے ہی دور میں اپنے پہلے شکار ٹاپ ٹین ملنگی کو مارا۔ملنگی نامی مجرم سے نہ صرف عوام بلکہ پولیس والے خود بھی خوفزدہ رہتے اوراسے گرفتار کرنے سے ہچکچاتے جب کسی بھی پولیس افسر نے اسے گرفتار کرنے کی حامی نہ بھری تو نوید سعید نے اسے گرفتار کرنے کا بیڑا اٹھایا چنانچہ جب ملنگی کو نوید سعید نے پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا تو اسے پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ہیرو کی حیثیت مل گئی جبکہ علاقے کے لوگوں نے بھی نوید سعید کی جرات کو سراہا۔ اس واقع کے بعد نوید سعید نے لاہور میں باقاعدہ تھانیداری کرنی شروع کر دی اور سرکاری ملازمت کے ساتھ پراپرٹی کا کاروبار بھی شروع کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کروڑپتی بن گیا اس کی پولیس میں شہرت امیر ترین پولیس آفیسر کے طور پر تھی۔

اسی دوران ایک لڑائی کے بعد مخالف فریق نے ایس ایس پی لاہور کو نوید سعید کے خلاف درخواست دی اور انکوائری کے بعد نوید سعید ملازمت سے برخاست ہو گیا یہ نوید سعید کی ملازمت سے پہلی برخواستگی تھی ۔1986 میں چند ہی ماہ بعد وہ ملازمت پر دوبارہ بحال ہو گیا اور بطور سب انسپکٹر ایس ایچ او تھانہ کاہنہ تعینات ہوا۔ پھر لاہور کے تمام بڑے تھانوں فیکٹری ایریا ، ہنجروال ، نولکھا ، شالیمار ، باٹا پور ، ٹبی ،راوی روڈ ، شفیق آباد ، اقبال ٹاﺅن ، شاہدرہ سمیت متعد د تھانوں میں بطور ایس ایچ او لگا ررہا وہ جہاں چاہتا اور جس تھانے میں چاہتا اپنی تعیناتی کروا لیتا تھا بلکہ اپنے دیگر قریبی دوستوں اور ساتھیوں کو بھی ان کے من پسند تھانوں میں تعیناتی کروادیتا تھااپنے دیگر ہم عصر پولیس ملازمین کی نسبت نوید سعید جلد ترقی پاتا رہا۔ دوران سروس وہ بڑے بڑے افسران کو بہت عزیز رہا خصوصاً سابق آئی جی سندھ رانا مقبول ،سابق ڈی آئی جی لاہور میجر محمد اکرم ، سابق آئی جی پنجاب پولیس حاجی حبیب الرحمن ،سابق ایس پی سٹی لاہور عمر سلیم چیمہ سمیت کئی افسروں کے ساتھ نوید سعید کے ذاتی تعلقات تھے ۔نوید سعید نے لاہور میں اپنے ماموں کی بیٹی کے ساتھ شادی کی جو برطانوی شہریت کی حامل تھی۔

اس کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں ۔چھوٹا بیٹا قاسم پیدائشی بیمار ہے اس کے جسم پر نکلنے والے دانے نوید سعید کےلئے خاصی پریشانی کا باعث بنے رہے وہ اکثر اس کو جلد کے ممتازماہرین کے پاس لےجایا کرتا تھا اور بیرون ملک علاج بھی کرواتا رہا ۔ لاہور سمیت پنجاب کی بعض معروف اور بااثر سیاسی شخصیات کے ساتھ نوید سعید کا گہرا تعلق رہا ۔جبکہ صوبائی دارلحکومت لاہور میںجرائم کی دنیا کے ٹاپ ٹین میاں داﺅد ناصر ، ثنا گجر ، ناجی بٹ ، شفیق عرف بابا ، حنیف عرف حنیفا ، بھولا سنیارا ، ہمایوں گجر ، مقصود کالی ، شہباز عرف شہبازا، وحید عرف وحیدیاں وغیرہ نوید کے ساتھ کسی نہ کسی طرح رابطے میں رہے۔یہ تقریباً تمام لوگ اب مارے جا چکے ہیں اور ان میں سے بیشتر نوید سعید کے ہاتھوں ہی اپنے انجام کو پہنچے ان جرائم پیشہ افراد میں سے سب سے دلچسپ کہانی دونوں اشتہاری مجرم بھائیوں حنیف عرف حنیفا اور شفیق عرف بابا کی ہے جو اندرون شہر لاہور کے رہنے والے تھے ۔انھیں جرائم کی دنیا کا بے تاج بادشاہ کہا جاتا تھا ۔بڑے بڑے مجرم ان کے نام سے گھبراتے تھے ۔جب شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے تو اندرون شہر لاہور کے بعض شہریوں نے ان سے شکایت کی کہ یہ دونوں ٹاپ ٹین بھائی یہاں کے لوگوں کو حراساں کرتے ہیں۔

