کورونا کے علاج کیلئے ’ ٹوسیلوزیماب انجکشن‘ تو کچھ بھی نہیں، مریضوں کو افاقہ کس سے ہونے لگا؟ ڈاکٹر طاہر شمسی نے اچھی خبردیدی

کراچی (نیوز ڈیسک )ہیماٹالوجسٹ ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہا ہے کہ کورونا کے علاج کیلئے ٹوسیلوزیماب انجکشن کی نسبت پلازمہ تھراپی بہترہے ، ٹوسیلوزیماب انجکشن مہنگا اور اسکے سائیڈایفیکٹ بھی ہیں جبکہ پلازمہ کا صرف 1فیصدسائیڈایفیکٹ ہے۔خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹرطاہرشمسی نے کہاکہ کوروناکے علاج کیلئے ٹوسیلوزیماب انجکشن کی نسبت پلازمہ تھراپی بہترہے، ٹوسیلوزیماب

انجکشن،تجرباتی دوائیں قوت مدافعت پراثراندازہوتی ہیں، ٹوسیلوزیماب انجکشن مہنگااور اسکے سائیڈایفیکٹ بھی ہیں۔انہوں نے کہاکہ پلازمہ تھراپی سے80فیصدسنجیدہ مریض صحت یاب ہورہے ہیں، اس کاصرف 1فیصدسائیڈایفیکٹ ہے جس سیالرجی ہوتی ہے، پلازمہ تھراپی قدرت کابنایانظام ہے جس میں اینٹی باڈیزموجودہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کوروناوائرس کے20لاکھ تک کیس جاسکتے ہیں، کوروناوائرس کب تک رہے گاکچھ کہانہیں جاسکتا، ویکسین پر انحصارنہیں کیا جاسکتا کوئی پتہ نہیں کب مارکیٹ میں آئے۔ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہاکہ ملک بھرمیں ایک لاکھ سے زائد افراد کورونا کاشکار ہیں35 ہزارصحت یاب ہوچکے ہیں، کورونا کو شکست دینے والے شخص سے 9سو سے ایک ہزار ایم ایل پلازمہ نکالا جاتا ہے، فی الحال ابھی تک کسی بچے کو پلازمہ لگانے کی ضرورت نہیں پڑی۔دوسری جانب امریکہ میں کوویڈ نائنٹین کی پہلی ممکنہ ویکسین کا آئندہ ماہ وسیع پیمانے پر تجربہ کیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ کیا وہ واقعی کرونا وائرس کے لیے موثر ہے یا نہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات ایک دواساز ادارے نے ایک بیان میں کہی۔اس ویکسین کو امریکی ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ اینڈ موڈرینا نے تیار کیا اور جولائی میں اسے 30 ہزار رضاکاروں پر آزمایا جائے گا۔ ان میں سے کچھ کو اصلی ویکسین اور کچھ کو جعلی دوا دی جائے گی۔کسی بھی ویکسین کو عوم کے لیے فراہم کیے جانے سے پہلےکئی مرحلوں میں آزمائش سے گزارا جاتا ہے تاکہ اس کے کوئی مضر اثرات ہوں تو ان کا پتا لگایا جا سکے۔ کلینیکل تجربات میں کچھ مریضوں کو موثر ویکسین اور بعض کو بے ضرر دوا دینا معمول کا حصہ ہے۔موڈرینا کا کہنا تھا کہ اس نے فیصلہ کن آخری مرحلے

کی جانچ کے لیے کافی تعداد میں خوراکیں بنا لی ہیں۔ آخری مرحلے سے پہلے دیکھا جاتا ہے کہ محدود سطح کے ابتدائی تجربات کے کیا نتائج برآمد ہوئے۔ لیکن موڈرینا کے اعلان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان تجربات میں حوصلہ افزا پیشرفت ہوئی ہے۔موڈرینا نے اپنی ویکسین کو وسط مارچ میں جانچنا شروع کر دیا تھا اور اس کا آغاز 45 رضاکاروں سے کیا تھا۔ دوسرے مرحلے میں 300 نوجوان رضاکاروں کو شامل کیا گیا اور یہ تحقیق بھی شروع کی کہ زیادہ عمر کے افراد پر ویکسین کا کیسا اثر ہوتا ہے۔ان ابتدائی تجربات کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ ویکسین کی مختلف خوراکیں لوگوں کے مدافعتی نظام کو کیسے متحرک کرتی ہیں اور اس کے کوئی مضر اثرات ہوں تو سامنے آ جائیں۔ وسیع پیمانے پر تجربے سے معلوم ہو سکے گا کہ یہ ویکسین واقعی موثر ہے یا نہیں۔دنیا بھر میں کوویڈ 19 کی تقریبا ایک درجن ویکسینز جانچ کے ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ این آئی ایچ کو توقع ہے کہ موسم گرما میں مزید کئی ممکنہ ویکسینز کے بڑے پیمانے پر تجربات ہوں گے۔ ان میں سے ایک آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے بنائی ہے۔ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ان میں سے کوئی موثر ثابت ہو گی یا نہیں۔این آئی ایچ کے ویکسین ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جان میسکولا نے بدھ کو نیشنل اکیڈمی آف میڈیسن کے ایک اجلاس میں کہا کہ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو سال کے آخر تک پتا چل جائے گا کہ کون سی ویکسینز کام کرتی ہیں۔کئی ملکوں کی حکومتوں نے مختلف ممکنہ ویکسینز کی دسیوں لاکھ خوراکیں جمع کرنا شروع کر دی ہیں تاکہ جیسے ہی سائنس دانوں کو معلوم ہو کہ کون سی ویکسین موثر ہے، وہ اپنے عوام کو اس کی فراہمی کا آغاز کر دیں۔ امریکہ میں آپریشن وارپ اسپیڈ کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد جنوری تک ویکسین کی 30 کروڑ خوراکوں کا انتظام کرنا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.