ہمت بلند، حوصلے جواں۔۔!!جرمنی نے کرونا وائرس کی وجہ سے بڑھتی ہوئی اموات پر قابو کیسے پایا؟ تہلکہ خیز خبر آ گئی

برلن (ویب ڈیسک) بروقت ٹیسٹنگ، آئی سی یو کی زیادہ دستیابی اور ہنگامی اقدامات نے جرمنی کی شرح اموات کو 1 فیصد سے بڑھنے نہیں دیاگو کہ جرمنی میں 31 مارچ تک کرونا کے وائرس کا 72 ہزار2017 لوگ شکار ہو چکے ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر اموات صرف 802 ہی ہے،

جرمنی نے یہ سب کچھ مضبوط حکمت عملی سے کیا اور اموات کو کنٹرول کر لیا اموات کی شرح میں کمی کی سب سے بڑی وجہ بر وقت ٹیسٹنگ ہے۔ جرمنی کے یولم یونیورسٹی کے ڈاکٹر ڈیٹرچ روتھن بیچر کے مطابق ‘ کچھ ممالک میں صرف نمایاں علامات والے کیسز کا ہی ٹیسٹ ہوتا ہے (مثال کے طور پر اٹلی) اور دیگر نے بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ حکمت عملی کو اپنا جیسے جرمنی’۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ جرمنی 5 واں بڑا متاثرہ ملک ہے مگر وہاں ایسے کیسز کی مقدار بہت کم ہونے کا امکان ہے جو رپورٹ نہ ہوسکے۔15 مارچ تک دنیا میں آبادی کی شرح کے لحاظ سے ٹیسٹ کرانے کے معاملے میں صرف متحدہ عرب امارات، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا سے پیچھے تھا، مگر 20 مارچ کو جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ اب ہماری لیبارٹریز ہر ہفتے ایک لاکھ 60 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کرنے کے قابل ہوگئی ہیں، حالانکہ 15 مارچ تک مجموعی طور پر اتنے ٹیسٹ ہوئے تھے۔جنوری میں ہی جرمنی ان چند اولین ممالک میں سے ایک تھا جہاں کووڈ 19 کی تشخیص کے قابل اعتماد طریقہ کار کو تیار کرلیا گیا تھا اور چونکہ طبی سہولیات ریاستوں کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں تو نجی کمپنیوں نے بہت تیزی سے ٹیسٹوں کی بڑے پیمانے پر تیاری کی۔شرح اموات میں کمی کی دوسری بڑی وجہ جرمنی میں۔ بہترین طبی سہولتوں کا دستیاب ہونا ہے۔ جرمنی ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں آئی سی یو میں بستروں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہسپتالوں کو اب تک مریضوں کے نتیجے میں بہت زیادہ بوجھ کا سامنا اس طرح نہیں ہوا، جیسا شمالی اٹلی میں ہوا۔ ابھی بھی جرمنی میں 20 سے 30 فیصد بستر خالی ہیں اور جرمنی کے ایک طبی گروپ Deutsche Krankenhausgesellschaft کے مطابق اب بھی ملک میں سنگین حد تک بیمار افراد کے لیے کافی گنجائش موجود ہے۔اسکی تیسری وجہ کم عمر افراد میں تشخیص ہے جرمنی میں اٹلی کے مقابلے میں کرونا کی شرح کم عمر افراد میں زیادہ ہے۔یاد یھ کہ جرمنی میں شرح اموات سرد 1 فیصد ہے جبکہ اس کے مقابلے میں اٹلی میں یہ شرح 11 فیصد سے زیادہ ہے جبکہ امریکا میں بھی یہ شرح 1.8 فیصد ہے، کیونکہ وہاں کیسز پونے 2 لاکھ سے زیادہ ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.