اور انسپکٹر نوید سعید ان کی پشت پناہی کرتا ہے تو انھوں نے نوید سعید کو بلا کر اسے سختی سے کہا کہ مجھے یہ دونوں بھائی حنیف عرف حنیفا اور شفیق بابا زندہ یا مردہ درکار ہیں جس پر نوید سعید نے ذاتی طور پر دونوں بھائیوں سے دوبئی میں رابطہ کیا اورپاکستان بلایا اور کراچی کے ایک ہوٹل میں ٹھہرنے کو کہا۔حنیف عرف حنیفا اپنے دیگر ساتھیوں داﺅد ،کالی اور ثناءکے ہمراہ جب ہوٹل میں موجود تھا توانسپکٹر نوید سعید نے ان سب کو گرفتار کر لیا اور لاہور لے آیا اور انھیں پولیس لائن قلعہ گوجر سنگھ میں ایس پی مجاہد سلیم چیمہ کے پاس لے گیا جبکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نوید سعید انھیں تھانہ شاہدرہ کے ایس ایچ او رانا فاروق کے پاس لے گیا ۔بہر حال اگلے روز ٹاپ ٹین اور ان کے ساتھی پولیس مقابلوں میں ہلاک ہو گئے اگرچہ اس وقت نوید سعید پولیس پارٹی میں شامل نہیں تھا۔ شفیق بابا نے نوید سعید کو دھمکی دی کہ اس نے بھائی بن کر مارا ہے اور اعتماد میں لے کر ایسا کچھ کیا ہے مگر نوید سعید نے قسم اٹھا کر اسے یقین دلانے کی کوشش کی کہ حنیف عرف حنیفا کی پولیس مقابلے میں ہونے والی موت میں اسکا کوئی ہاتھ نہیں مگر شفیق بابا نے اس کی بات پر یقین نہ کیا اور نوید سعید کو مارنے کی قسم کھائی چنانچہ شفیق بابا نے نوید سعید کو مروانے کی کئی بار کوشش کی مگر وہ کامیاب نہ ہوسکا ۔

اور دوران ملازمت سرکاری امور کی انجام دہی بھی اس نے اس انداز سے کی کہ وہ ذاتی مخالف میں تبدیل ہو گئی بہرحال اس کی جرات اور بہادری کی وجہ سے وہ جلد ہی سیاسی ایوانوں میں بھی پہچانا جانے لگا تو اس وقت کی حکومت نے اس سے اپنے کام لینے شروع کر دیے اور سیاسی حریفوں کو پولیس کے ذریعے حراساں کرنے کیلئے اکثر نوید سعید کی خدمات حاصل کی جاتی اس طرح کبڈی کا کھلاڑی حکومتی اور سیاسی شطرنج کی کھیل کا مہرہ بن گیا ۔انسپکٹر نوید سعید اس وقت اخبارات کی زینت زیادہ بنا کہ جب پنجاب اسمبلی سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم پی اے سلیمان تاثیر کو گرفتار کرنے کی کوشش کی اور مزاحمت پر انھیں تھپڑ رسید کیا۔اگرچہ اس واقعہ کا اخبارات میں بہت چرچا رہا چنانچہ حکومت نے وقتی طور پر اسے معطل کر دیا مگر بعد ازاں پھر بحال ہو گیا ۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں جب سابق وزیر اعظم بے نظیر بٹھو کے شوہر آصف علی زرداری جسٹس نظام قتل کیس میں کراچی پولیس کی تحویل میں تھے تو لاہور سے انسپکٹر نوید سعید تفتیش کرنے کراچی گیا تھا جہاں پر متعدد رپورٹوں کے مطابق آصف علی زرداری کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور نوید سعید نے سابق آئی جی سندھ پولیس رانا مقبول احمد کی موجودگی میں گلاس توڑ کر مارا ۔

جس سے آصف علی زرداری کی گردن زخمی ہو گئی اور زبان کٹ گئی اور متعدد جگہوں پر ضربات آئیں اور انھیں بے ہوشی کے عالم میں آغا خان ہسپتال لے جایا گیا ۔ جس پر ان کی ہمشیرہ نے سندھ ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی جبکہ اس بارے میں سندھ پولیس کا کہنا تھا کہ آصف علی زردار ی نے خودکشی کرنے کی کوشش کی ۔انسپکٹر نوید سعید کی بے باکی کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ ڈی آئی جی شاہد حسن نے اس کے خلاف ایک درخواست پر انکوائری ایس پی میجر مبشر حسن کو مارک کر دی جس پر نوید سعید نے بہت احتجاج کیا اور انکوائری واپس لینے کو کہا مگر ڈی آئی جی نے میجر مبشر سے انکوائری واپس نہ لی تو نوید سعید ایک تقریب میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ میاں منظوراحمد وٹو کے سامنے پیش ہو گیا اوراپنے خلاف ہونے والی انکوائری پر شور ڈالا اور اپنی بیلٹ اتار کر وزیر اعلیٰ کے سامنے پھینک دی اور دونوں پولیس افسران کے خلاف نازیبا گفتگو کی جس پر اسے فوری طور پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا مگر یہ اپنے اثر ورسوخ کی وجہ سے جلد ہی پھر ملازمت پر بحال ہو گیا۔ جبکہ ٹھوکر نیاز بیگ میں ایک مذہبی تنظیم کے خلاف آپریشن میں بھی نوید سعید نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ نوید سعید لاہور پولیس کے افسران کا ایک چہیتا پولیس ملازم تھا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *