وزیر اعظم عمران خان کابڑا اعلان ، پاکستانی جو چاہتے تھے وہ ہوگیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ گجر پورا کے قریب پیش آنے والے دلخراش واقعے نےپوری قوم کو ہلا دیا ہے،بچوں کے سامنے جو ہوا اس سے صدمہ پہنچا،جو بھی اس طرح کے کاموں میں ملوث پائے جاتے ہیں انہیں عبرتناک سزائیں دینی چاہیئے۔ تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی و اینکر

پرسن معید پیر زادہ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ نوازشریف خود واپس نہیں آئیں گے،نوازشریف کو واپس لانے کیلئے پوری کوشش کریں گے ۔وزیراعظم نے کہاکہ بدقسمتی سے ہمارے اندر بھی کچھ لوگ ہیں جو وزیراعلیٰ بننا چاہتے ہیں ،چیلنج کرتا ہوں ہمارے وزیروں اورعثمان بزدار نے کرپشن نہیں کی ،عثمان بزدار شہبازشریف کی طرح میڈیا پر پیسہ نہیں لگاتا۔عمران خان نے کہاکہ اپوزیشن نے ملک کو کنگال کیا اورپھر کہاحکومت فیل ہو گئی ،انہوں نے کہاکہ موجودہ آئی جی پرفارم کریں گے تو رہیں گے ،سی سی پی او پر بڑا شور ہوا،عمر شیخ کو لانے کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی پولیس قبضہ گروپ سے ملی ہوئی ہے ۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جو بھی اس طرح کےت قبیح جرم میں ملوث ہو اسے سرعام موت کی گھاٹ اتار دینا چاہیئے، عبرتناک سزاؤں سے ہی اس طرح کے کاموں کو روکا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب سانحہ گجر پورا، کیس میں مزید اہم پیش رفت، ایک اور شفقت نامی شخص کا ڈی این اے متاثرہ خاتون سے میچ کر گیا، شفقت نامی شخص کو گزشتہ روز ہی پولیس نے اپنی حراست میں لیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق سی آئی اے میں خود گرفتاری دینے والے وقار الحسن کی جانب سے شفقت نامی شخص کی نشاندہی کی گئی تھی جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے شفقت کو اپنی حراست میں لے لیا تھا، شفقت عابد علی کا قریبی دوست ہے، یہ گرفتاری دیپالپور سے عمل میں لائی گئی، شفقت کے ڈی این اے کا نمونہ لیا گیا جس کے بعد اب یہ خبر سامنے آئی ہے کہ

شفقت نامی شخص کا ڈی این اے بھی میچ کر گیا ہے، اسی کیس میں ایک اور شخص کا بھیی تذکرہ مل رہا ہے جس کا نام عباس ہے اور وہ وقار الحسن کا رشتہ دار بتایا جا رہا ہے تاہم وقار الحسن کے بعد اب عباس نامی شخص نے بھی خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے، اس حوالے سے عباس کا کہنا ہے کہ کام کے سلسلے میں ملزم عابد سے مسلسل رابطہ رہتا تھا، بارہ روز قبل بھی عابد سے بات ہوئی تھی میری تین بیٹیاں ہیں میں اس غلط کام کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا، اگر میں ملزم ہوتا تو خود کو کبھی بھی پولیس کے حوالے نہ کرتا۔ دوسری جانب وقار الحسن کے بھائی کا نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ خبریں سراسر غلط ہیں کہ وقار الحسن کی کچھ روز قببل ضمانت ہوئی تھی، جس روز یئہ حادثہ ہوا وہ اس روز مجلس میں تھا، میں نے اس کی ویڈیوز بھی پولیس کے ساتھ شیئر کر دی ہیں، وقار ریکارڈ یافتہ نہیں ہے، اس نے رینٹ اے موٹر سائیکل کا اکروبار شروع کیا تھا ایک شخص آیا وہ اس سے بائیک لے کر گیا اور واپسی پر کہا کہ بائیک چوری ہوگئی ہے تم، یہ دو بکریاں لے جاؤ، وقار بکریاں لے کر گھر آیا ہی تو پولیس میں ایف آئی درج کرا دی گئی جبکہ بعد میں پنچائیت نے فیصلہ دیا کہ وقار کے خلاف ایف آئی آر اسی شخس نے درج کرائی ہے جس نے اسے بکریاں خود دی، اس کے علاوہ وقار کوئی ریکارڈ یافتہ نہیں ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *