’’ جج صاحب! آج میں اگر باہر ہوتا تو۔۔۔۔‘‘ باہر بڑی بڑی بڑھکیں مارنے والے خورشید شاہ آج عدالت آتے ہی زارو قطار رو پڑے، معزز جج نے مسکراتے ہوئے کیا جواب دیا؟

کراچی (نیوز ڈیسک ) آمد سے زائد اثاثے بنانے کا کیس، پیپلز پارٹی کے رہنماء خورشید شاہ عدالت میں پیش، خورشید شاہ دوران سماعت رو پڑے، روتے ہوئے کہنے لگے مجھ پر بے بنیاد الزامات کیوں بنائے گئے، آج میری آنکھوں میں آنسو کیوں ہیں؟ جس پر جج مسکرا پڑے اور کہنے لگے شاہ صاحب آ پ کی


غلطی یہ ہے کہ آپ نے اپنے دور میں نیب کے قانون کو ختم ہی نہیں کیا۔ تفصیلات کے مطابق جسمانی ریمانڈ کی مدت ختم ہونے پر آج خورشید شاہ کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا، دوران پیشی خورشید شاہ رو پڑے اور کہا کہ آج میری آنکھوں میں آنسو کیوں ہیں؟ جس پر معزز جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شاہ صاحب آپ سے غلطی ہوئی ہے کہ آپ نے اپنے دور میں نیب کے قانون کو ختم نہیں کیا، جس پر خورشید شاہ کہنا تھا کہ جج صاحب میں اگر باہر ہوتا تو نیب کو ثبوت پیش کرتا ، لوگوں نے ہمیں ڈر کر نہیں بلکہ پیار سے ووٹ دیئے ہیں، جس پر جج نے ریمارکس دیئے کہ خورشید شاہ صاحب میرے پاس آپ کو ضمانت دینے کا اختیار نہیں ہے، جس پر خوارشید شاہ نے کہا کہ مجھے پھر 3 مہینوں کے لیے نیب کے حوالے کر دیں، عزت دار سیاستدان ہوں مجھ سے یہ تکلیف برداشت نہیں ہو رہی ، ضمانت و رہائی کے لیے ہر فورم پرجاؤنگا، میں اس سال 27 لاکھ کے قریب ٹیکس ادا کر چکا ہوں جبکہ میرے بچوں نے الگ ٹیکس دیئے ہیں۔ دوران سماعت نیب حکام کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ خورشید شاہ کے ریمانڈ میں 15 اکتوببر تک توسیع کی گئی جس ہر عدالت نے 6 روزہ ریمانڈ پر خورشید شاہ کو نیب کے حوالے کر دیا ۔
دوسری جانب چوہدری شوگ مل کیس میں نیب کی تحقیقات ٹیم نے نواز شریف سے جو سوالات کیے ہیں ، نواز شریف انکا تسلی بخص جواب ہی نہیں دے پائے ۔ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے سابق وزیر اعظم سے 13 سوال کیے گئے، کاروبار کے حوالے سے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کاروبار کرنا غیر قانونی نہیں ہے، کاروبارہ معاملات حسین نواز دیکھتے تھے ان سے ہی پوچھیں، نیب ٹیم کی جانب سے جب نواز شریف سے سوال کیا گیا کہ ” آپ نے مریم نواز اور یوسف عباس کی کاروباری شراکت داری سے 410 ملین ڈالر کی منی لانڈرنگ کی؟” تو نواز شریف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ” بہتر ہوگا آپ ان لوگوں سے پوچھیں جن کے نام درج ہیں”۔ نیب ٹیم نے سوال کیا کہ آپ کی جانب سے 11 ملین ڈالر کے جعلی شیئرز غیر ملکی شخص نصیر عبداللہ کو منتقل کیے، جس پر پھر سے نواز شریف نے جواب دیا کہ غیر ملکی معاملات حسین نواز ہی دیکھتے ہیں۔ نیب ٹیم کے ا س سوال ” ایک کروڑ 55 لاکھ 20 ہزار ڈالر کا قرض شوگر ملز میں ظاہر کیا؟” کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ ” یہ میرے علم میں نہیں اور نہ ہی میرے پاس اس کا کوئی ریکارڈ موجود ہے”۔
خیال رہے کہ نواز شریف اس وقت چوہدری شوگر مل کیس میں بھی نیب کے زیر حراست آچکے ہیں، نیب ٹیم نے جیل میں ہی نواز شریف کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا اور ریمانڈ لے کر ان سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، تحقیقات کے بعد ننیب ٹیم دوبارہ نواز شریف کو احتساب عدالت میں پیش کرے گی.

Sharing is caring!

Comments are closed.