پاکستان میں شعبان المعظم کا چاند نظر آگیا، کل یکم شعبان ہوگی

کراچی (قدرت روزنامہ) شعبان کا چاند دیکھنے کےلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کل ہوگا، رمضان المبارک کے بعد سب سے زیادہ روزے اسی ماہ میں رکھے جاتے ہیں. تفصیلات کے مطابق وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے چاند دیکھنے کے لیے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس چیئرمین مفتی منیب الرحمان کی سربراہی میں کراچی میں منعقد ہوا. مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس محکمہ موسمیات کے دفتر کراچی میں ہوا جبکہ زونل رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس مقررہ مقامات پر ہوئے. چیرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمن نے شہادتیں موصول ہونے کے بعد شعبان کا چاند نظر آنے کا باقاعدہ اعلان کیا.

یوں کل بروز اتوار یکم شعبان ہو گی. خیال رہے اسلامی، ہجری یا قمری کلینڈرز میں شعبان آٹھواں مہینہ ہے، جسے شعبان المعظم بھی کہا جاتا ہے‘ رمضان المبارک کے بعد سب سے زیادہ روزے اسی ماہ میں رکھے جاتے ہیں. بعض احادیث کے مطابق حضور نبی کریمﷺ پورے شعبان روزے رکھا کرتے تھے اور انہیں رمضان المبارک کے روزوں سے ملادیا کرتے تھے،اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ شعبان المعظم نفلی روزوں اور عبادات کے لیے انتہائی فضیلت والاہے. اس ماہ کی فضیلت کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس مہینہ میں ماہ رمضان کے روزوں، تراویح اور دیگر عبادات کی تیاری کا موقع ملتا ہے. رمضان المبارک کے استقبال اور عبادت کی تیاری ہی کی وجہ سے آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مہینے میں خصوصیت سے خیر و برکت کی دعا فرمائی ہے. حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے ” اے اللہ! ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اورہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچا“ . حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ کون سا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شعبان کا رمضان کی تعظیم کے لیے. اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ نفلی روزے رکھتے ہوں. اس کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایایعنی جب آدھا شعبان باقی رہ جائے تو روزے مت رکھو. علماءکرام نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اس حدیث شریف میں ممانعت ان لوگوں کے لیے ہے جن کو روزہ کمزور کرتا ہے ایسے لوگوں کو یہ حکم اس لیے دیا گیا کہ نصف شعبان کے بعد روزے مت رکھو بلکہ کھاﺅپیو اور طاقت حاصل کرو تاکہ رمضان المبارک کے روزے قوت کے ساتھ رکھے جاسکیں اور تراویح و دیگر عبادات نشاط کے ساتھ انجام دی جاسکے. جبکہ امت میں ایسے لوگ جو کہ طاقت رکھتے ہیں اور شعبان المعظم کے نفلی روزے ان کو کمزور نہیں کرتے وہ نصف شعبان کے بعد بھی نفلی روزے رکھ سکتے ہیں.اس ماہ کی پندرہویں رات کو شب برات آتی ہے جو بہت بابرکت رات ہے، جس میں فرزندان توحید رات بھر جاگ کر اپنے اللہ کو راضی کرنے کیلئے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں. اس رات جس میں نئے سال کے لیے رزق، موت، پیدائش اور دیگر اہم معاملات سے متعلق حکم خداوندی سے فیصلے لکھے اور تبدیل کیے جاتے ہیں.

Sharing is caring!

Comments are closed.