پاکستان تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات بد سے بدتر ہو چکے ہیں،سینئر صحافی انصار عباسی کا تہلکہ خیز دعویٰ

پاکستان تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات بد سے بدتر ہو چکے ہیں،سینئر صحافی انصار عباسی کا تہلکہ خیز دعویٰ

سینئر صحافی انصار عباسی کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات خصوصاً حالیہ دنوں میں بد سے بدتر ہو چکے ہیں اور

پارٹی کی قیادت کو بھی اس کا علم ہے۔ پی ٹی آئی کے کچھ سینئر رہنماؤں، جو اب بھی کسی حد تک اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے میں ہیں،

کو کچھ ایسی فون کالز موصول ہوئی ہیں جن میں ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے جس کی وجہ پارٹی کی جانب سے کوئٹہ میں فوج کے ہیلی کاپٹر حادثے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی انتہائی توہین آمیز مہم ہے۔

پی ٹی آئی کے ایک ذریعے کے مطابق، پی ٹی آئی کے کچھ حامیوں کی ٹوئیٹس انتہائی نفرت آمیز تھیں اور پی ٹی آئی کے رہنما کو یہ ٹوئٹس دکھائی گئیں اور پھر انہوں نے یہ معاملہ پارٹی کی سینئر قیادت کو بتایا۔ اس کے بعد ان ٹوئٹس کے حوالے سے پارٹی کے آفیشل ٹوئٹر سے یہ ٹوئٹ کی گئی کہ ’’ان اکاؤنٹس کا پی ٹی آئی کی آفیشل ٹیم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں،

نفرت پھیلانے والوں کو بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا، ایسے لوگوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو قومی سانحات کو تقسیم کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے اکاؤنٹس کو پی ٹی آئی آفیشل کی جانب سے بلاک کر دیا جائے گا۔‘‘ لیکن اس کے باوجود ایسے لوگ جو بظاہر پی ٹی آئی کے فالوئرز نظر آتے ہیں،

فوج کیخلاف ٹوئٹس کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔دوسری طرف سوشل میڈیا پر فوجی جوانوں کے خلاف منفی مہم چلانے والے پی ٹی آئی اسٹوڈنٹ ونگ کے رہنما محمد منیب کیانی سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف مہم چلانے پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے معذرت بھی کی ہے۔ اپنے اعترافی بیان میں ملزم نے کہا کہ میرا نام محمد منیب کیانی ہے اور میرے والد کا نام فرحت نعیم کیانی ہے، میں دو سال کے لیے پی ٹی آئی

(آئی ایس ایف) انصاف یونین فیڈریشن کا سینئر ڈپٹی کنوینر رہا ہوں اور کل میں نے دو ٹوئٹس کیں جس میں ایک ٹوئٹ میں نے خود جنریٹ کی اور دوسری میں نے کاپی پیسٹ کی تھا، بالکل اسی طرح میں نے پورا کاپی کرکے اس کو پیسٹ کر دیا تھا۔ منیب کیانی نے کہا کہ اپنے کیے پر شرمندہ اور معذرت خواہ ہوں، مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی اور یہ غلطی کچھ لوگوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے ہوئی اور کچھ لوگوں سے متاثر ہوکر ہوئی جن میں جہاں سے میں نے انفارمیشن لی وہ ایک سولجر اسپیک کا پیچ تھا، ایک ازمہ خان پی ٹی آئی سے تھا اور ایک سبینہ کیانی پیچ تھا اور ایک عمران ریاض خان پیچ تھا جس سے میں نے یہ ساری معلومات لے کر میں نے جو ٹوئٹ جنریٹ کی اس میں سے کچھ بھی سچ نہیں تھا اور میں نے اس کی تصدیق بھی بالکل نہیں کی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *