ایک ایسی برائی جس کےبارے میں آگاہی نہ دی گئی تو یہ مرض

کیا فرماتے ہیں علماء دین اس بارے میں کہ!شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لے سکتے ہیں یا نہیں؟مرد کو اپنا آلۂ مردمی اپنی بیوی کے منہ میں ڈالنا اور ہمبستری سے قبل شوہر اور بیوی کا ایک دوسرے کے اعضاءِ تناسلیہ کو چاٹنا اور چوسنا جائز ہے یا نہیں؟ .انسان کا چہرہ ودہن محترم ومکرم اعضاء ہیں، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کریم کے حبیب رحیم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:إذا قاتل أحدکم أخاہ فلیتجنب الوجہ فإن اللہ خلق آدم علی صورتہ۔ (صحیح مسلم حدیث رقم ۲۱۶۲، مسند احمد حدیث رقم ۴۱۴۷)”خلق آدم علی صورتہ“ میں چہرہ کی جو تشریف ہے، اہلِِ دانش پر مخفی نہیں۔

اور ظاہر ہے کہ دہن بھی چہرہ ہی کا بعض ہے لہذا مکرم ومعظم ٹھہرا۔پس مناسب نہیں کہ دہن کو اور بالخصوص دہنِ مسلم، جو تسبیح وتھلیل ودرود وسلام میں مصروف رہنا چاہیئے، ایسے ذی شرف عضو کو ایسے اعضاء کے ساتھ مس کیا جائے جو ناپاکیوں اور نجاستوں کی گزرگاہیں ہیں۔اللہ کریم جل وعلا کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنے دائیں دستِ اقدس تک کو ان اعضاء سے دور رکھا کرتے تھے۔سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں:ان النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کان یجعل یمینہ لطعامہ وشرابہ وثیابہ ویجعل شمالہ لما سوی ذلک۔ (سنن ابی داود حدیث رقم ۲۳)سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں:کانت ید رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم الیمنی لطہورہ وکانت یدہ الیسری لخلاۂ وماکان من اذی۔(سنن ابی داود حدیث رقم ۳۳، ۴۳)بلکہ اگر کوئی شخص اپنے آلہئ مردمی کو چھو لے توحدیث میں اس کے لیے ہاتھ دھونے کا حکم استحبابی وارد ہوا ہے۔بسرۃ بنت صفوان فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے سنا:من مس ذکرہ فلیتوضأ۔(سنن ابی داود حدیث رقم ۱ ۸۱، جامع الترمذی حدیث رقم ۲۸ قال الترمذی:حسن صحیح، سنن النسائی حدیث رقم ۷۴۴)جمع بین الاحادیث کے لیے وضوء کے معنی ہاتھ دھونے کے کیے گئے جیسا کہ اپنے محل میں مفصل مذکور ہے۔اور علامہ علاء الدین حصکفی رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا:لا ینقضہ مس ذکر لکن یغسل یدہ ندبا۔ (در مختار ج۱ص۵۰۴جب بلا حاجت ہاتھ سے چھونا مناسب نہیں تو چہرہ ودہن تو زیادہ لائق ہیں کہ انہیں مجاری نجاسات سے دور رکھا جائے۔

ہاں اگر یہ بوسہ ایسی حالت میں ہوکہ مذی کا نہ نکلنا یقینی ہے۔یعنی ایسی حالت میں کہ نہ تو شوہر وبیوی ک ا اکٹھا ہونا جماع کے ارادے سے ہو اور نہ ہی ایک دوسرے کے ساتھ مصروفِ ملاعبت ہوں بلکہ عمومی حالات میں ہوں یا کم از کم جس کی شرمگاہ کا بوسہ لیا جا رہا ہے وہ عام حالت میں ہو، پھر عام ہے کہ بوسہ بلا حائل ہو یا بیچ میں کوئی کپڑا وغیرہ حائل و بشرطیکہ مخرجِِ بول ومجری حیض سے ہٹ کر ہو تو یہ بوسہ محض خلافِ ادب اور مکارمِ اخلاق کے منافی ہے، اسے مکروہ وحرام کہنے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔بلکہ حنابلہ نے اس کے جواز کی تصریح کی ہے۔ابو الحسن علی بن سلیمان المرداوی الحنبلی ”الانصاف فی معرفۃ الراجح من الخلاف“ میں لکھتے ہیں: ۔ قال القاضی فی الجامع یجوز تقبیل فرج المرأۃ قبل الجماع ویکرہ بعدہ وذکرہ عن عطاء۔پھر فرمایا:ولہا لمسہ وتقبیلہ بشہوۃ وجزم بہ فی الرعایۃ وتبعہ فی الفروع وصرح بہ ابن عقیل.(الانصاف فی معررفۃ الراجح من الخلاف ج۸ص۷۲)اور ظاہر یہ ہے کہ اگر حالت وہ ہو جو ہم نے اوپر ذکر کی تو ہمارے نزدیک بھی حکم ایسا ہی ہے۔اور اگر بوسہ مخرجِِ بول ومجری حیض سے ہٹ کر ہولیکن جس کی شرمگاہ کا بوسہ لیا جارہاہے وہ شہوت کی حالت میں ہے، تو چونکہ ایسی حالت میں مذی کا خروج غالب ہ ے جو بعض اوقات غیر محسوس بھی ہوتا ہے۔لہذا اب

اس فعل سے اجتناب پہلی صورت کی نسبت زیادہ مؤکد ہے، کیونکہ اب دہن کے نجاست سے آلودہ ہونے کا اندیشہ ہے جو کسی صورت مناسب نہیں۔ حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے پیشاب کرتے ہوئے دائیں ہاتھ سے آلہئ مردمی کو چھونے سے منع فرمایا ہے۔حضرت ابو قتادۃ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ اللہ جل وعلا کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:اذا بال احدکم فلایأخذن ذکرہ بیمینہ ولایستنجی بیمینہ۔(صحیح البخاری حدیث رقم ۴۵۱، ۰۳۶۵، صحیح مسلم حدیث رقم ۶۳۶)اور بعض روایات میں دائیں ہاتھ سے مس ذکر کی نھی حالتِ بول کی قید سے مطلق ہے، جیسا کہ حضرت ابو قتادۃ ہی سے مروی ہے، فرمایا:أن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نھی ان یتنفس فی الاناء وأن یمس ذکرہ بیمینہ وأن یستطیب بیمینہ۔(صحیح مسلم حدیث رقم ۸۳۶، جامع الترمذی حدیث رقم ۵۱، سنن النسائی حدیث رقم ۸۴) اور بعض روایات میں ہے:واذا اتی الخلاء فلا یمس ذکرہ بیمینہ ولایتمسح بیمینہ۔(صحیح البخاری حدیث رقم ۳۵۱، صحیح مسلم حدیث رقم ۷۳۶)ان کلماتِ مبارکہ میں دائیں ہاتھ سے آلہئ مردمی کو چھونے سے منع کیا جا رہا ہے۔ نھی کا سبب بیان کرتے ہوئے علامہ عینی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرما ہیں:قولہ فلا یمس ذکرہ بیمینہ النہی فیہ تنزیہ لہا عن مبشارۃ العضو الذی یکون فیہ الأذی والحدث وکان النبی یجعل یمناہ لطعامہ وشرابہ ولباسہ مصونۃ عن مباشرۃ الثفل ومماسۃ الأعضاء التی ہی مجاری الأثفال والنجاسات ویسراہ لخدمۃ أسافل بدنہ وإماطۃ ما ہناک من القاذورات وتنظیف ما یحدث فیہا من الأدناس۔(عمدۃ القاری ج۴ص۷۶۱)بعد ازاں علماء کے مابین اختلاف ہے کہ یہ نہی حالتِ بول کے ساتھ مقید ہے یا مطلق، علامہ عینی تحریر فرما ہیں:۔ فإن قلت الحدیث یقتضی النہی عن مس الذکر بالیمین حالۃ البول وکیف الحکم فی غیر ہذہ الحالۃ قلت روی أبو داود بسند صحیح من حدیث عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت کانت ید رسول اللہ الیمنی لطہورہ وطعامہ وکانت یدہ الیسری لخلاۂ وما کان من أذی وأخرجہ بقیۃ الجماعۃ أیضا وروی أیضا من حدیث حفصۃ زوج النبی علیہ الصلاۃ والسلام قالت کان یجعل یمینہ لطعامہ وشرابہ ولباسہ ویجعل شمالہ لما سوی ذلک وظاہر ہذا یدل علی عموم الحکم علی أنہ قد روی النہی عن مسہ بالیمین مطلقا غیر مقید بحالۃ البول فمن الناس من أخذ بہذا المطلق ومنہم من حملہ علی الخاص بعد أن ینظر فی الروایتین ہل ہما حدیثان أو حدیث واحد فإن کانا حدیثا واحدا مخرجہ واحد واختلفت فیہ الرواۃ فینبغی حمل المطلق علی المقید لأنہا تکون زیادۃ من عدل فی حدیث واحد فتقبل وإن کانا حدیثین فالأمر فی حکم الإطلاق والتقیید علی ما ذکر۔ (عمدۃ القاری ج۴ص۷۶۱)البنایۃ میں فرمایا:قولہ:لا یمس ذکرہ، ہذا إذا کان فی الخلاء، وعلی الإطلاق ما روی عن عثمان رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أنہ قال:ما تعنیت ولا تمنیت ولا مسست ذکری بیمینی منذ بایعت رسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وہذا إکرام الیمین وإجلال النبی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وہو من باب الآداب عند الفقہاء۔(البنایۃ ج۱ص۰۶۷)حاصلِ کلام یہ ہے کہ:حالتِ غیرِ بول میں اگرچہ علماء کے مابین اختلاف ہے لیکن حالتِ بول سے متعلق علماء متفق ہیں کہ دائیں ہاتھ کے شرف کے باعث اسے آلہئ تناسل سے دور رکھنا چاہیئے ۔

اہلِ فہم پہ مخفی نہیں کہ حالتِ بول کی قید محض اس لیے ہے کہ بول نجاست ہے۔پس کلامِ بالا کے معنی یہ ہوئے کہ نجاست کے خروج کی حالت میں دائیں ہاتھ کو آلہئ تناسل سے دور رکھنا چاہیئے ۔اور جس طرح بول نجاست ہے یوں ہی ”مذی“ بھی نجاست ہے۔حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجھہ نے حضرت مقداد کے توسط سے سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے مذی سے متعلق پچھوایا تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: ۔ فیہ الوضوء۔(صحیح البخاری حدیث رقم ۲۳۱، ۸۷۱)مذی کے خروج سے وضوء کاجانا مذی کی نجاست کی دلیل بین ہے۔اور محض نجاست نہیں بلکہ بول کی طرح نجاستِ غلیظہ ہے۔البحر الرائق میں ہے:کل ما یخرج من بدن الإنسان مما یوجب خروجہ الوضوء أو الغسل فہو مغلظ کالغائط والبول والمنی والمذی والودی والقیح والصدید والقیء إذا ملأ الفم۔(البحر الرائق ج۱ص۲۴۲)پس کلامِ بالا سے ہمیں دو مقدمے حاصل ہوئے:(۱):مذی نجاست ہے۔ (۲):نجاست کے آلۂ تناسل سے خروج کے وقت دائیں ہاتھ سے اسے چھونا منع ہے۔ان دونوں کے ضم سے اس امر کا حصول بدیہی ہے کہ:مذی کے خروج کے وقت آلۂ تناسل کو چھونا منع ہے۔اور اس نتیجہ سے بطورِ دلالت ثابت کہ مذی کے خروج کے وقت مرد اور عورت کا ایک دوسرے کے اعضاءِ تناسلیہ کا بوسہ لینا منع ہے۔ کیونکہ انسان کا دہن شرف و کرامت میں دائیں ہاتھ کے شرف سے کہیں زیادہ ہے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم

