آپ کی ناف کی شکل کس طرح کی ہے اور کیوں ہوتی ہے؟ جانیں ناف کے بارے میں حیرت انگیز باتیں جو آپ کو بھی حیران کر دیں گی

آپ کی ناف کی شکل کس طرح کی ہے اور کیوں ہوتی ہے؟ جانیں ناف کے بارے میں حیرت انگیز باتیں جو آپ کو بھی حیران کر دیں گی

آپ کی ناف کی شکل کس طرح کی ہے اور کیوں ہوتی ہے؟ جانیں ناف کے بارے میں حیرت انگیز باتیں جو آپ کو بھی حیران کر دیں گی

ناف انسانی جسم کا ایک اہم حصہ ہیں۔ دراصل یہی وہ حصہ ہے جہاں سے انسان کی زندگی کی شروعات ہوتی ہے اس لئے مختلف کلچرز اور مذاہب میں اس حصے کو الگ الگ طرح سے اہم سمجھا جاتا ہے۔اس آرٹیکل میں آپ کو ناف کے بارے کچھ ایسی باتیں بتائی جارہی ہیں جو آپ کے لئے یقیناً نئی ہوں گی۔

جی ہاں کبھی آپ کی زندگی کی شروعات اس حصے سے ہوئی تھی اسی جگہ سے آپ اپنی والدہ کے جسم سے جڑے تھے اور خوراک حاصل کرتے تھے لیکن پیدائش کے بعد نال کاٹتے ہی کچھ دن بعد وہ جھڑ جاتی ہے اور تمام عمر کے لئے نشان باقی رہ جاتا ہے۔

کتے، چمپینزی اور بلیوں میں ناف ہوتی ہے لیکن آسانی سے دکھائی نہیں دیتی۔ اکثر دودھ پلانے والے جانور میں مائیں اس نال کو چبا لیتی ہیں اور کنگارو یا کووالا میں بچے کو پیٹ کے اوپر اٹھانے کے سبب نال بہت پہلے ہی جھڑ جاتی ہے اس لئے ناف کا نشان بننے کی نوبت نہیں آتی۔

ہندوؤں کے مطابق کنول کا پھول بھگوان وشنو کی ناف سے نکلا جبکہ کنول کے پھول کا درمیانی حصہ براہمہ بھگوان ہیں جنھوں نے کائنات بنائی اسی لئے بھارت میں ناف میں زیورات پہننے کا رواج بھی ہے۔

جاپان میں ناف کو زندگی کا آغاز سمجھا جاتا ہے اور اس کے لئے باقاعدہ تہوار بھی منایا جاتا ہے۔ اس تہوار کو آرگنائز کرنے والے کازاؤ یماڈا کہتے ہیں کہ “ہمارا ٹاؤن شیبوکاوا جاپان کی ناف ہے اس لئے ہم یہ تہوار مناتے ہیں“۔

ماہرین کے مطابق انسانی ناف کے اندر ہزاروں اور لاکھوں بیکٹیریا رہتے ہیں۔ لیکن گھبرائیے نہیں یہ بیکٹیریا انسانی مدافعتی نظام کو صحیح طرح کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ناف جو ابھری ہوئی اور پھیلی ہوئی ہو اسے “آؤٹی“ کہا جاتا ہے جو دنیا میں صرف دس فیصد لوگوں کے پاس ہوتی ہے دوسری قسم کی ناف گہری کھوکھلی قسم کی ہوتی ۔ ایک اور قسم “اسپلٹ“ کہلاتی ہے جس میں اوپر کا اور نیچے کا حصہ الگ محسوس ہوتا ہے۔ ناف کی شکل پر ڈاکٹر کا کوئی اختیار نہیں ہوتا اور یہ نال الگ کرنے کے بعد قدرتی طور پر ہی کوئی شکل اختیار کرتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *