میں پاکستان میں ہیلی کاپٹر بنا سکتا ہوں : ایک بار نامور پاکستانی صنعتکار نے پاک فوج کے سامنے یہ پیشکش رکھی تھی ، اس پر پھر عمل کیوں نہیں ہو سکا؟ آپ بھی جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) بریگیڈیئر (ر) حامد سعید انیس سو نوے اور اکانوے کے دوران کراچی میں ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ تھے۔ آپ درست سمجھے یہ وہی حامد سعید ہیں جن کا نام اصغر خان کیس میں بڑا گونجا تھاکہ انہوں نے انیس سو نوے کے عام انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد کے امیدواروں میں پیسے بانٹے۔

نامور کالم نگار حبیب اکرم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ملٹری انٹیلیجنس کے صوبائی سربراہ کے طور پر انہوں نے سیاست میں کیا کردار ادا کیا، یہ سب کچھ اب تاریخ کا حصہ ہے۔ اپنی سیاسی فتوحات سے ہٹ کر انہوں نے بر سبیل تذکرہ ایک بار بتایا کہ جنرل مرزا اسلم بیگ نے بطور چیف آف آرمی سٹاف انہیں حکم دیا تھا کہ سیٹھ احمد داؤد کو جا کر ملیں اور” میرے دیے ہوئے مشورے پر عملدرآمد کا حال معلوم کریں‘‘۔ بریگیڈیئر صاحب اپنے چیف کے کسی کاروباری شخص کو مشورے کا سن کر چونکے تو ہوں گے، لیکن ان کے کچھ سوچنے سے پہلے ہی جنرل اسلم بیگ نے بتایا کہ کچھ دن پہلے وہ سیٹھ احمد داؤد سے ملے تھے اور انہیں پاکستان میں ہیلی کاپٹر بنانے کا مشورہ دیا تھا۔ اب وہ جاننا چاہتے تھے کہ سیٹھ صاحب نے اس حوالے سے کچھ کیا ہے یا نہیں۔ سیٹھ احمد داؤد کے بارے میں آپ کو بتا دوں کہ مرحوم کراچی میں سیٹھ داؤد کے نام سے پہچانے جاتے تھے اور آج ان کے بیٹھے حسین داؤد اسی نام سے پکارے جاتے ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد سیٹھ احمد داؤد مرحوم کے ہی بھتیجے ہیں۔ داؤد خاندان پاکستان کی کاروباری دنیا میں جانا پہچانا ہے اور اس خاندان کی ایک وجہ شہرت یہ ہے کہ انہوں نے انجینئرنگ کی صنعت سے پیسہ بنایا اور اس پیسے سے ملک میں کئی تعلیمی ادارے کھڑے کیے۔ کراچی میں داؤد انجینئرنگ کالج اور لاہور میں لمز اس کی مثالیں ہیں۔

خیر، بریگیڈیئر صاحب حسبِ حکم سیٹھ داؤد کے پاس چلے گئے اور ان سے اپنے چیف کے دیے ہوئے مشورے کی بابت دریافت کیا۔ انہیں شاید یہ منصوبہ قابل عمل نہیں لگا یا کسی اور وجہ سے ایسا ممکن نہیں تھاکہ پاکستان میں ہیلی کاپٹر بنتے، لیکن اس واقعے سے یہ سمجھ ضرور آجاتی ہے کہ پاکستان کی فوج اعلیٰ ترین سطح پر اپنی ضروریات مقامی وسائل سے پورا کرنے کی اہمیت سے پوری طرح آشنا ہے اور اس کے معاشی ثمرات سے آگہی بھی رکھتی ہے۔ دفاعی سازوسامان کے لیے دنیا کھلی منڈی کی طرح کام نہیں کرتی۔ کون کیا خرید سکتا ہے، اس فیصلے کا انحصار صرف ڈالروں پر نہیں بلکہ ان ملکوں کی سیاسی پالیسی پر ہے جہاں اسلحہ بنانے کے کارخانے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ آپ دفاع کے لیے کچھ سامان خریدیں تو ہزار شرطوں کے تابع دیا جائے کہ یہ فلاں فلاں کے خلاف تو نہیں چلے گا اور فلاں فلاں کے خلاف لازمی طور پر استعمال ہوگا۔ گویا جب دنیا سے آپ دفاع کے لیے کچھ خریداری کرتے ہیں تو قیمت میں صرف ڈالر ہی نہیں بلکہ بہت کچھ دیتے ہیں۔ یہ نکتہ پاکستان میں سمجھنے والے تو بہت ہوں گے لیکن صنعت اور دفاع کے درمیان اس تعلق کو پالیسی کے طور پرپہلی بار جنرل ایوب خان نے اپنے دورِ اقتدار میں برتا۔ انہوں نے پاکستان کو ایک ایسا صنعتی ملک بنانے کی کوشش کی جو مقامی طور پر اپنی ضروریات پوری کرسکے۔ اسی زمانے سے پاکستانی فوج صنعت دوست ادارے کے طور پر ابھری اور پھر

ہم نے ایٹم بم سے لے کر جے ایف تھنڈر تک بے پناہ کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ یہ کامیابیاں پاکستان جیسے ملک کی حد تک معجزے کہلائی جا سکتی ہیں لیکن ابھی ان کے ثمرات عام آدمی تک اسی وقت پہنچ سکتے ہیں جب نجی شعبے کی صنعتیں ترقی کریں۔ جنرل ایوب نے صنعتی ڈھانچہ نجی شعبے کی مدد سے ہی بنایا تھا جسے ذوالفقار علی بھٹو نے تباہ کرڈالا۔ ان کے بعد آنے والے سیاستدانوں نے بھی اس غلطی کو درست نہیں کیا‘ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج پاکستان صنعتی اعتبار سے ایک محتاج ملک ہے؛ البتہ ہماری فوج نے مقامی صنعت کی سرپرستی بطور پالیسی جاری رکھی۔ جنرل مشرف کے دور میں فوج کے بطور ادارہ صنعتوں کی ترقی میں دلچسپی لینے کے ایک واقعے کا میں عینی شاہد بھی ہوں۔ بیس سال پہلے جب میں کراچی میں تھا تو کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے اس وقت کے سربراہ بریگیڈیئر بہرام خان کے ہمراہ شہر کو پانی سپلائی کرنے کے لیے نئے لگائے گئے پمپس کے دورے کا موقع ملا۔ ان دیوہیکل پمپس کو ایک نظر میں دیکھ کر لگتا تھا کہ شاید امریکا یا جرمنی سے منگوائے گئے ہوں گے لیکن پتا چلا کہ یہ پمپ خصوصی طور پر گوجرانوالہ سے بنوائے گئے تھے اور ان کی قیمت درآمد ہونے والی مشینوں کے مقابلے میں ایک تہائی سے بھی کم تھی۔ یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ بریگیڈیئر بہرام نے جس طرح کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو سنبھال کر اپنے پاؤں پر کھڑا کیا،

