باپ کا دردناک خط پڑھ کر لوگوں کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے

باپ کا دردناک خط پڑھ کر لوگوں کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے

پاکستان میں مہنگائی کا دور تو کافی پہلے سے چلتا آ رہا ہے، لیکن اس حکومت میں جہاں سب اپنا اپنا دیکھ رہے ہیں وہیں عوام اب اپنا گھر خود تباہ کر رہی اس خبر میں آپ کو ایک ایسے ہی والد سے متعلق بتائیں گے، جس نے اپنے چھوٹے سے آشیانے کو آگ لگا دی۔

فیصل آباد کا رہائشی رانا عتیق الرحمان نے اس وقت سب کی توجہ حاصل کی جب اس کا ایک خط سوشل میڈیا پر وائرل ہوا،مگر افسوس عتیق نے توجہ بھی ایسے وقت میں حاصل کی جب اس نے بچیوں کو موت سے گلے لگا کر خود بھی اپنی جان لے لی۔یہ سماج کس حد تک ظالم ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب وہ شخص زندہ تھا تو کوئی بھی اس کی مدد کرنے کو تیار نہیں تھا، کوئی

بھی اسے نوکری دینے کو تیار نہ تھے اور نہ ہی مالک مکان اس پر ترس کھانے کو تیار تھا، اور اب جب اس نے اپنی بیٹیوں سمیت خود کی زندگی کا خاتمہ کر لیا تو سب کی آنکھوں میں مگرمچھ کے آنسو ہیں۔گویا اب جیسے ان کی انسانیت جاگ گئی ہو مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا چگ گئی کھیت، بہر حال واقعہ کچھ یوں ہے کہ رانا عتیق الرحمان دو بیٹیوں 15 سالہ علیشباہ اور 10 سالہ زینبت کے والد تھے،

جبکہ عتیق کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا تھا۔ شہری عتیق نے آخری میسج اپنے دوست شاہد کو کیا تھا۔اس میسج کے علاوہ عتیق نے ایک خط بھی لکھا تھا جس میں اپنی اور بیٹیوں کی جان لینے کا اعتراف کیا، ساتھ ہی لڑکھڑاتی آواز میں عتیق نے دوست سے جنازے کے حوالے سے بھی درخواست کی۔خط میں عتیق نے لکھا کہ میرا نام رانا عتیق الرحمان ہے، میں نے اپنی بیٹیوں کی زندگی ختم کر دی ہے، میرے

مالک مکان محمد عثمان کا کرایہ 146000 ہے، میرے مالک مکان نےمجھے بہت تنگ کیا ہے۔ میں یہاں 15 سال سے رہ رہا ہوں۔ میری اہلیہ کی وفات کے بعد میں کوئی کام نہیں کر رہا تھا، اسی لیے بہت پریشان ہوں۔ ہمارے پاس رہنے کو کئی جگہ نہیں۔عتیق کی اس حد تک مجبور ہو گیا تھا کہ آگے لکھا کہ ہمارے جنازے ایدھی ویلفئیر کو دے دینا، پوسٹمارٹم نہ کیا جائے۔ اجتماعی قبریں بنائی

جائیں اور گھر کا سارا سامان ایدھی ویلفئیر کو دے دیا جائے۔یہ خطر پڑھ کر انسان پر ایک ایسا لرزہ طاری ہو جاتا ہے کہ وہ سوچنے لگتا ہے کہ اس وقت اس سفید پوش شخص کی حالت کیا ہوگی۔اینکر فرح اقرار نے ایک ویڈیو اپلوڈ کی جس میں وہ اسی بے حس معاشرے کا چہرہ بے نقاب کر رہی تھیں ساتھ ہی عتیق کی دوست کو بھیجی گئی وائس ریکارڈنگ بھی سنائی،

جس میں عتیق کی لڑکھڑائی آواز سے انداز لگایا جا سکتا ہے کہ عتیق شدید تکلیف میں تھا، اسے آگے اندھیرا دکھائی دے رہا تھا، دوست کو میسج میں بھی یہی سب بولا جو اس نے خط میں لکھا۔ لیکن شاید جب وہ وائس کر رہا تھا تو بیٹیوں کو ختم کر چکا تھا، یہی وجہ تھی کہ وہ سانسیں بھی کمبی لے رہا تھا۔بے حس معاشرے کا ایک ایسا چہرہ جہاں مالک مکان کی بے حسی، رشتہ داروں کی بے رخی، پڑوسیوں کی بے رخی نے اس سماج کے خوفاک چہرے کو واضح کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *