آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا ۔۔۔ کورونا سے بچنے کے لئے گھروں میں رہنے والے چینیوں کو اب کس بیماری سے خطرہ ہے؟ ماہرین نے چین کو بڑے خطرے سے آگاہ کر دیا

بیجنگ(ویب ڈیسک)چین میں ہونے والے ایک حالیہ سروے کے مطابق 70 فیصد سے زائد رائے دہندگان نے کہا ہے کہ وائرس کے خلاف گزارے گئے دنوں کے دوران ان کے وزن میں اضافہ ہواہے اور زیادہ تر لوگوں نے اس کی وجہ گھروں میں رہنے کے دوران کم ورزش کرنے اور غیر صحت مند زندگی گزارنے کا نتیجہ قرار دیاہے۔تفصیلات کے مطابق اس ہفتے کے اوائل میں چائنہ یوتھ ڈیلی میں

شائع ہونے والے سروے کے مطابق 3 ہزار 5 افراد میں سے مجموعی طور پر 73.7 فیصد افراد کا کہنا ہے حالیہ عرصے کے دوران ان کا وزن بڑھا ہے۔رائے دینے والوں میں کل 88.1 فیصد کا کہنا ہے کہ شائید اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کافی ورزش نہیں کی ہے اور 59.6 فیصد کا کہنا ہے کہ روزمرہ کا معمول برقرار نہ رکھنا بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے،ایسے بھی لوگ تھے جن کا کہنا تھا کہ گھروں میں رہنے کے دوران انہوں نے زیادہ سے زیادہ کھایا ہے تاہم زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی زندگی صحت مند بنانے کے لئے کوشش کررہے ہیں تاکہ فٹ رہ سکیں کیونکہ 66.5فیصد رائے دینے والوں کا کہنا تھا کہ وہ زیادہ عرصے تک ایک جگہ بیٹھے رہنے کے بجائے چہل قدمی اور متحرک رہنے کو توجہ دے رہے ہیں۔62 فیصد سے زائد لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ گھروں میں ورزش کرتے رہتے ہیں اور 59 فیصد سے زیادہ لوگوں نے ایک متوازن خوراک کی نشاندہی کی ہے مجموعی طورپر 55.2 فیصد رائے دہندگان کا کہنا ہے کہ رات کی بھر پور نیند بھی بہت ضروری ہے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابقدنیا بھر میں لوگ نئے نوول کورونا وائرس کی وبا کے باعث لاک ڈاون یا نقل و حرکت پر پابندیوں کے خوف سے گھروں پر خوراک، ٹوائلٹ پیپرز اور عام استعمال کی اشیا کا ڈھیر جمع کررہے ہیں، مگر روس میں لوگوں نے نقد رقم کو ذخیرہ کرنا شروع کردیا ہے۔بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے اوائل سے اب تک روس میں لوگوں نے اے ٹی ایم اور بینکوں کی شاخوں سے 22 کھرب روپے نکلوا لیے ہیں۔صرف 7 ہفتے کے اندر اتنی رقم بینکوں سے نکلوائی گئی جو کہ 2019 میں اس طرح کی مجموعی ٹرانزیکشنز سے بھی زیادہ ہے۔بینکوں سے پیسے نکالنے کی شرح میں اس وقت تیزی سے اضافہ ہوا جب روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی جانب سے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے اقدامات کی تفصیلات جاری کی گئی تھیں۔ ان اقدامات کے تحت ایسے بینک اکاﺅنٹس پر ٹیکس کے نفاذ کا اعلان ہوا جس میں 10 لاکھ روسی روبل سے زیادہ رقم ہوگی جبکہ آئسولیشن اقدامات کو مئی تک توسیع دے دی گئی۔ماہرین کے مطابق اس کے بعد روسی عوام نے اسی خوف کے تحت پیسوں کو ذخیرہ کرنا شروع کردیا، جس کے باعث دیگر ممالک میں لوگ خوراک اور عام استعمال کی اشیا کو ذخیرہ کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا ‘لوگوں کو خوف ہے کہ قرنطینہ کے دوران بینک سروسز دستیاب نہیں ہوں گی، اسی ڈر کی وجہ سے وہ تیزی سے پیسے نکلوا رہے ہیں۔نقد رقم کا یہ ذخیرہ اس وقت کیا جارہا ہے جب روسی حکام کی جانب سے لوگوں اور کاروباری اداروں پر کرنسی نوٹوں کی بجائے ڈیجیٹل ادائیگیوں پر زور دیا جارہا ہے تاکہ وائرس کے پھیلاﺅ کو سست کیا جاسکے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.