اینکر پرسن عمران ریاض خان کا تہلکہ خیز انکشاف

لاہور (نیوز ڈیسک ) سانحہ رنگ روڈ، ملزم عابد کو تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ تاہم اب یہ خبریں اور دعوے سامنے آرہے ہیں کہ ممکن ہے کہ اُسے پار لگا دیا گیا ہو۔، اسی حوالے سے سینئر صحافی عمران ریاض خان کا کہنا ہے کہ مجھے 3 زبردست رپورٹروں نے بتایا ہے کہ سانحہ رنگ

رنگ روڈ کا ملزم عابد علی پولیس کی مدد سے ڈکیتیاں کرتا تھا۔عابد علی پولیس کے کہنے پر ہی ڈکیتیاں کرتا تھا۔پولیس والوں کے عابد کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔اگر عابد علی کو گرفتار کر کے میڈیا کے سامنے لایا جاتا ہے تو وہ بہت اہم انکشافات کرے گا کہ کس کس پولیس والے نے اس سے کون سے کام کروائے۔ایک رپورٹر نے تو مجھے یہ تک کہہ دیا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ عابد علی کو پار کر کے دبا دیا گیا ہو اور اب اس کی نعش بھی نہیں ملے گی۔یہ معلومات غیر تصدیق شدہ ہیں،لیکن یہ باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جو کرائم کو سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب سینئر صحافی طاہر ملک کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ سے لڑنے کا فیصلہ کر لیا۔تفصیلات کے مطابق معروف صحافی طاہر ملک نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی گذشتہ روز کی گئی تقریر پر تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی تقریر کے تین ایجنڈے تھے،انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو بلکل واضح کر دیا ہے کہ میرے کنٹرول سے باہر کوئی نہیں جا سکتا،پارٹی کا ہیڈ ماسٹر میں ہوں۔نواز شریف کو نئی ٹیکنالوجی زوم استعمال کرنے کی ٹریننگ بھی دی گئی ہے۔دوسرا نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو پیغام دیا ہے کہ اب ہمیں لڑنا ہے۔نواز شریف نے یہ الفاظ استعمال کیے کہ ہم انگریزوں کی غلامی سے تو آزاد ہو گئے لیکن اپنی غلامی میں آ گئے ہیں۔نواز شریف نے تیسری بات سب سے خطرناک کی،

انہوں نے کہا کہ میں اب مولانا فضل الرحمان سے براہ راست بات کروں گا،نہ پارٹی رہنما کسی سے مل سکتے ہیں نہ کسی سے بات کریں گے۔واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد نے اپنی جماعت کی سی ای سی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج تو ہم انگریزوں کی غلامی سے نکل کر اپنوں کی غلامی میں آگئے، خود سے پوچھ کر دیکھ لیں ہم کوئی آزاد شہری نہیں ہیں ، جس پارلیمنٹ کے ہم رکن بنے ہوئے ہیں، وہ کتنی خود مختار ہے؟ مجھے آپ لوگوں سے پتہ چلتا رہا کہ پارلیمنٹ کو کوئی اور چلا رہا ہے، وہاں دوسرے لوگ آکر ہدایات دیتے ہیں کہ آج کا ایجنڈا کیا ہوگا ، اس بل پر ووٹنگ ہوگی ، فلاں بل کو منظور کریں، فلاں بل کو دیکھیں ، میں سمجھتا ہوں یہ سب بہت سوچنے والی باتیں ہیں کہ ہماری تو اسمبلی بھی اب کمپرومائز ہے۔سابق وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ جب ان کے مقدمات کی احتساب عدالت میں سماعت چل رہی تھی تو دیکھا کہ عدالت سے ایک کرنل صاحب نکل رہے تھے ، اس پر ایک صحافی نے ان سے پوچھ لیا کہ آپ یہاں کیا کرنے آئے ہیں؟ آپ یہاں کن سے ملے ہیں؟ ہمیں بھی اجازت دے دیں کہ جج سے ملاقات کرسکیں ، لیکن وہ کتاب سے اپنا منہ چھپا رہے تھے ، کیا ضرورت تھی منہ چھپانے کی اگر دل میں چور نہیں تھا ، دل چور تھا تو منہ چھپایا کیونکہ بات کرنے کی تو آپ میں ہمت نہیں تھی ۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *