ماں کا ادب اور مسجد

پیرس کی ایک جگہ پر ایک مسلمان گھرانہ رہتا تھا ۔ اس مسلمان گھر میں چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ وہ بچے اپنے ماں باپ کے ساتھ انتہائی محبت اور احترام سے پیش آیا کرتے تھے۔ اور وہ اپنے ماں باپ کے ہر بات کا خیال رکھتے تھے۔ ساتھ ہی میں ان کے ساتھ ایک فیرنچ گھرانہ رہتا تھا۔ اس گھر کی عورت اس مسلمان عورت کے بچوں سے انتہائی متاثر تھی۔

پیرس کی ایک مسجد میں بچہ داخل ہو،امام مسجد سے کہا میری ماں کہتی ہے کہ مجھے اپنے سکول میں داخل کروامام صاحب نے پوچھا بیٹا آپ کی ماں کدھر ہیں؟بچے نے کہا میری ماں باہر کھڑی ہے امام صاحب نے باہر آ کر دیکھا کہ ان کی والدہ فرنچ تھی پوچھنے پر پتا چلا کہ وہ مسلمان بھی نہیں تھی امام صاحب بہت حیران ہوئے اور پوچھا پھر آپ اپنے بچے کو مسلمانوں کی مسجد میں کیوں داخل کرنا چاہتی ہیں؟ تو وہ فرنچ عورت کہنے لگی کہ میرے پڑوس میں ایک مسلم گھرانہ ھے ان کے بچے جب مسجد سے پڑھ کر آتے ہیں تو اپنی ماں کی بہت زیادہ عزت کرتے ہیں اسکے ہاتھ چھومتے ہیں اور ان کے سامنے ایسے ادب سے چلتے ہیں جیسے کسی ملکہ کے سامنے فوجی ادب سے چلتے ہیں جب وہ کھڑی ہوتی ھے تو اسکے بچے ادب سے اسکے سامنے کھڑے رہتے ہیں اور جب وہ بیٹھ جاتی ھے تو اسکے بچے اسکےبیٹھ جاتے ہیں میری بھی خواہش ھے کہ میرا بیٹا بھی میری اسی طرح ادب کرے اور میں اسکے لئے ملکہ جیسی بنوں اس لئے میں چاہتی ھوں کہ آپ میرے بیٹے کو اپنی مسجد میں داخل کریں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.