مذکورہ بالا حالت میں مرد اور عورت کے ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کے بوسہ کو حرام نہیں کہتے۔کیونکہ حالتِ بول میں آلہ تناسل کو دائیں ہاتھ سے چھونا جمہور کے نزدیک مکروہ تنزیہی ہے اگرچہ اہلِ ظاہر کے ہاں مکروہ تحریمی ہے۔عمدۃ القاری پھر طحطاوی علی المراقی میں ہے:فإن قلت النہی فیہ تنزیہ أو تحریم قلت للتنزیہ عند الجمہور لأن النہی فیہ لمعنیین أحدہما لرفع قدر الیمین والآخر أنہ لو باشر النجاسۃ بہا یتذکر عند تناولہ الطعام ما باشرت یمینہ من النجاسۃ فینفر طبعہ من ذلک وحملہ اہل الظاہر علی التحریم۔(عمدۃ القاری ج۴ص۷۶۱، حاشیۃ الطحطاوی ص۳۳)لہذا مذکورہ بالا حالت میں بوسہ بھی مکروہ تحریمی نہیں بلکہ مکروہ تنزیہی ہونا چاہیئے۔لیکن چونکہ دہن کا شرف دائیں ہاتھ کے شرف سے زیادہ ہے لہذا اس بوسہ کی کراہت حالتِ بول میں دائیں ہاتھ سے آلہئ تناسل چھونے کی کراہت سے مؤکد ہونی چاہیئے۔ رہی یہ صورت کہ مرد اور عورت شہوت کی حالت میں، جبکہ مذی خارج ہو رہی ہو اور وہ دونوں ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لیں اور مخرجِِ بول ومجری حیض سے اجتناب نہ کریں تو یہ بوسہ سخت منع ومکروہ تحریمی ہے اوراس فعلِ بد سے بچنا واجب ہے اور اس کی دلیل دوسرے سوال کے جواب کے ضمن میں مذکور ہوگی۔ان شاء اللہ جل وعلا۔(۲):اللہ کریم جل مجدہ نے نکاح سے عورت کومرد کے لیے حلال فرمایا ہے اور مرد اپنی عورت کے پاس جیسے چاہے آسکتا ہے جیسا کہ اللہ کریم سبحانہ وتعالی نے فرمایا:نساؤکم حرث لکم فأتوا حرثکم أنی شئتم۔تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں تو تم تمہاری کھیتی کوجیسے چاہو آؤ۔(البقرۃ۳۲۲)لیکن یہ اطلاق کیفیتِ اتیان میں ہے یعنی مرد اپنی بیوی کے پاس جیسے چاہے آسکتا ہے، کھڑے، بیٹھے، لیٹے، آگے کھڑے ہوکر، پیچھے کھڑے ہوکر، وغیرہ وغیرہ۔رہا محلِ اتیان تو اس میں اطلاق نہیں، یعنی مرد کو یہ چھوٹ نہیں کہ عورت کے کسی بھی سوراخ میں اپنا آلہئئ مردمی داخل کرے……بلکہ سوراخوں میں سے ایک ہی سوراخ مرد کے لیے متعین ہے اور وہ ہے عورت کا اگلا مقام۔ اسی بات کو بیان فرماتے ہوئے اللہ کریم جل مجدہ کے حبیب کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا، حضرت عبد اللہ بن عباس راوی کہ حبیب رب العالمین نے فرمایا:ائتھا مقبلۃ ومدبرۃ اذا کان ذلک فی الفرج۔(المعجم الکبیر للطبرانی حدیث رقم ۰۸۲۱، المعجم الاوسط لہ حدیث رقم ۳۸۲۳، شرح مشکل الآثار للطحاوی حدیث رقم ۸۲۱۶، شرح معانی الآثار حدیث رقم ۱۰۴۴)حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:مقبلۃ ومدبرۃ ماکان ف ی الفرج۔(شرح معانی الآثار حدیث رقم ۲۹۳۴)سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا:یأتیھا کیف شاء ما لم یکن یأتیھا فی دبرھا او فی الحیض۔(جامع البیان ج۴ص۸۹۳) دوسری روایت میں ہے:یأتیھا قائمۃ وقاعدۃ ومن بین یدیھا ومن خلفھا وکیف شاء بعد ان یکون فی المأتی۔(مساویئ الاخلاق حدیث۸۴۴)حضرت عکرمہ نے فرمایا:یأتیھا کیف شاء قائم وقاعد وعلی کل حال یأتیھا ما لم یکن فی دبرھا۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج۴ص۹۲۲)اگر اس باب میں مرویات کا احاطہ کیا جائے تو لاتعداد مرفوعات، موقوفات ومقطوعات موجود ہیں جن کا ذکر اس مختصر تحریر کو نہایت درجہ طویل کر دے گا۔اس لیے مذکورہ مرویات پر ہی اکتفاء مناسب ہے۔بہرحال ان کلمات نے ہمیں بتا دیا کہ اس آیت میں عورت کے پاس جیسے چاہو آنے کی چھوٹ دی جا رہی ہے لیکن جہاں چاہو کی چھوٹ ہر گز نہیں۔بلکہ ان کلمات شریفہ سے ہٹ کر خود آیہئ مقدسہ کے کلمات مقدسہ کودیکھا جائے تو وہ بھی راہنمائی میں کافی ہیں، کیونکہ فرمایا:فأتوا حرثکم۔

Sharing is caring!

اپنا تبصرہ بھیجیں