پینے کو پانی بھی ملنے لگا اور بارشوں کا پانی شہر سے باہر بھی نکلنے لگا۔ سیاسی دور آیا تو پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے اس کی بربادی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اس بورڈ کی حالت آج یہ ہے کہ شہرمیں پانی پینے کو نہیں اور بارش میں ڈوب رہا ہے۔ میں جس زمانے کی بات کررہا ہوں، یہ وہی دور تھا جب پاکستان سٹیل ملز کرنل افضل مرحوم کی قیادت میں دوڑ رہی تھی۔ خود کرنل افضل بھی ملز کی ترقی کیلئے اتنا تیز بھاگ رہے تھے کہ انہیں موت بھی صبح ساڑھے سات بجے ملز کا کام کرتے ہوئے آئی۔ بریگیڈیئر بہرام نے کراچی کو پانی سپلائی کرنے کے منصوبے میں کرنل افضل سے بھی مدد لی تھی جس کی وجہ سے ایک مہنگا منصوبہ خالصتاً مقامی وسائل سے مکمل کیا جا رہا تھا‘ حالانکہ واٹر بورڈ کی سول بیوروکریسی یہ ساری مشینری باہر سے منگوانا چاہتی تھی۔فوج کے علاوہ ہماری عدلیہ پاکستانی صنعت کا ہمدرد ادارہ بن کر ابھری ہے۔ کورونا کے معاملے پر لیے گئے ازخود نوٹس کی سماعت پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب گلزار احمد نے بار بار سوال اٹھایا کہ وبا سے بچاؤ کا سامان ملک کے اندر کیوں نہیں بنایا گیا۔ اس سوال نے کورونا سے نمٹنے والے محکمو ں کو مجبور کردیا کہ وہ مقامی خریداری کی طرف توجہ دیں۔ نتیجہ یہ کہ صرف تین مہینے کے اندر پاکستان میں ماسکس سے لے کر وینٹیلیٹر تک کی صنعت وجود میں آگئی۔ چند دن پہلے تک جہاز بھر بھر کے جو سامان درآمد ہورہا ہے وہ آج پاکستان میں بنا کر برآمد کیا جارہا ہے۔

اس حوصلہ افزا ماحول کا اثر یہ ہواکہ گاڑیوں کے پرزے بنانے والے بھی اس میدان میں آئے اور انہوں نے اتنا سستا وینٹیلیٹر بھی تیار کرلیا ہے جو صرف ایک بار استعمال کرکے ضائع کیا جاسکتا ہے۔ فوج اور عدلیہ کے برعکس موجودہ حکومت صنعت کو سمجھتی ہے نہ آزاد کاروبار کو۔ اس کی نیت کتنی ہی صاف ہو، اہلیت اس میں نہیں؛ البتہ اصلاحات قبول کرنے کی صلاحیت ان میں ضرور موجود ہے یعنی درست رہنمائی مل جائے تو شاید تحریک انصاف کی حکومت کچھ کر پائے اور میرے خیال میں یہ کام پاکستان کی فوج ہی کر سکتی ہے کیونکہ عدلیہ رسمی طور پر حکومت کی مشاورت نہیں کر سکتی۔ ہو سکتا ہے یہ خیال کتابی جمہوریت کے دیوانوں کو بہت برا لگے اور وہ اسے مداخلت سے تعبیر کریں لیکن اس رہنمائی سے ہمارا دستور بالکل بھی نہیں روکتا۔ یہ سمجھنا چاہیے کہ ادارہ جاتی رہنمائی حکومت کی تقویت کا باعث ہوتی ہے، اگر یہ نہ ہو تو پھر مداخلت کا راستہ کھل جاتا ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ ٹیکنالوجی اور صنعت کی ترقی دفاع کی مرہون منت ہے۔ اگر امریکی فوج جہاز ایجاد کرنے والے رائٹ برادران کی مدد نہ کرتی تو شاید امریکا میں خلابازی بھی ممکن نہ ہوتی۔ انٹرنیٹ، کمپیوٹر، وائرلیس وغیرہ جیسی ایجادات کی سرپرستی فوجوں نے شروع کی اور آج یہ ٹیکنالوجی دنیا کے تقریباً ہر شخص کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے کوئی مضائقہ نہیں کہ فوج اپنی ادارہ جاتی مضبوطی اور توانائی کو حکومت کی مدد کیلئے بروئے کار لے آئے۔ یوں بھی پاکستان کی معیشت اب قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکی ہے اس لیے جمہوری تقاضا بھی یہی ہے کہ ملک کا ہر ادارہ معیشت کی بحالی کیلئے کام کرے ورنہ ملک بھی خطرے میں پڑ جائے گا اور ادارے بھی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.